پوشاک ہی بدلو گے کہ کردار بھی بدلے گا

 پوشاک ہی بدلو گے کہ کردار بھی بدلے گا
 پوشاک ہی بدلو گے کہ کردار بھی بدلے گا

  

انسٹھ سال کے بعد تین اپریل 2017 کو آج کے دن  پولیس کی پوشاک بدل رہی ہے-لیکن میرے ذہن میں 23 مارچ 2017 کو   گریٹر اقبال پارک پہ ہونے والی وہ تضحیک گھوم رہی ہے جو ایک باپ کی  اپنےبچوں کے سامنے ہوئی- وہ عزت ِنفس جو اس باپ نےاس دن کھوئی مجھےبہت کچھ سوچنے پہ مجبور کر رہی ہے- یوم ِآزادی ِپاکستان کے موقع پر مینارِ پاکستان کو گواہ بنا کے آزاد ملک کے آزاد پولیس افسر  نے غلط رستے سے پارکنگ پہ اپنی بدتمیزی سے ایک باپ کو اس کے بچوں کے سامنے جو تمیز سکھائی ہے اس پہ بابائے قوم  کی آنسو بھری آنکھیں استفسار کر رہی ہیں کہ افسر تو قوم کے خادم ہیں لیکن اس خادم کی آنکھوں میں اترا لہو کیسے  مساوات کے اصولوں پہ بنے پاکستان کی بنیاد کو پختہ کر رہا ہے – پولیس کی وردی تبدیل ہو رہی ہے لیکن طرزِ تخاطب وہی ہے -ایک محافظ کی پوشاک میں ملبوس  صیاد  ہاتھ بڑھا کر  جب اپنے شکار کو ٹٹولتا ہے تو آنکھیں بے بسی میں ایک پیغام سجائے پوچھتی ہیں کہ  زندگانی کی حقیقت کیا ہے- ایک جبرِ مسلسل کے بعد  کب ،کس موڑ پہ اور کہاں  ساتھ چھوٹ جائے کون جانتا ہے – قدرتی موت تو اس ملک پاکستان میں قسمت والے کے نصیب ہی میں ہے اور ان خوش قسمت پس ماندگان کے غم پہ  وقت جب صبر کا پھاہا  کوئی رکھ دیتا ہے تو اس کی کمی معمول بن جاتی ہے-انسان اس خلا کے ساتھ جینا سیکھ جاتا ہے-قبروں میں مٹی بنا وہ   پُتلا پھر یادوں سے ایسا محو ہوتا ہے کہ برسی پر ہی آنکھیں برستی ہیں اور یہ سب قدرتی عمل ہے لیکن جہاں موت کے محرکات غیر فطری ہوں  اور  باالوسطہ یا بلا واسطہ  محافظوں کی اپنی گولی یا ایک شہری کی حفاظت میں کوتاہی ہی ذمہ دار ہوتو نہیں بھولتی وہ اپنے پیاروں کی موت – پل پل رلاتی ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ ایسے  یاد آتی ہے جیسے کل کی بات ہو- وہ شاہراہ ، وہ چوراہے اور وہ لال پیلی بتیوں کے اشارے ذہنوں پہ  ایسے نقش ہوتے ہیں کہ ظالم کے کئے ظلم یاد آ جاتے ہیں-بے بسی میں تڑپی جان الامان ، الامان پکارتی ہوئی کس کو بھول سکتی ہے- وہ  سڑک کنارےپھیلی ہوئی رَت  اپنی سرخی سے  ہر لحظہ اعلان کرتی ہے  کہ کیا اتنی  ہی بے وقعت تھی یہ زندگی کہ اسے موت کے گھاٹ اتارتے  وقت کسی کو خیال نہیں آیا کہ اس کے رشتے کیسے روز  جئیں گے ،روز مریں گے اور ناگہانہ جدائی  میں تڑپیں گے- گولی بھی جب نالی چھوڑتی ہے تو بے رحم ہوجاتی ہے – نشانے پہ یوں بیٹھتی ہے کہ جان ہی لے لے-  کوئی لحاظ نہیں کرتی  ٹوٹتے رشتوں کا اور غیر ہوتی سانسوں کا ،ایسے پیوست ہوتی ہے کہ قبر میں بھی ساتھ ہی جاتی ہے-اس پہ لکھی موت کی عبارت بھی تو بدل دی جاتی ہے اور مرنے والا ہی مجرم کا کفن پہنتا ہے- پھر نہ کسی گولی چلانے والے کا احتساب اور نہ اس گولی کے چلانے کا حکم دینے والا پریشان کیونکہ جرم کا ٹیکا تو کسی بے گناہ کے ماتھے پہ  سجا دیا گیاہے اور صیاد  اپنے اگلے شکار کو نکل پڑا ہے- ایسے میں کس گولی سے ڈروں دہشت پھیلانے والے کی یا محافظ کی گولی چنوں اپنے بیٹے کے لئے ،  مجھے جواب چاہئے حاکمِ وقت سے جس کا بیٹا تو پروٹوکول کے جلو میں نکلتا ہے اور میرا بیٹا صرف میری دعاؤں کے حصار میں ہوتا ہے – جسے میں ہمیشہ نصیحت کرتا ہوں کہ کسی کے  پھڈے میں ٹانگ مت اڑانا- غصے میں مت آنا –کہیں لڑائی ہو تو بچ کے نکل جانا  - کسی کو برا مت کہنا – گاڑی احتیاط سے چلانا- فون مت سننا – کوئی   برا بھلا کہہ دے تو شک کا فائدہ دے کر  در گذر کرنا  کہ  کہیں ایسا نہ ہو کہ ذہنی اختلاج  کا شکار وہ تمہیں نقصان پہنچا دے- پولیس روکے یا نہ روکے تم رک جانا اور ان سے باادب خود اپنے چالان کی درخواست کرنا  اور پھر اگر وہ کہیں تو  اپنی جگہ سے ہلنا ورنہ ہاتھ باندھے کھڑے رہنا اس میں بھلائی ہے-                                                   

یہ باتیں مجھے لکھنے پہ مجبور کرنے والی وہ شنید  ہے کہ پنجاب پولیس کی وردی تبدیل ہو رہی ہے – سوال ہے کہ کیا عمل و کردار بھی بدل رہا ہے کچھ ایسی اصلاحات بھی ہو رہی ہیں کہ عام شہری چین کا سانس لے یا  خوف کا ظاہری رنگ بدل جائے گا- کون نہیں جانتا رشوت ، بد تمیزی ، نامناسب اور غیر ذمہ درانہ رویہ کس کا ہے- وہ کون سی جگہ ہے جس پہ درالامان لکھا ہے لیکن ہر شریف آدمی اس میں قدم رکھتے گھبراتا ہے- انصاف حاصل کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن ان اداروں کے ہاتھوں بنتی درگت اسے کانوں کو ہاتھ لگانے پہ مجبور کر دیتی ہے اور انصاف کے حصول کی بجائے عزت بچاؤ ہی منصوبہ بندی ٹھہرتی ہے- وہ کیسا محافظ ہے جس کو دیکھتے  ہی  لٹ جانے  کا احساس جنم لے- جس نظام کی ڈوریاں سیاسی  یا حکومتی شخصیات اپنی مرضی سے ہلائیں وہاں  کوئی مظلوم داد رسی کی فریاد کرتا نظر آئے تو  کون ہے جو اپنا انصاف اس دارالامان میں ڈھونڈنے جائے- عوام کو کب اس وردی سے شکایت ہے شکوہ توسلوک اور اس رویے سے ہے جس سے عام عوام  نبرد آزما ہے- پوشاک نے بھی کبھی کردار بدلے ہیں- کالی وردی  نہیں محکمہ جات کے کالے  کرتوت بدلیے- راہزن کو رہبری کا درس دینے کے انتظامات فرمائیے- خوشامدیوں کی بجائے خوش آمدید کہنے والے خوش گفتار کو باگ ڈور دیجیئے- ذلتوں کی گہرائیوں سے محبتوں کے گلاب  نکھارئیے- مجرموں کو پناہ دیتے سیاسی اور حکومتی کردار سب کے سامنے لائیے اور  ظالم کا یومِ حساب لکھ دیجیے- بے گناہی کو تختہ دار پہ کھڑا کرنے والوں  کے پاؤں کے  نیچے سے تخت کھینچ لیجیے- نہ کردہ گناہوں میں گرفتاران کو رہائی دیجیے اور  بدی کو پابند سلاسل کیجیے ورنہ مجھے توجنگل میں درندوں کے درمیان گھرا یہ معاشرہ آٹھ آٹھ آنسو رلاتا ہے – جیسے جنگل میں  درندے  کی چنگاڑ سب کو ڈرا دیتی ہے اسی طرح اب  انسانی آنکھوں میں چھپی خاموشی  سے بھی مجھے خوف آتا ہے- یہ خاموشی  کہیں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ نہ ہو-  ظلم سے کب تک یہ آواز دبائی جائے گی اگر مظلوم کے اندر چھپی  یہ چنگاری ہوا پکڑ گئی تو سب کچھ جلا دے گی-مظلوم جب خود انصاف کرتا ہے تو  معاشرہ کا بگاڑ پھر وعدے وعید سے قابو میں نہیں آتا – خدارا مخلوقِ خدا  کو سڑکوں – میٹرو اور اورنج ٹرین سے سجے جنگل سے نکال لیجئے اور  اسے محافظ دیجیے نہ کہ پولیس کو  نئی پوشاک ، نیا کردار دیجیے نہ  کہ وعدہء گفتار سے بہلائیے- شیر کی پوشاک اوڑھ لینے سے شیر نہیں بنتے   کیونکہ

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی

اللہ  کے  شیروں کو  آتی  نہیں  روباہی

ایک دفعہ پھر درخواست ہے کہ کردار کے غازی ہی قوم و ملت کو تحفظ دے سکتے ہیں اور سب کو جینے کا ایک موقع ضرور دیجئے  اس یقین کے ساتھ کہ محفوظ پاکستان کی ضمانت  محفوظ سوچ میں ہے-

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -