اے ڈی خواجہ کے تبادلے کا نوٹیفیکیشن واپس کیا جائے، سول سوسائٹی

اے ڈی خواجہ کے تبادلے کا نوٹیفیکیشن واپس کیا جائے، سول سوسائٹی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سول سوسائٹی، انسانی اور مزدور حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے رہنماؤں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ کے تبادلے کا نوٹیفیکیشن واپس کیا جائے۔ یہ فیصلہ غیر قانونی و غیر آئینی ہے اور سندھ ہائی کورٹ نے ان کے تبادلے پر حکم امتناعی جاری کیا ہواہے۔اگر آج یہ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو صوبائی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔اتوار کے روز کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کے سربراہ کرامت علی، سابق چیف آ ف سٹیزن پولیس لائزان کمیٹی ناظم ایف حاجی، عورت فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر مہناز رحمٰن، ورکرز ایجوکیشن اینڈریسرچ آرگنائیزیشن کے سربراہ میر ذوالفقار علی اور مسز سعید بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طور پر پولیس سربراہ کا عہدہ تین سال کے لیے ہوتا ہے۔سندھ صوبائی حکومت کی جانب سے اے ڈی خواجہ کی بطور آئی جی کے وفاق کو واپسی کے لیے لکھے گئے خط اور اس کے بعد بغیر وفاقی حکومت کے جواب کے آئی جی کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس سلسلے میں مزید عدالتی کاروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہماری پٹیشن کا مقصدکسی فرد واحد کی بطور پولیس سربراہ کے تقرری ہرگز نہیں ہے، مگر سندھ حکومت جس طرح قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہے وہ کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں گذشتہ سال دسمبر میں سول سوسائٹی کے رہمناؤں کی جانب سے ایک آئینی پٹیشن دائر کی گئی تھی اور عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ سندھ اسمبلی کی جانب سے پولیس آڈر 2002 کو ختم کرکے اس کی جگہ پر پولیس ایکٹ 1861رائج کرنے کے اقدامات کو کالعدم قرار دے کیوں کہ 2002کا پولیس آرڈر قومی اسمبلی سے پاس شدہ ہے اور ابھی تک پرے ملک میں رائج العمل ہے، اس کو کوئی بھی صوبائی اسمبلی اس طرح ختم نہیں کرسکتی۔ انھوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے موجودہ آئی جی کے تبادلے کو رد کرکے حکم امتناعی جاری کیا گیا تھا جو کہ ابھی تک نفاذ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل فیصل صدیقی ایڈوکیٹ کے ذریعے بھیجے گئے توہین عدالت کے نوٹس میں ہم نے موجودہ آئی جی اے ڈی خواجہ کو بھی تنبیہ کی ہے کہ اگر انہوں نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا تو وہ بھی غیرقانونی ہوگا اور توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا۔ سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ 31مارچ کو وفاقی حکومت کو جاری کیا گیا خط جس میں اے ڈی خواجہ کی خدمات واپس کرنے او ر ان کے بدلے تین نام دیے گئے تھے اور پہلی اپریل کو نئے آئی جی کے تقرری کا جاری کیا گیا نوٹیفکیشن اگرواپس نہ لیے گئے تو تمام مدعان کے خلاف سول اور کرمنل چارجز اور توہین عدالت کی کاروائی کرنے کی درخواست دائر کی جائے گی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -