باغ ابن قاسم کو بحریہ ٹاﺅن کے حوالے کرنے سے متعلق نوٹی فکیشن کو وسیم اختر نے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

باغ ابن قاسم کو بحریہ ٹاﺅن کے حوالے کرنے سے متعلق نوٹی فکیشن کو وسیم اختر نے ...
باغ ابن قاسم کو بحریہ ٹاﺅن کے حوالے کرنے سے متعلق نوٹی فکیشن کو وسیم اختر نے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) میئرکراچی وسیم اختر نے باغ ابن قاسم کا انتظام بحریہ ٹاون کے حوالے کرنے سے متعلق نوٹی فکیشن کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

میئر کراچی وسیم اختر نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ باغ ابن قاسم کی نجی ادارے بحریہ ٹاون کو حوالگی سے متعلق حکومتی نوٹیفکیشن قانون کی خلاف ورزی ہے جب کہ کے ایم سی کی اجازت یا میئر کراچی کے اشتراک کے بغیر ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا، درخواست میں چیف سیکریٹری، سیکریٹری بلدیات، نجی ادارے اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے جب کہ سندھ ہائی کورٹ نے درخواست کو فوری سماعت کے لیے منظور کرلیا۔

درخواست جمع کرانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ باغ ابن قاسم کے معاہدے میں کے ایم سی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جب باغ ابن قاسم کو سندھ حکومت کے حوالے کیا گیا تو اس وقت اس کی حالت بہت اچھی تھی لیکن پھر سندھ حکومت نے 50 لاکھ روپے ماہانہ میں اس کا انتظام ٹھیکے پر دے دیا جس نے جان بوجھ کر اس کی حالت خراب کی تاکہ کوئی مسیحا آئے اور اسے گود لے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے ایما پر جاری کیا گیا نوٹی فکیشن خود ان ہی کے بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ہم کراچی کے لوگ ہیں اور یہیں پیدا ہوئے ہیں، جتنی چائنہ کٹنگ، تجاوزات اور بندر بانٹ ہوچکی وہ ہوگئی، اب یہ سب کچھ نہیں ہونے دیں گے، کراچی میں ایسی بہت سی جگہیں ہیں جہاں پارک بنائے جاسکتے ہیں ،سہراب گوٹھ میں پارک بنائے جاسکتے ہیں، وہاں موجود باڑا مارکیٹ درحقیقیت پارک کی زمین پر بنائی گئی تھی۔

مزید :

کراچی -