پاکستان،چین اور روس نے ملکر تاریخی کام کرنے کا فیصلہ کرلیا،اب کسی بھی لمحے وہ اعلان ہونے والا ہے جس کو سن کر امریکہ کے واقعی ہوش اڑ جائیں گے

پاکستان،چین اور روس نے ملکر تاریخی کام کرنے کا فیصلہ کرلیا،اب کسی بھی لمحے ...
پاکستان،چین اور روس نے ملکر تاریخی کام کرنے کا فیصلہ کرلیا،اب کسی بھی لمحے وہ اعلان ہونے والا ہے جس کو سن کر امریکہ کے واقعی ہوش اڑ جائیں گے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اورروس نےدوعشروں سےزائد اپنے تعلقات میں بہتری لانے کااعلان کردیاہے اور ممکنہ طور پر دونوں ممالک اس اتحاد کا حصہ بننے جارہے ہیں جس سے دونوں کے تعلقات میں بہتری آنے کا امکان ہے۔پاکستان روس اور چینی اتحاد کی ضرورت اس لئے پیش آرہی ہے  کیونکہ امریکہ افغانستان میں امن و استحکام قائم کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہا ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر ممکنہ طور پر پاکستان،روس اور چین ایک ایسا اتحاد بنانے جارہے ہیں جس سے مستقبل میں اس خطے میں بے مثال ترقی اور خوشحالی کو حقیقی شکل دی جاسکے اور افغانستان جیسے غیر مستحکم خطے کو مستحکم بنایا جاسکے۔خبر رساں ادارے’ایکسپریس ٹریبیون‘ کی رپورٹ کے مطابق عسکری اور دفتر خارجہ کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ تینوں ممالک کے تعلقات میں اس لئے بہتری آرہی ہے تاکہ افغانستان میں سیاسی طور پر خطے کے استحکام کیلئے حل تلاش کیا جائے اور خطے کو مستحکم بنایا جائے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان،روس اور چین خطے کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے کسی نتیجے پر پہنچ چکا ہے جبکہ امریکہ افغان تنازعے کو مزید طول دینا چاہتا ہے۔حکام نے ایک نکتہ اٹھایا کہ اس صورتحال میں پاکستان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ خطے کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے روس،چین اور ایران کو اپنے ساتھ ملا لیا جائے۔

افغانستان کے مسئلے پر روس پاکستان اور چین کے ساتھ پہلے ہی دو دفعہ ملاقات کرچکا ہے اور اس مسئلے پر بات کرچکا ہے جبکہ اسی مہینے کے آخر پر ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات ہونے جارہی ہے جس کا مقصد اس بات پر اتفاق رائے کرنا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کو کیسے حل کیا جائے۔

رپورٹس کے مطابق شام سے افغانستان میں ہزاروں داعشیوں کو بھیجا جاچکا ہے اورکہا جارہاہے کہ امریکہ چین اور روس میں باغیوں کو بھیج کر اپنے مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور روس کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

داعش کا افغانستان میں آسے پاکستان کی ترقی اور افغانستان کے غیر مستحکم ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔دفاعی تجزیہ کار جنرل(ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ ”انہی مجبوریوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان نے روس اور خطے کے دوسرے ممالک کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے“۔

جنرل (ر) امجد شعیب کا مزید کہنا تھا کہ ”امریکہ کسی بھی طور پر افغانستان میں استحکام لانے کیلئے تیار نہیں ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پہلے ہی ٹرمپ حکومت کو پیغام پہنچا چکا ہے کہ اگر امریکی کی طرف سے افغانستان میں استحکام لانے کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو ہم روس اور چین کے ساتھ ملکر افغانستان میں یہ کام کریں گے“۔

دسمبر میں روس کے شہر ماسکو میں سہ فریقی ملاقات ہوئی جس میں روس اور چین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقوام متحدہ میں مخصوص طالبان پر لگنے والی پابندی کی فہرست میں سے ان کا نام نکلوانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ کابل اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوسکے اور طالبان کی طرف سے ماضی میں پاکستان کے ثالثی کے طور پر کردار میں افغانستان اور طالبان کے مذاکرات کا بنیادی مطالبہ بھی یہی رہا ہے کہ طالبان کا نام اقوام متحدہ کی لگانے والی پابندیوں سے نکالا جائے۔تاہم امریکہ اس بات کوکسی بھی طور پر ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔کچھ حکام نے اس نکتہ کو اٹھایا ہے کہ واشنگٹن کی عدم دلچسپی خطے میں امن کے استحکام میں رکاوٹ ہے۔

امریکہ کے سخت موقف کی وجہ سے ہی روس اور چین نے خطے میں امن کے اقدامات کرنے کیلئے لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔افغانستان میں مسئلے کا حل نظر نہ آتے دیکھ کر پاکستان اور روس نے قریب آنے کا فیصلہ کیا ہے اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کیلئے حکمت عملی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے پاکستان آرمی کی طرف سے روس کے اعلیٰ فوجی وفد کو جنوبی وزیرستان کا دورہ کرایا گیا اور پاکستان کی دہشگردوں کیخلاف جنگ کے بارے آگاہ کیا گیا۔یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان روس کے ساتھ جاری کولڈ وار کو ختم کرنے اور نئے تعلقات بنانے کا آغاز کرنے جارہا ہے۔

پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو مضبوط اور وسیع کرنے کا فیصلہ تب کیا جب 2011 ء میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لاد ن کیخلاف امریکہ کی طرف سے خفیہ آپریشن کیا گیا اور اس کے بعد نیٹو کی طرف سے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں 24 فوجیوں کو شہید کیا گیا۔

دفاعی تجزیہ کار جنرل(ر)ا مجد شعیب نے پاک روس تعلقات کے بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ ایک حقیقت پسندانہ سوچ ہے اوریہ ہمارے مفادات کیلئے اچھا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پاک روس تعلقات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان جو تعلقات ہیں ان کی افادیت ختم ہوجائے گی“۔

ٹروکالر کی نئی ایپلیکیشن متعارف، گوگل ڈو کیساتھ انضمام کا بھی اعلان

مزید :

قومی -