محبوبہ نے عاشق کو گھر بلوا کر تشدد کا نشانہ بنوا ڈالا

محبوبہ نے عاشق کو گھر بلوا کر تشدد کا نشانہ بنوا ڈالا
محبوبہ نے عاشق کو گھر بلوا کر تشدد کا نشانہ بنوا ڈالا

  

فیصل آباد (ویب ڈیسک) بٹالہ کالونی کے علاقہ شالیمار پارک نمبر 2 میں محبوبہ نے اپنے محبوب کو گھر بلوا کر تشدد کا نشانہ بنواڈالا اور ڈکیتی کے الزام میں پولیس کو پکڑوادیا گیا۔ جبکہ اہل خانہ تشددکی ویڈیو بناتے رہے اور نوجوان کو گھنٹوں محبوس بنائے رکھا۔ محبوبہ کے شوہر اور اس کے رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوان کا کہنا ہے کہ مجھے سوچی سمجھی سکیم کے تحت گھر بلا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مجھ پر ڈکیتی کا الزام عائد کردیا گیا، میری جیب سے ہزاروں روپے، شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور اے ٹی ایم کارڈ اور موبائل فون نکال لیا اور ادھموا کرکے مجھے گلی میں پھینک دیا۔ یہ بات چک نمبر 201 ر ب چندیاں تلاواں کے رہائشی رانا تیمور نے بتائی۔

’جب میں چھوٹی تھی تو قاری صاحب مجھے پڑھانے آیا کرتے تھے، ایک دن میری والدہ گھر پر نہیں تھیں تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر۔۔۔‘ پاکستانی لڑکی نے اپنی زندگی کی انتہائی افسوسناک حقیقت سے پردہ اٹھادیا، ایسی بات بتادی کہ سن کر ہی تمام مرد شرم سے پانی پانی ہو جائیں

روزنامہ خبریں کے مطابق اس نے بتایا کہ میرے گاﺅں کی ہی رہائشی لڑکی فضیلت بی بی سے دوستی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے اور مجھ سے میری محبوبہ نے شادی کرنے کا وعدہ کیا۔ ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھیں مگر فضیلت بی بی کے گھروالوں نے اس کی شادی شالیمار پارک نمبر 2 محلہ غوث نگر کے رہائشی علی اعجاز سے کردی۔ میری محبوبہ نے 17 مارچ کو فون کال کرکے ملاقات کے لئے اپنے پاس گھر بلوایا۔ اس بات کا علم ہونے پر میری محبوبہ کے شوہر علی اعجاز اس کے رشتہ داروں احمد نواز، رحمان علی، عتیق، محمود اور تنویر نے مجھے پکڑ کر ڈنڈوں اور سوٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور میرے اوپر اسلحہ تان لیا اور للکارا کہ آج اسے ادھر آنے کا مزہ چکھادو اور مجھے ایک بیٹھک میں لیجاکر پھر تشدد کیا اور دو گھنٹے قید کئے رکھا اور تشدد کی موبائل پر ویڈیو فلم بناتے رہے اور کہتے رہے کہ یہ مووی تیرے چک بھیجیں گے تاکہ ان کو پتہ چلے کہ ہم نے تمہارا کیا حشر نشر کیا ہے اور مجھ سے ہزاروں کی نقدی اور موبائل فون سمیت قیمتی دستاویزات چھین لیں اور مجھے گلی میں پھینک دیا اور پولیس کو کال کردی۔

پولیس مجھے پکڑ کر تھانہ بٹالہ کالونی لے گئی اور اصل حقائق کا علم ہونے پر پولیس نے مجھے رہا کردیا۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ میں نے کارروائی کیلئے سی پی او فیصل آباد کو درخواست دے دی ہے۔ اس امر پر متاثرہ نوجوان نے آئی جی پنجاب، آر پی او اور سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لے کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے۔

مزید :

فیصل آباد -