وہ وقت جب روسی دارالحکومت دھماکوں سے لرز اٹھا تھا، دھماکوں کی وجہ کیا تھی اور ان کی ذمہ داری کس نے قبول کی ؟ حیران کن حقائق منظر عام پر آگئے

وہ وقت جب روسی دارالحکومت دھماکوں سے لرز اٹھا تھا، دھماکوں کی وجہ کیا تھی اور ...
وہ وقت جب روسی دارالحکومت دھماکوں سے لرز اٹھا تھا، دھماکوں کی وجہ کیا تھی اور ان کی ذمہ داری کس نے قبول کی ؟ حیران کن حقائق منظر عام پر آگئے

  

ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس کے اہم ترین شہر سینٹ پیٹرز برگ میں میٹرو سٹیشن پر ہونے والے دھماکے میں 10 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب روس میں میٹرو ٹرین سسٹم کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی 2 بار روسی دارالحکومت ماسکو میں میٹرو سٹیشنز پر خود کش حملے کیے جا چکے ہیں جن میں مجموعی طور پر 81 افراد ہلاک ہوئے تھے، یہ دونوں دھماکے چیچنیا کے مجاہدین کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام کا بدلہ لینے کیلئے کیے گئے تھے۔

روسی صدر کی بیلاروسی ہم منصب سے ملاقات سے چند لمحے قبل سینٹ پیٹرز برگ دھماکوں سے لرز اٹھا، تفصیلات جانئے

تفصیلات کے مطابق روسی دارالحکومت ماسکو کی میٹرو میں 6 فروری 2004 کو اس وقت دھماکہ ہوا تھا جب ایک خود کش حملہ آور نے ایوٹوزا ووڈ سکایا سب وے سٹیشن پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں 41 افراد ہلاک اور 120 زخمی ہوئے تھے۔

دھماکے کے بعد روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے اس حملے کا الزام چیچنیا کے علیحدگی پسندوں پر لگایا تھا تاہم چیچنیا کے جنگجو گروپوں نے اس الزام کی نفی کردی تھی ۔ بعد ازاں چیچنیا کے ایک گروپ ” علی کے شیر“ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چیچنیا میں روسی فوجوں کے ہاتھوں نہتے مسلمانوں کے قتل عام کی چوتھی برسی کی یاد میں یہ خود کش حملہ کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں 29 مارچ 2010 کو بھی ماسکو کے 2 میٹرو سٹیشنز میں خواتین خود کش حملہ آوروں نے دھماکے کیے تھے۔ یہ دھماکے لو بیانکا اور پارک کلٹری میٹرو سٹیشنز پر کیے گئے تھے جن کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوئے تھے۔ ان خود کش حملوں کی ذمہ داری چیچنیا کے علیحدگی پسند گروپ کے لیڈر نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کرکے قبول کی تھی۔

واضح رہے کہ ولادی میر پیوٹن 7 مئی 2000 سے 7 مئی 2008 تک دو ٹرمز کیلئے روس کے صدر منتخب ہوئے تھے جس کے بعد 7 مئی 2008 سے 2012 تک انہوں نے بطور وزیر اعظم ذمہ داریاں نبھائیں اور اس کے بعد وہ پھرسے روسی صدارت کی کرسی پر براجمان ہیں، یہ دونوں دھماکے ولادی میر پیوٹن کے مختلف ادوار میں ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ چیچنیا کی اکثریتی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو چاروں طرف سے روسی حدود میں گھرا ہوا ہے، روس اس خطے پر اپنا حق جتاتا رہا ہے جبکہ یہاں کے لوگ روس کے خلاف ہمیشہ ہی مزاحم رہے ہیں۔ روس اور چیچنیا میں دو صدیوں سے بھی زائد عرصے سے تنازعہ چلا آرہا ہے، 1994 سے 2003 کے دوران ہونے والی جنگ کے دورن روس کے فوجیوں کے ہاتھوں چیچنیا کے ڈھائی لاکھ عام شہری قتل ہوئے تھے جبکہ روسی فوجوں کے ہاتھوں مارے جانے والے چیچنیا کے جنگجوﺅں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -