A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

دنیا ملالہ پراس لئے مہربان ہوئی کیونکہ ۔۔۔

دنیا ملالہ پراس لئے مہربان ہوئی کیونکہ ۔۔۔

Apr 03, 2018 | 17:23:PM

فرخ شہباز وڑائچ

فون کی گھنٹی بجی تو میری نظریں بے اختیارفون کی سکرین کی طرف اٹھیں۔یہ پہلے سے محفوظ نمبر تھا۔ میں دوستوں کے دائرے میں سے اٹھا اور کال اٹینڈ کرلی۔’’کہاں ہو تم‘‘ اس کی آواز کی حالت میری سمجھ سے باہر تھی۔خیریت دریافت کی تو وہ کہنے لگی’’ میں ملنا چاہتی ہوں‘‘اگلے روز ملاقات کا وقت طے ہوااور فون بند ہو گیا۔پریشانی کی کیفیت میں جب شہر کے معروف چائے خانے میں داخل ہو رہا تھا تو میری نگاہ ہال کے آخر میں گول میز کے گرد دو کرسیوں پر پڑی جن میں سے ایک کرسی خالی تھی دوسری پر وہ بیٹھی میرا انتظار کر رہی تھی۔نشست ٹھیک کر کے بیٹھا تو وہ کہنے لگی ’’یہ میڈیا نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے‘‘ میں نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا تاکہ سمجھ سکوں یہ کونسے تماشے کی بات ہورہی ہے۔اس نے بات کو وہیں سے جوڑتے ہوئے کہا’’ تین دن ہوگئے جس چینل پر دیکھو،ہر نیوز بلیٹن میں،ہر اخبار کے فرنٹ پیج پر،میگزینز کے ٹائٹل پر،یہاں تک کہ ٹوئٹر اور فیس بک پر بھی صرف ملالہ ملالہ ہی ہورہی ہے۔آخر اس ملالہ نے ایسا کیا مختلف کیا ہے جو ہم اسے اتنا سرپہ چڑھا رہے ہیں‘‘ ۔

میں بولنے ہی لگا تھا کہ وہ پھر سے شروع ہوگئی ’’تمہیں پتا ہے اپنے گاؤں میں ،میں پہلی لڑکی ہوں جس نے ماسٹرز کیا اس سے پہلے نہ تو کسی لڑکے نے اتنی تعلیم حاصل کی ،لڑکیوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں نے جب میٹرک کیا تو تبھی میرے گھر والوں نے کہہ دیا تھا کہ بس بہت پڑھ لیا اب اس سے آگے نہیں پڑھنا کیونکہ لڑکیاں پڑھ کر خراب ہوجاتی ہیں‘‘

میں بضد ہوگئی کہ مجھے ہر حال میں پڑھنا ہے میں نے شہر کے کالج میں داخلہ لے لیا۔کالج میں داخلے تک تو سب ٹھیک تھا مگر گھر پہنچتے ہوئے شام ہوجاتی اور مجھے گھر والوں کی روز سننا پڑتیں۔ گھر کے راستے میں میرے کزنز بھی مجھے دیکھتے مگر کبھی سلام نہ کرتے۔تھوڑے ہی عرصے میں میرے اپنے ہی خاندان میں یہ باتیں مشہور ہوگئیں کہ اس کا شہر میں کسی لڑکے کے ساتھ چکر ہے۔میں نے یہ سب بھی برداشت کیا مگر پتا ہے سب سے زیادہ اذیت کیا تھی۔ صبح گاؤں سے آنے والی بس میں سفر کرنا۔ جہاں اتنا رش ہوتا کہ بیٹھنے کی جگہ نہ ملتی،خود سوچو کسی لڑکی کا اس ہجوم میں سفر کرنا کتنا دردرناک ہوتا ہے۔میں نے ہمت کی کیونکہ میں آگے بڑھنا چاہتی تھی،کچھ بدلنا چاہتی تھی،میں نے انٹر کیا،گرایجوایشن کی اور پھر ماسٹرز کیا۔میرے اس سارے خوفناک تعلیمی سفر کی بدولت مجھے اپنے ہی خاندان والے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔یہ ساری باتیں میرے اس سفر کو مزید دردناک بناتی ہیں۔‘‘

اتناکہنے کے بعد اس کی آنکھوں میں پانی اتر آیا۔میں نے شفاف پانی کی بوتل اور ٹشوز کی پلیٹ اس کی جانب سرکائی۔کہنے لگی ’’اب تم ہی بتاؤ یہ جو میرے ساتھ ہوا، یہ ہمارے ملک میں کتنی لڑکیوں کے ساتھ نہیں ہوتا،ہم پھر بھی تعلیم حاصل کرتی ہیں،جاب کرتی ہیں،معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔تو پھر کینیڈا کی شہریت اس کے لیے کیوں؟ نوبل انعام اس کے لیے کیوں ؟ اقوام متحدہ کی نوازشات اس پر کیوں؟ ملالہ فنڈ کے نام پر ڈالروں کی برسات اسی پر کیوں؟ انٹرنیشنل اور نیشنل میڈیا کی ساری توجہ صرف اس پر؟ چلو مجھے چھوڑو جو لڑکیاں اس کے ساتھ زخمی ہوئیں وہ کہاں ہیں،اعتزاز حسن جس نے جان پر کھیل کر جانیں بچائی تھیں وہ،عبدالستار ایدھی کی خدمات پر نوبل انعام کیوں نہیں دیا جاتا؟آخر کیا فرق ہے ہم سب میں اور ملالہ میں۔۔؟ ‘‘

میں صورتحال سمجھ گیا تھا اور کہا کہ بالکل تمہاراکیرئیر میرے سامنے ہے مجھے اعتراف ہے کہ تم نے بہت محنت کی ہے اور کئی لوگوں نے تمہیں دیکھ کر اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائی ہے ۔بلاشبہ تم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔مگر ملالہ کے حالات مختلف تھے۔ اس نے جس جگہ ،جن حالات میں تعلیم کے لیے آواز اٹھائی وہ سچویشن بہت خوفناک تھی،ان دنوں اس علاقے میں طالبان کا کنٹرول تھا ۔سارا علاقہ ’’نوگو ایریا‘‘ بن چکا تھا۔اس سب کے باوجود وہ نہتی اپنی آواز بلند کرتی رہی۔طالبان ملالہ کو اس لیے جانتے تھے کیونکہ وہ ڈائری لکھ کر طالبان کو للکار رہی تھی۔جس دن ملالہ پر حملہ کیا گیا اس کی وین کو روک کر ملالہ کا نام پوچھ کر گولیاں چلائی گئیں ۔ان کا مقصد ملالہ کی آواز خاموش کروانا تھا۔جہاں تک بات ہے اعتزاز حسن شہید کی، اس کوبہادری پر اعلٰی سول ایوارڈ ،اس کے سکول کا نام تبدیل کرکے اس کے نام پر رکھ دیا گیاہے،اس بہادر لڑکے پر قومی میڈیا میں بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیاہے۔عبدالستار ایدھی ایسا نام ہے جس پر پاکستانی اپنی دولت ہی نہیں اپنی جان بھی چھڑکتے ہیں۔کئی منصوبے ان کے نام سے منسوب ہیں ،حکومت نے انہیں مکمل اعزاز کے ساتھ رخصت کیا۔اب ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ہر شخص کی اپنی خدمات اور اپنا مرتبہ ہوتا ہے۔شاہد آفریدی ہماری کرکٹ کا بڑا نام ہیں۔ان کو ایک کمپنی والے شیمپو کے ایڈ میں لانے کے لیے اچھی خاصی رقم ادا کرتے ہیں ۔دوسری طرف میرادوست کرکٹر بھی ہے اس کے بال بھی سلکی ہیں،داڑھی بھی آفریدی سے ملتی جلتی ہے اسے کیوں اس ٹی وی ایڈ میں نہیں لیا جاتا(حالانکہ وہ مفت بھی کام کرنے کے لیے تیار ہے)،اسی طرح میری گلی میں 5مرلے جگہ کی قیمت 50لاکھ ہے جبکہ میرے گاؤں میں 5کنال جگہ کی قیمت بھی اتنی نہیں(حالانکہ میری خواہش ہے کہ ان کی قیمتیں برابر ہوجائیں)۔میں آج تک یہ بات سمجھنے میں ناکام رہا ہوں جب اس شہر کے سارے چنے والے ایک جیسے ہیں تو لوگوں کا رش ایک مشہور چنے والی دکان پر کیوں ہوتا ہے۔

اسی طرح جب سارا شہر ایک جیسا ہی ہے تو لوگوں کا دل ڈیفنس،ماڈل ٹاؤن،گلبرگ میں ہی رہنے کو کیوں کرتا ہے،ہم کیوں اپنے بچوں کو شہر کے سب سے بڑے سکول میں تعلیم دلوانا چاہتے ہیں حالانکہ انیس بیس کے فرق سے سارے سکولز وہی تعلیم دے رہے ہیں۔میرا دوست سنگر بھی ہے خوبصورت بھی ہے اسے ایک کنسرٹ کا پچاس ہزار ملتا ہے جبکہ عاطف اسلم کو اسی کنسرٹ کا معاوضہ لاکھوں میں ملتا ہے۔اسی شہر میں کئی شعراء مفت مشاعرہ پڑھنے کے لیے سفارشیں کرواتے ہیں جبکہ کئی شعراء مشاعرہ پڑھنے کے من پسندپیسے وصول کرتے ہیں۔ایک معروف ڈاکٹر کی صرف چیک اپ کی فیس پانچ ہزار ہے جبکہ میرا ڈاکٹر دوست پانچ سو میں چیک اپ کے ساتھ علاج بھی کردیتا ہے۔اگر سب ایک جیسے ہیں،سب ایک جتنی محنت کرتے ہیں،ایک ہی طرح کا کام کرتے ہیں تو پھر اتنا فرق کیوں ہے؟آپ بھی دل پر ہاتھ رکھئے ٹھنڈے دماغ سے سوچیے آخر ملالہ ہی کیوں؟

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں