”ایک دن وہ خاتون نہ آئی تو بھٹو صاحب جذباتی ہوگئے اور مجھے کہنے لگے کہ ۔۔۔“ سابق آئی جی پنجاب نے تاریخ سے پردہ اٹھادیا، ایسا واقعہ سنا دیا کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

”ایک دن وہ خاتون نہ آئی تو بھٹو صاحب جذباتی ہوگئے اور مجھے کہنے لگے کہ ۔۔۔“ ...
”ایک دن وہ خاتون نہ آئی تو بھٹو صاحب جذباتی ہوگئے اور مجھے کہنے لگے کہ ۔۔۔“ سابق آئی جی پنجاب نے تاریخ سے پردہ اٹھادیا، ایسا واقعہ سنا دیا کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ڈیوٹی سر انجام دینے والے سابق آئی جی پنجاب شوکت جاوید نے ان کے بارے میں ایک ایسا واقعہ سنایا ہے کہ جان کر آپ کو بھی خوشی ہوگی۔

نجی ٹی وی کیپٹل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت جاوید کا کہنا تھا کہ بھٹو صاحب کے دور میں ان کی ڈیوٹی ہائی کورٹ میں تھی ، جب بھی بھٹو صاحب وہاں آتے تو وہ ان کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ کبھی کبھار ان کی ڈیوٹی بھٹو صاحب کو ماڈل ٹاﺅن سے لانے لے جانے پر بھی لگ جایا کرتی تھی۔

صرف ایک ٹویٹ ری ٹویٹ کرنے پر مسلمان خاتون پر دہشتگردی کا مقدمہ قائم کردیا گیا، اس میں ایسا کیا تھا؟ سوشل میڈیا پر کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے یہ انتہائی تشویشناک خبر ضرور پڑھ لیں

انہوں نے دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ جب ہم ماڈل ٹاﺅن سے گزرا کرتے تھے تو ماڈل ٹاﺅن کے قریب جھگیوں میں سے ایک بوڑھی خاتون روز سڑک پر کھڑی ہوتی تھی ، اسے پہچان ہوتی تھی کہ آگے پیچھے پولیس کی گاڑیاں ہوتی ہیں جبکہ درمیان میں نیلے رنگ کی ٹویوٹا میں بھٹو صاحب ہوتے ہیں۔ وہ خاتون بھٹو صاحب کو دیکھ کر اپنا ہاتھ ہلایا کرتی تھی کبھی کبھی وہ پھول بھی لہراتی تھی جس کے جواب میں بھٹو صاحب بھی اپنا ہاتھ ہلاتے۔ایک دن جب ہم جا رہے تھے تو اس خاتون کو دیر ہوگئی، بھٹو صاحب نے گاڑی سے دیکھا کہ خاتون دوڑ کر آرہی ہے ۔ خاتون کو دیکھ کر بھٹو صاحب جذباتی ہوگئے اور کہنے لگے کہ اگر مجھے موقع ملا تو میں پورے پاکستان کی ان جیسی خواتین کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کروں گا۔

شوکت جاوید کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھٹو صاحب کے دل میں عوام کا درد تھا اور وہ کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے تھے، اپنے اس جذبے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوئے اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔

مزید :

لاہور -