ججوں کا کام صرف سزا دینا نہیں ،مصالحت کے ذریعے بھی مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ،تربیتی پروگرام سے جسٹس انوارالحق کا خطاب

ججوں کا کام صرف سزا دینا نہیں ،مصالحت کے ذریعے بھی مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ...
ججوں کا کام صرف سزا دینا نہیں ،مصالحت کے ذریعے بھی مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ،تربیتی پروگرام سے جسٹس انوارالحق کا خطاب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) مصالحتی مراکزکے لئے نامزد ماتحت عدالتوں کے 24ججوں کی 5روزہ تربیت کے آغاز کے موقع پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ثالثی ایک گیم چینجر ہے.

وکلاءکے خلاف مبینہ ریمارکس ،ہائی کورٹ بار نے جسٹس کاظم رضا شمسی کی عدالت کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور مسائل کا حل یہ نہیں کے ایک کو سزا دے دی جائے، سزا ایسے مسائل کا واحد حل نہیں ہے,مصالحتی سینٹرز کے قیام سے بہت سی معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی، ہمارا کام لوگوں کو کم سے کم وقت میں انصاف فراہم کرنا ہے،تمام جوڈیشل آفیسرز پوری سنجیدگی سے ٹریننگ مکمل کریں اور اپنے آپ کو ثابت کریں کے آپ کو جو ڈیوٹی دی گئی ہے آپ نے اس کاحق ادا کیا، ہمارا کام صرف لوگوں کو سزا دینا نہیں بلکہ مصالحت کرا کے بھی مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ مصالحت کرانا ثواب کا کام ہے اور آپ سب کو یہ ثواب کمانے کا موقع اللہ نے دیا ہے اس کو فرض سمجھ کر ادا کریں، مصا لحت کرانا معاشرتی اصلاحات کا بہترین ذریعہ ہے۔ ثالث کا کام صرف سزا دینا نہیں ہے ،جہاں قانون کا مطابق ریلیف ملتا ہو ضرور دیں۔ ہمیں مل کر اس سسٹم کو کامیاب بنانا ہے اور معاشرے میں معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لئے مثبت سوچ اپنانا ہوگئی۔ اس موقع پر بیرسٹر ظفر اقبال کلانوری، ورلڈ بینک کی نمائندہ عاصمہ خواجہ، ایڈووکیٹ طارق سعیدرانا اور دیگر ٹرینرز موجود تھے۔

مزید :

لاہور -