مسیحاِ ہند

مسیحاِ ہند
مسیحاِ ہند

  

کر ہ ارض اور نسلِ انسانی کی تا ریخ کا اگر ہم مطالعہ کر تے ہیں تو ہر جگہ پر ہمیں ایک خا ص قانون قدرت نظر آتا ہے خالقِ کائنات نے کائنات خلق کر نے کے بعد اِس کو بے یا رو مددگار نہیں چھو ڑا بلکہ جہاں بھی قدرت کے نظام میں خلل نظر آتا ہے قانون قدرت حر کت میں آکر اُس خلل کو دور کر تا ہے اِسی طرح جب سے انسان اِس دنیا ئے سنگ و خشت میں آکر آباد ہوا ہے حضرت انسان کی رشد و ہدا یت کے لیے ہر دور میں انبیاء علیہم اسلام کو خاص صلا حیتوں کے ساتھ حق تعالیٰ انسانوں میں بھیجتا رہا ہے ‘شر پسند بے چین فطرت کے حامل انسان نے جب بھی دھرتی پر بگاڑ پیدا کر نے کی کو شش کی رب ذولجلال نے اُس علا قے معا شرے کے مطا بق اپنا نما ئندہ وہاں بھیجا ‘سرور دو جہاں ﷺ کے بعد نبو ت کا دروازہ تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے اب چودہ صدیوں سے اولیا ء اللہ اِس عظیم فریضے کو سر انجام دے رہے ہیں ‘خدا کے اس اصول کی خو بصورتی ہمیں ہر دور میں نظر آتی ہے ‘جتنا بڑا انقلاب ‘جتنی بڑی سیچوایشن ‘جہالت کے اندھیروں میں غرق نسل انسانی کے جیسے حالات ویسی ہی قد آور شخصیت اِس جہان رنگ و بو میں پوری شان و شوکت سے طلو ع ہو تی ہے پھر اُس کے انعام یا فتہ بند ے پر دہ کینوس پر نمو دار ہو تے ہیں ‘اپنے کر دار علم اور روحانی تصرف سے انسانوں پر بہت گہرا اثرا ڈالتے ہیں‘ یہ وہ لو گ ہو تے ہیں جو گر دش لیل و نہا ر ‘وقت ‘تاریخ اور صدیوں کو اپنی آہنی گر فت میں لے کر خو د کو تا ریخ کے اوراق میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر کر دیتے ہیں ‘ایسا ہی ایک عظیم انسان جہا لت ‘بت پر ستی میں غرق سر زمین ہند پر جلو ہ گر ہو نے والا تھا جس وقت یہ عظیم درویش سر زمین ہند کو نور اسلام میں رنگنے کے لیے سر زمین ہند پر وارد ہوا اُ س وقت سر زمین ہند کن حالات سے دوچار تھی اِسے اختصار کے ساتھ دیکھنے کی کو شش کر تے ہیں۔

سر زمین پاک و ہند میں مسلمانوں کی آمد 712ء میں ہو ئی یہ لو گ عظیم فاتح محمد بن قاسم کے ساتھ سند ھ میں آئے ‘قوم کی بیٹی کی پکا ر پر یہ عظیم فاتح سند ھ پر حملہ آور ہوا راجہ داہر کا غرور خا ک میں ملا کر یہا ں پر اسلامی سلطنت قائم کی لیکن محمد بن قاسم کی یہ چھو ٹی سی سلطنت صرف سند ھ تک ہی محدود تھی مسلمانوں نے اندرون ہندوستان کی طرف جا نے کی کو شش نہ کی اِس طرح تین صدیاں گزر گئیں ‘محمد بن قاسم کے ساتھ آنے والے صوفیا نے اشاعت اسلام کا کام ضرور کیا لیکن اُن کی کو ششیں ہمیں سند ھ اور کشمیر میں نظر آتی ہیں اندرون ہندوستان ابھی تک نو ر اسلام سے محروم تھا پھر تین صدیوں کے بعد تاریخ ہندوستان ایک نئے دور میں داخل ہو تی ہے جب سلطان سبکتگین بت پرستوں پر حملہ آور ہوا‘ بت شکن سلطان محمود غزنوی بت پر ستوں پر خدائی قہر بن کر نا زل ہوا ہر بار فتح کی دیوی نے سلطان محمود غزنوی کے پا ؤں کو چوما ‘سلطان محمود نے ہندوستان پر متعدد کامیاب حملے کئے مگر یہاں پر مسلمانوں کی سلطنت قائم نہ کر سکا 1030ء میں سلطان خاک نشین ہوا ‘سلطان محمود فتوحات تو کر تا رہا لیکن اسلام کی اشاعت میں قابل ذکر کام نہ کر سکا اِسی وجہ سے بت پرستی اور جہالت میں ہندوستان پورے کا پو را ڈوبا ہوا تھا۔

ہندو ستان کے طو ل و عرض میں بت پرستی کی چادر تنی ہو ئی تھی اگر ہزاروں سال پرا نی تو حید پرستی کہیں تھی بھی تو وہ بت پر ستی کے غبا ر میں گم ہو چکی تھی دیہات اور شہروں میں بتوں کی پو جا زور شور سے جا ری تھی بتوں کو خدا کے اوتاروں کا درجہ دیا گیا تھا اِن خو د تراشیدہ بتوں سے افسانوی باتیں منسوب تھیں جن کا حقیقت سے بالکل بھی واسطہ نہ تھا ہر طا قت ور اورچمکتی چیز اِن کے لیے خدا تھی اور تو اور درخت جا نور اور عجیب و غریب چیزوں کو قدرت کا نمو نہ خیال کیا جا تا اگر صدیوں پرا نا تو حید پر ستی کا کوئی مذہب تھا بھی تو وہ صنم پر ستی کے دامن میں غرق ہو چکا تھا جہا لت کا اندازہ یہ کہ اِن بت پرستوں کے کر وڑوں خدا تھے جن کی یہ پو جا کر تے تھے اِن کو اپنے خدا ؤں کے نا م تک یاد نہیں تھے کرہ ارض پر جہا لت اوربت پر ستی سر زمین ہند پر پورے جو بن پر تھی ‘جہا لت میں غر ق انسانیت ہزاروں سال سے اپنے مسیحا کے انتظا رمیں تھی جو آکر اُن کو جہالت بت پر ستی کی زنجیروں سے آزاد کر ائے ‘بت پر ستی کا رنگ اتا ر کر اسلام کے نور سے رنگے سر زمین ہند جو ہزاروں سال سے معبودان باطلہ کی پرستش کر رہی تھی اُس بت پر ستی کی فضاؤں کو حق تعالیٰ اور سرور دوجہاں ﷺ کے نور سے رنگنے اُس کا مسیحا آنے والا تھا وہ سرزمین جہاں ظلم و استبداد ‘حق تلفی ‘قتل و غارت کو عزت و شان سمجھا جاتا تھا اُس سر زمین کو انوار تو حید و رسالت سے منور کر نے ولا آرہا تھا جس نے آکر با طل پر ستی کا قلع قمع کر کے ذرے ذرے کو معرفت الٰہی سے منور کر نا تھا جس نے یہاں آکر شجر اسلا م کا بیج بو نا تھا اُس مسیحا اعظم نے آکر زندگی سے زندگی کو متعارف کر انا تھا انسان کو انسان سے روشنا س کر انا تھا وہ انسان جو شودروں کی زندگی گزار رہا تھا جن کی زندگی کیڑے مکو ڑوں سے بھی بد تر تھی جو قابل نفرت تھا جو جانور تھا اُ س کو اُس کے حقیقی مقام سے روشنا س کر انا تھا غلامی اورجہالت نسل در نسل جن کی ہڈیوں تک سرایت کر گئی تھی جو خو د کو بھو ل چکا تھا جو خدا کو بھو ل چکا تھا جو تو حید کی بجا ئے بت پر ستی میں غر ق تھا قدرت نے سر زمین ہند کی تقدیر بد لنے اور نور اسلام کو یہاں پھیلا نے کے لیے سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز ؒ حضرت خوا جہ معین الدین ؒ کا انتخاب کیا۔

آپ ؒ کی تربیت حضرت عثمان ہر ونی ؒ جیسے بلند پایہ عارف حق سے کر ائی پھر دنیا جہاں میں پھیلے ہو ئے اولیا ء اللہ کے پا س بھیج کر مزید نو ر حق بخشا خو ب تربیت کی اب قدرت نے آپ ؒ کو سر زمین ہند بھیجنے کا فیصلہ کیا جناب خوا جہ پاک ؒ اپنے مرشد کریم کے ساتھ مکہ مدینہ کے سفر پر گئے‘ جب مکہ میں تشریف لائے مرشد کے ہمراہ طو اف کعبہ کیا تو مرشد نے خوا جہ چشت ؒ کے حق میں دعا کی کہ اللہ میرے اِس لاڈلے مرید کو قبول کرلے‘ غیب سے آواز آئی ہم نے معین الدین حسن سنجری ؒ کو قبول کیا اِس عظیم سعادت کے بعد حضرت معین الدین ؒ شہر مدینہ تشریف لا ئے روزانہ محبوب خدا ﷺکے روضہ مبارک پر غلاموں کی طرح حا ضر ہو جاتے ایک دن روضہ رسول ﷺ سے ندا آئی کہ معین الدین چشتی ؒ کو بلاؤ‘ چنا نچہ خو اجہ غریب نواز قدس اللہ ؒ کو روضہ رسول ﷺ پر خدا م لائے اُس وقت آپ ؒ کا عجب حال تھا درود و سلام پڑھتے ہوئے نہا یت ادب سے روضہ مقدس پر کھڑے ہو گئے دربار رسالت ﷺ سے آواز آئی اے قطب المشائخ قریب آئیے آپ ؒ بحالت وجد اندر حاضر ہو ئے ‘شہنشاہ کا ئنات ﷺ کی طرف سے ارشاد ہوا معین الدین ؒ آپ ہمارے خاص بندے ہیں آپ ؒ پر لازم ہے کہ ہندوستان کی طرف جائیں اور وہاں ایک شہر اجمیر ہے آپ ؒ کے سبب سے وہاں اسلام کی شمع روشن ہو گی ‘غلام خواجہ نے عرض کی بسر و چشم حاضر ہوں مگر اجمیر ہندوستان سے نا واقف ہوں کس طرف جاؤں‘ سرور عالم رسول اللہ ﷺ کی طرف سے راہنمائی ہو ئی شہنشاہِ دو عالم ﷺ کے حکم پر خواجہ چشت ؒ اقلیم ہند کی طرف چالیس مریدین کے ساتھ روانہ ہوئے ( حیات خوا جہ ) ‘سر زمین ہند جو ہزاروں سالوں سے بت پر ستی میں غر ق تھی وہ اب تاریخ تصوف کے عظیم ترین درویش کے قدموں سے اٹھنے والے غبار سے چمکنے والی تھی‘ مسیحا چشت کا چراغ ہندو ستان کی تا ریک سر زمین پر اجا لا بکھیرنے والا تھا ۔

مزید :

رائے -کالم -