خیبرپختونخوا کی نسبت سندھ اور پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت زیادہ ہے:مشتاق احمد سکھیرا

خیبرپختونخوا کی نسبت سندھ اور پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت زیادہ ہے:مشتاق ...
خیبرپختونخوا کی نسبت سندھ اور پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت زیادہ ہے:مشتاق احمد سکھیرا

  

کراچی،لاہور(ویب ڈیسک)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی نسبت سندھ اور پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت زیادہ ہے، پنجاب میں رینجرز صرف انسداد دہشتگردی کیلئے بلائی گئی ہے، پنجاب میں مذہبی انتہاپسندی اور دہشتگردی کا خاتمہ کردیا گیا ہے، پنجاب میں اب لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد کا نام و نشاں تک نہیں ہے، پنجاب میں دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ حکومت کے مک مکا کا تاثر پراپیگنڈہ ہے، مولانا لدھیانوی کی جماعت کے لشکر جھنگوی سے تعلق کے ہمارے پاس ثبوت نہیں ہیں، حکومت جہادی تنظیموں کو بتدریج قومی دھارے میں لانے کی پالیسی پر گامزن ہے، تھانوں میں شہریوں سے برا سلوک بنیادی طور پر سندھ اور پنجاب کے کلچر کا مسئلہ ہے، آئی ٹی مانیٹرنگ کے ذریعے تھانوں میں پولیس بدتمیزی کے کلچر کا خاتمہ کردیا جائے گا، پنجاب میں جعلی پولیس مقابلوں کا تاثر درست نہیں ہے، پنجاب پولیس کے بارہ سو اہلکار مقابلوں میں شہید ہوئے ہیں۔

جیونیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مشتاق احمد سکھیرا نے  کہا کہ پولیس کا ڈیڑھ سو سال پرانا ڈیزائن فورس کا ہے اس میں سروس کا پہلو نہیں ، میں نے جب چارج لیا تو ادراک تھا کہ عوام میں پولیس کی شہرت بہت خراب ہے، لوگوں کو عموماً تھانوں میں رویہ ٹھیک نہ ہونے، ایف آئی آرز درج نہ ہونے ، تفتیشی معیار ناقص او ر کرپشن جیسی شکایات تھیں، پولیس اہلکار دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کیخلاف اپنی جانیں قربان کرتے ہیں لیکن ان کی قربانیوں کو پاک آرمی یا دوسری فورسز کی شہادتوں کی طرح تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ مشتاق سکھیرا نے بتایا کہ تھانہ کلچر تبدیل کرنے کیلئے آئی ٹی سولوشن کی طرف گئے، پنجاب کے تمام پولیس سٹیشن آئی ٹی پر لے آئے ہیں، تھانوں کی فرنٹ ڈیسک پڑھے لکھے لڑکے لڑکیوں کو تعینات کرنے کے ساتھ تمام سہو لیا ت مہیا کی ہیں، شہریوں کی شکایات کمپیوٹر پر اندراج کیا جاتا ہے اور یہ تمام ڈیٹا ڈی پی او، آر پی او اور آئی جی آفس میں کنٹرول روم میں بھی دستیاب ہوتا ہے۔مشتاق سکھیرا کا کہنا تھا کہ تھانوں میں شہریوں سے برا سلوک بنیادی طور پر سندھ اور پنجاب کے کلچر کا مسئلہ ہے، پنجاب میں بدتمیزی کا کلچر عام رہا ہے اس لئے پولیس میں بھی بدتمیزی کی شکایت زیادہ ہے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پولیس کے نسبتاً بہتر رویے کی وجہ وہاں کے معاشرے میں روایات کی پاسداری ہے، آئی ٹی مانیٹرنگ کے ذریعے تھانوں میں پولیس بدتمیزی کے کلچر کا خاتمہ کردیا جائے گا، پنجاب میں انویسٹی گیشن کیلئے بھی پڑھے لکھے لڑکے سب انسپکٹر رکھے ہیں۔

آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جعلی پولیس مقابلوں کا تاثر درست نہیں ہے، پنجاب پولیس کے بارہ سو اہلکار مقابلوں میں شہید ہوئے ہیں، پنجاب پولیس کو بہتر آلات، بلٹ پروف جیکٹس اور اسلحہ فراہم کیا ہے، دہشتگردی کیخلا ف کارروائیوں میں ایلیٹ فورس اور سی ٹی ڈی کے تربیت یافتہ اہلکار شریک ہوتے ہیں، خیبرپختونخوا اور بلو چستا ن کی نسبت سندھ اور پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت زیادہ ہے، پنجاب میں سیاسی مداخلت کم کرنے کیلئے متعدد اقدا ما ت کیے ہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیاستدانوں کے مفادات پولیس کے ساتھ نہیں دوسرے اداروں سے وابستہ ہیں۔ مشتاق سکھیرا نے کہا کہ سفارش کلچر کے ذمہ دار صرف سیاستدان نہیں پولیس افسر خود بھی کمائی والی جگہ تقرری کیلئے سفارش کراتے ہیں، پولیس تقرریوں میں چند سفارشیں ضرور آتی ہیں مگر نوے فیصد تقرریاں قانون کے مطابق ہوتی ہیں، پنجاب میں ایس پی تک کی پوسٹنگ مکمل میرے اختیار میں ہے،ڈی پی اوز اور آر پی اوز کیلئے میں وزیراعلیٰ کے پاس پینل بھیجتا ہوں اور اسی میں سے تقرری ہوتی ہے، خیبرپختونخوا میں پولیس کیلئے نیا قانون بنا کر آئی جی کو مکمل خودمختاری دی گئی ہے۔

پنجاب میں رینجرز کسے متعلق مشتاق سکھیرا کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کچھ ایسے قبائلی طرز کے علاقے ہیں جہاں کارروائی پولیس کی صلاحیت نہیں ہے، راجن پور اور ڈی جی خان کے علاقوں میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی موجودگی کے شواہد ہیں، ان علاقوں کیلئے رینجرز کی ضرورت محسوس ہوئی، پنجاب میں رینجرز صرف انسداد دہشتگردی کیلئے بلائی گئی ہے، پنجاب میں رینجرز تعیناتی کا معاملہ سندھ سے مختلف ہے، سندھ میں رینجرز پولیسنگ کا کام کررہی ہے جبکہ پنجاب میں صرف انسداد دہشتگردی کیلئے کام کررہی ہے اور وہ بھی سی ٹی ڈی کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مذہبی انتہاپسندی اور دہشتگردی کا خاتمہ کردیا گیا ہے، پنجاب میں دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ حکومت کے مک مکا کا تاثر پراپیگنڈہ ہے، پنجاب میں روایتی جہادی تنظیموں کے مدارس ضرور ہیں مگر فرقہ وارانہ اور دہشتگرد تنظیموں کے مراکزختم کردیئے گئے ہیں، پنجاب میں اب لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد کا نام و نشاں تک نہیں ہے، سپاہ صحابہ خود کو دہشتگردی سے الگ کرتے ہوئے سیاسی و مذہبی جماعت بتاتی ہے، پچھلے دو سال میں سپاہ صحابہ کے جلسوں میں مخالف فرقوں کو کافر نہیں کہا جاتا ہے، مولانا لدھیانوی کی جماعت کے لشکر جھنگوی سے تعلق کے ہمارے پاس ثبوت نہیں ہیں، انکی جماعت کو آئین و قانون کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہے، پنجاب میں جماعة الدعوة فعال نہیں بلکہ ان کا رفاعی ادارہ فلاح انسانیت فعال ہے، حکومت جہادی تنظیموں کو بتدریج قومی دھارے میں لانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس میں احتساب کیلئے باقاعدہ برانچ بنائی گئی ہے، سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت میں چل رہی ہے جو فیصلہ ہوگا اس پر عمل کریں گے، طاہر القادری کے خلاف مقدمات اسلام آباد میں ہیں ان کیخلاف کارروائی بھی اسلام آباد پولیس نے کرنی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے واقعہ سے متعلق مشتاق سکھیرا کا کہنا تھا کہ طالب علموں کے ساتھ زیادہ سخت رویہ نہیں رکھتے ہیں، پولیس نے پنجاب یونیورسٹی کے واقعہ کو بہت اچھی طرح ہینڈل کیا، پنجاب یونیورسٹی میں پختون اور بلوچ اجازت سے اپنا پروگرام کررہے تھے، دوسری تنظیم بغیر اجازت پروگرام کررہی تھی، دونوں تنظیموں کے قریب قریب پروگراموں کی وجہ سے تشدد کا بہت خطرہ تھا۔مشتاق سکھیرا نے کہا کہ حکومت کے پاس پولیس کی تنخواہیں بڑھانے اور سہولیات فراہم کرنے کیلئے درکار وسائل نہیں ہیں، پنجاب میں پولیس کیلئے اربوں روپے کے پراجیکٹ آرہے ہیں، آئی جی اور چیف سیکرٹری کو جتنی تنخواہ دی جارہی ہے وہ مذاق کے مترادف ہے، آئی جی پولیس کو بائیس گریڈ کی تنخواہ پونے دو لاکھ روپے ہی ملتی ہے، میری تنخواہ میں اضافے پر شور بہت ہوا لیکن اضافہ ابھی تک نہیں ہوا ہے، تنخواہ میں اضافے کو حاسدین کی نظر لگ گئی آڈیٹر جنرل نے نوٹس لے لیا ہے، آئی جی اور چیف سیکرٹری کی تنخواہ اور مراعات ہائیکورٹ کے ججز سے کم ہے، کرپشن سب محکموں میں ہے باقی محکموں کے پندرہ لاکھ تنخواہ لینے والے بھی کرپشن کرتے ہیں، دہشتگردوں کیخلاف لڑتے ہوئے شہید ہونے والے پولیس اہلکار کا پیکیج دو کروڑ سے سات کروڑ تک ہے، شہید کے خاندان کو ایک کروڑ روپے نقد، پانچ مرلے کا گھردیا جائے گا، اس کی تنخواہ بھی جاری رہے گی جبکہ بیس ہزار روپے کا الاﺅنس الگ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پولیس کی منفی پراجیکشن کرتا ہے لیکن مثبت کارکردگی کو پیش نہیں کیا جاتا ہے، حکومت کو رگڑا دینے کیلئے کوئی اور نہ ملے تو پولیس حاضر ہوتی ہے، معاشرے میں ہر طاقتور کمزور سے زیادتی کررہا ہے، پولیس بھی غریب سے زیادتی زیادہ کرتی ہے، ملک و قوم کی خدمت کیلئے کوئی اچھی آفر ہوئی تو ضرور دیکھوں گا۔

مزید :

قومی -