رسولِؐؐ پاک کے ذکرِ پاک کی، رفعتیں کیا، وسعتیں کیا!

رسولِؐؐ پاک کے ذکرِ پاک کی، رفعتیں کیا، وسعتیں کیا!

  

تحریر:رانا شفیق پسروری

یہ مرحلہئ حق الیقین اور ایمانِ کامل ہے، کہ کوئی ایک شخص کیا ساری کائنات کی ساری زبانیں اگر سید الانبیاء کی مدحت و ستائش میں مصروف ہو جائیں۔ تب بھی آپ کی تعریف کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ اگر اس کائنات میں ایک بھی مسلمان کہلانے والا باقی نہ رہے تب بھی آپ ؐ کی تعریف بیان ہوتی رہے گی۔ اس لئے کہ آپ ؐ تو وہ ہیں جن کے بارے میں عرش و الے نے کہا:

”ورفعنالک ذکرک“(القرآن)

کہ”اے مدینہ کے تاجدار، ہم نے آپ کو عظمتوں کی انتہا پر فائز کر دیا ہے“۔

امام بغوی ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں، کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو رسول پاکﷺ نے حضرت جبرائیل ؑسے دریافت کیا، اے جبرائیل! ذرا بتاؤ تو سہی، وہ بلندیاں کیا ہیں، جن سے میرے ذکر کو ہمکنار کیا گیا ہے؟

حضرت جبرائیل ؑ نے کہا”حدیت قدسی ہے، عرش والے نے فرمایا ہے:

”اذاذُ کِرتَ، ذکرت معی“

کہ جب جب میرا ذکر ہو گا، تب تب تیرا ذکر ہو گا، حضرت حسان بن ثابت ؓ، کہ کائنات کے سب سے بڑے نعت خواں اور مداح رسول ؐ تھے۔اس ایت (ورفعنالک ذکرک) کی تشریح اپنی نعت کے اشعار میں یوں کرتے ہیں۔

کہ”اللہ تعالیٰ نے نبی پاکﷺ کے ذکر کو اس طرح بلند کیا ہے کہ اپنے نبی ؐ کے نام کو اپنے نام میں یوں ضم کر لیا کہ مؤذن، ایک دن میں پانچ وقت کی اذان دیتے ہوئے جب کہتا ہے ”اشہدان لا الہ الا اللہ، تو ساتھ ہی کہتا ہے، اشہدان محمد رسول اللہ“

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نام میں سے اپنے نبی ؐ کے نام کو نکالا ہے تاکہ اس کو عظمت و جلالت بخشے، کہ عرش والے کا نام ”محمود“ ہے اور مدینہ کے تاجدار کا نام”محمد ؐ“ ہے۔

قربان جایئے نام نامی، اسم گرامی محمد؟ کے!

؎ بار الٰہ! یہ کس کا نام میری زبان پہ آیا

کہ میرے نطق نے بو سے میری زبان کے لئے…………

قاضی سلیمان منصور پوری سیرت کی معرکہ آراء کتاب ”رحمت للعالمین“ میں لکھتے ہیں ”لوگو! آپ ؐ کے باپ کا نام عبداللہ، ماں کا نام آمنہ ؒ، دایہ کا نام حلیمہ ؒ تھا………… ذرا غور تو کرو کہ جس نے عبودیت کے خون سے وجود پایا ہو، جس نے امن کی گود حاصل کی ہو اور جس نے حلم اور بردباری کا دودھ پیا ہو وہ ”محمد“ نہیں ہوگا تو کیا ہو گا؟(ﷺ)

وہ تو وہ ہیں جو ہیں ہی محمدﷺ……۔باپ تفعیل سے یعنی وہ کہ جس کا انگ انگ قابل تعریف اور لائق ستائش ہو،

لمحہ لمحہ جس کی تعریف میں بسر ہوتا ہو،

ذرہ ذرہ جس کی تعریف کرے

اب کوئی اپنا ہو یا بیگانہ

مسلم ہو یا غیر مسلم،

کوئی چا ہے یا نہ چاہے،

جب بھی اُس ہستی کا تذکرہ کرے گا، بے اختیارانہ، مجبور ہو جا ئے گا، اس ذات والا صفات کی تعریف کرنے پر۔

اذان وہ اسلامی اشعار ہے جو دن رات کے 24گھنٹوں میں دنیا کے کونے کونے میں، ہر لمحہ گونجتی رہتی ہے۔ سب سے پہلے طلوع سحر سیلز کے مشرق میں واقع جزائر میں ہوتی ہے۔ وہاں جس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بج رہے ہوتے ہیں۔ طلوع سحر کے ساتھ ہی انڈونیشیا کے انتہائی مشرقی جزائر میں فجر کی اذان شروع ہو جاتی ہے اور بیک وقت ہزاروں مؤذن خدائے بزرگ و برتر کی توحید اور حضرت محمد رسولﷺ کی رسالت کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔

مشرقی جزائر سے یہ سلسلہ مغربی جزائر کی طرف بڑھتا ہے اور ڈیڑھ گھنٹہ بھر جکارتہ میں مؤذنوں کی آواز گونجنے لگتی ہے۔

جکارتہ کے بعد یہ سلسلہ سماٹرا میں شروع ہو جاتا ہے اور سماٹرا کے مغربی قصبوں اور دیہات سے پہلے ہی ملایا کی مسجدوں میں اذانیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ملایا کے بعد برما کی باری آ جاتی ہے۔ جکارتہ سے اذانوں کا جو سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ وہ ایک گھنٹہ بعد ڈھاکہ پہنچتا ہے۔

بنگلہ دیش میں ابھی اذانوں کا یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا کہ کلکتہ سے سرینگر تک اذانیں گونجنے لگتی ہیں، دوسری طرف یہ سلسلہ کلکتہ سے ممبئی کی طرف بڑھتا ہے اور پورے ہندوستان کی فضاء توحید و رسالت کے اعلان سے گونج اُٹھتی ہے۔ سرینگر اور سیالکوٹ میں فجر کی اذان کا ایک ہی وقت ہے، سیالکوٹ سے کوئٹہ کراچی اور گوادر تک 40منٹ کا فرق ہے اس عرصہ میں فجر کی اذان پاکستان میں بلند ہوتی رہی ہے۔

پاکستان میں یہ سلسلہ ختم ہونے سے پہلے افغانستان اور مسقط میں شروع ہو جاتا ہے، مسقط سے بغداد تک ایک گھنٹہ تک کا فرق ہے اس عرصہ میں اذانیں حجاز مقدس یمن عرب امارات، کویت اور عراق میں گونجتی ہیں۔

بغداد سے اسکندریہ تک پھر ایک گھنٹہ کا فرق ہے اس دوران میں شام، مصر، صومالیہ اور سوڈان میں اذانیں بلند ہوتی ہیں۔

اسکندریہ اور استنبول ایک ہی طول و عرض پر واقع ہیں۔ مشرقی ترکی سے مغربی ترکی تک ڈیڑھ گھنٹے کا فرق ہے۔ اس دوران ترکی میں صدائے توحید و رسالت بلند ہوتی ہے۔ اسکندریہ سے طرابلس تک ایک گھنٹے کا دورانیہ اس عرصہ میں شمالی افریقہ میں لیبیا اور تیونس میں اذانوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ فجر کی اذان جس کا آغاز انڈونیشیا کے مشرقی جزائر سے ہوا تھا ساڑھے9گھنٹے کا طویل سفر کر کے بحراوقیانوس کے مشرقی کنارے تک پہنچتی ہے۔

فجر کی اذان بحراوقیانوس تک پہنچنے سے قبل ہی مشرقی انڈونیشیا میں ظہر کی اذان کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ڈھاکہ میں ظہر کی اذانیں شروع ہونے تک مشرقی انڈونیشیا میں عصر کی اذانیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ یہ سلسلہ ڈیڑھ گھنٹہ تک بمشکل جکارتہ پہنچتا ہے کہ انڈونیشیا کے مشرقی جزائر میں نماز مغرب کا وقت ہوتا ہے۔ مغرب کی اذانیں سیلز سے بمشکل سماٹر تک پہنچتی ہیں کہ اتنے میں عشاء کا وقت ہو جاتا ہے۔

جس وقت مشرقی انڈونیشیا میں عشاء کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اس وقت افریقہ میں فجر کی اذانیں گونج رہی ہوتی ہیں۔

کرہئ ارض پر ایک سیکنڈ بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں ہزاروں، لاکھوں مؤذن بیک وقت خدائے بزرگ و برتر کی توحید اور حضرت محمد رسول اللہﷺ کی رسالت کا اعلان نہ کر رہے ہوں (اور انشاء اللہ العزیز یہ سلسلہ تاقیامت اسی طرح جاری رہے گا)۔

عرش والے نے اپنی پاک کتاب میں ارشاد فرمایا:

انک لعلی خلق عظیمo

اے مدینہ کے تاجدار! اے آمنہ کے لال! اے مکہ کے دُرِ یتیم!”ہم نے آپ کو صاحب خلق عظیم بنا کر بھیجا ہے۔

نیشا پوری نے اپنی تفسیرکبیرمیں اور عبدالرحمن صفوری شافعی نے اپنی کتاب ”نزہتہ المجالس“ میں لکھا ہے کہ کسی نے حضرت علی ؓ سے دریافت کیا، کہ حضرت ذرا بتلائیے تو سہی کہ خلق عظیم کیا ہے؟ جس کا صاحب بنا کر مدینہ کے تاجدار کو معبوث کیا گیا ہے۔

حضرت علی ؓ نے دریافت کرنے والے سے کہا تیرے سوال کا جواب بعد میں دوں گا، پہلے یہ بتا، کہ تو اس دنیا کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہے؟ اس نے کہا حضرت! میں کیا، کوئی بڑے سے بڑا انسان اس کی اونچ نیچ کو کما حقہ بیان نہیں کر سکتا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا، اے شخص! دنیا وہ ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ”دنیا، قلیل ہے قلیل“!

جب کائنات کے رہنے والے اس قلیل کو بیان نہیں کر سکتے تو میں اس عظیم کو کس طرح بیان کر سکتا ہوں؟ تو حضرات! سید الُرسل، امام الانبیاء، ہادیئ عالم، محسن اعظم، فخر عالمﷺ کائنات کی وہ ہستی، وہ ذات والا صفات اور ذاتِ بابرکات ہیں کہ کائنات کا کوئی شخص چاہے بھی تو ان کی تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتا۔

بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا میں سے آپ ؐ کو چن لیا کہ آپ کی زندگی کی قسم کھائے“۔

پوری دنیا میں ایک مدینے کے سوہنے نبی کی تو ہستی ہے کہ جس کی زندگی کے ایک ایک لمحہ کو عرش والے نے محفوظ کر دیا ہے۔

حیات مبارکہ کے سارے لمحات، ایک ایک لمحہ کی، ایک ایک جنبش، ہونٹوں سے نکلے مبارک الفاظ، متبرک حروف، آج احادیث کی کتابوں میں محفوظ ہیں اور صاحبان ایمان کے دلوں کو قرار و سکوں کی دولت سے نواز رہے ہیں۔ عرش والے نے ارشاد فرمایا:

لعمرک انہم لفی سکرتھم یعمہونo

یعنی اللہ نے آپ کی زندگی کی قسم کھائی ہے کہ”جو تجھ کو نہیں مانتا وہ اپنے ہی نشے میں اندھا ہو چکا ہے“۔

صرف یہی نہیں کہ آپ کی زندگی کی قسم کھائی، اللہ نے تو اس شہر کی قسم بھی کھائی ہے جو شہر آپ کا شہر تھا۔

فرمایا:

والتینo والزیتونo وطور سینینo وہذا البلد الامینo

قسم ہے اس امن والے شہر کی، اللہ! اس امن والے شہر کی قسم کیوں کھائی؟

فرمایا:

لااقسم بہذا البلدoوانت حل بہذا البلدo

اس شہر کی قسم اس لئے کھائی کہ پیارے یہ وہ شہر ہے جہاں تو چلتا ہے، پھرتا ہے، اُٹھتا ہے، بیٹھتا ہے، کھاتا ہے، پیتا ہے، سوتا ہے، جاگتا ہے اور تیری چلت پھرت کی وجہ سے ہم نے اس شہر کو سارے شہروں میں معزز بنا دیا ہے۔

اللہ نے اس شہر کو کائنات کے سارے شہروں میں ممتاز کر دیا ہے۔ اللہ نے ان راستوں کو جن راستوں نے آپ ؐ کے قدموں کو چوما مشرف کر دیا۔

اللہ نے اُن گلیوں کو جن گلیوں کے کنکروں نے آپؐ کے تلووں کے بوسے لئے، مکرم کر دیا۔

آج لوگ بڑی حسرت سے کہتے ہیں، عقیدت سے لبریز لہجے میں گڑگڑاتے ہیں کہ

اے کاش! ہم مدینہ کی گلیوں کے پتھر ہوتے، کہ کبھی تو آقا کے قدموں کے نیچے آئے ہوئے،

اے کاش! ہم آپؐ کی دہلیز کی چوکھٹ کی لکڑی ہوتے، کہ کبھی تو آپؐ نے ہم پر پاؤں رکھا ہوتا،

اے کاش! ہم آپؐ کے بستر کے تار ہی ہوتے، کہ کبھی تو آپؐ کے جسد مبارک سے مس ہونے کا شرف مل جاتا،

اے کاش! ہم مدینہ کی راہوں کے درخت ہی ہوتے، کبھی آپؐ کے ہاتھوں نے ہم کو چھوا ہوتا۔

اشرف مخلوقات ہونے کے باوجود مدینہ طیبہ کی محبت و عقیدت میں کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ کہتا ہے……

لیکن، حضرات!

یثرب، کیا تھا؟

دنیا کے عام قصبوں کی طرح کا ایک عام قصبہ،

کون پوچھتا تھا، یثرب کو……؟

یہ تو ساری میرے آقا ؐ کے دم قدم کی برکت ہے کہ آج یثرب، یثرب نہیں، مدینہ طیبہ بن چکا ہے،

قدم قدم پہ رحمتیں، نفس نفس پہ برکتیں

جہاں جہاں سے وہ شفیع عاصیاں گزر گیا

وہاں ہے رات ابھی تلک، جہاں نظر نہیں پڑی

وہاں وہاں سحر ہوئی، وہ جہاں جہاں گزر گیا

انؐ کے قدموں اور دُعاؤں کی برکت ہے کہ یثرب آج مدینہ منورہ، مدینہ طیبہ بن کر ایمان والوں کے لئے اطمینان قلب کا باعث بن چکا ہے۔

مدینہ، میرے آقاؐ کی دعاؤں کی برکت سے مکہ مکرمہ کی طرح ”حرم“ بن چکا ہے،

رحمتیں اور برکتیں، تو آپؐ کے جلو میں چلا کرتی تھیں،

کون ہے، کائنات میں …………؟

جو انگلی اٹھائے اور اللہ اس کی اٹھی انگلی کی لاج رکھ کر آسمان کے چاند کو دو ٹکڑے کردے،

کون ہے؟

جو کھاری کنویں میں تھوکے اور اللہ اس کے تھوک کی برکت سے کھاری کنویں کو میٹھا کر دے،

کون ہے؟

جو کسی پکوان میں اپنا لعاب ِدھن ڈالے اور اللہ اس کھانے میں اتنی برکت ڈالے کہ لوگ کھاتے چلے جائیں مگر کمی واقع نہ ہو،

کون ہے،

جو نابینا کی آنکھ میں تھوک لگائے اور نابینا اس تھوک کی برکت سے بینا ہوجائے۔

کون ہے، کائنات میں …………؟

جو زمین سے عام کنکر اٹھائے، اور وہ کنکر اس کی ہتھیلی پر آکر ”تسبیح“ کرنا شروع کردیں،

کون ہے، بھلا …………؟

جس کی انگلیوں سے نہروں کی طرح پانی جوش مارکر بہنے لگے۔

کون ہے…………؟

کہ جس نے، جس حصے پر نماز ادا کی ہو، اللہ تعالیٰ نے اسے ”روضۃ من ریاض الجنۃ“، (جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ) بنادیا ہو

کون ہے؟

جس نے ایک قبرستان میں ہاتھ اُٹھاکر دُعا کی ہو، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ”جنت البقیع“ بنا دیا ہو………… ہاں، ہاں، بتاؤ تو ذرا …………کون ہے؟

راکبِ ذھانت و فطانت

مرکب عدالت و امامت

مجسمہ ئ امانت و دیانت

صاحب اقبالیت و بداعیت

مطہر و منور، محسنِ انسانیت

میرے آقاؐ، میرے مولا ؐ کے سوا ……؟

کوئی نہیں، کوئی نہیں، ربِ کعبہ کی قسم کوئی نہیں!

جب کوئی نہیں، تو پھر کون ہے؟ جو آپ کی تعریف کا حق ادا کرپائے؟

اللہ کے وہ محبوب، اللہ کے وہ مرغوب، کائنات میں سب سے افضل، اشرف، اکمل، کامل اور مکمل زندگانی والے کہ جس نے لطافت سے، آپؐ کو دیکھ لیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر جہنم کی آگ کو حرام کردیا ہے۔

آپ ؐ تو وہ ہیں کہ جن کے بارے میں حسانؓ نے کہا:

واحسن منک لم ترقط عین

واجمل منک لم تلد النساء

خلقت مبرا من کل عیب

کانک قد خلقت کما تشاء

کہ اے آقا! آپ ایسے خوب صورت، خوبرو، خوش جمال، خوش خصال، صاحب جمال، صاحب کمال کہ کمالات کے کمال کو پہنچے ہوئے اور حسن صفات کے اتمام کو پہنچے ہوئے۔ آپؐ جیسا خوبرو، خوبصورت، آپ جیسا سوہنا، من موہنا، چندا کا روپ، سندر سروپ، کائنات کی کسی آنکھ نے دیکھا ہی نہیں،

اور آپ جیسا حسن و جمال کا پیکر، رعنائیوں کا مرکب، کائنات کی کوئی آنکھ کس طرح دیکھ سکتی ہے؟

کہ آپ جیسا ضیاء پاشیوں کا مجمع، حسین و جمیل، وجیہ و شکیل کائنات کی کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔

آپ عیوب سے مبرا، نقائص سے مصفا، خامیوں سے پاک، کجیوں سے صاف، ایسے پیدا ہوئے کہ آقا! ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے خالق نے آپ کو آپ کی مرضی کے مطابق پیدا کیا ہو۔“

آپ ؐ تو وہ ہیں کہ جن کے بارے میں حضرت جبریل ؑ گواہی دیتے ہوئے کہتے ہیں۔

”قلبت مشارق الارض و مغار بھا

لم ارمثل محمدﷺ“

حضرت جبرائیل کے اس کہے ہوئے کا ترجمہ ایک فارسی شاعر نے یوں کیاکہ

”آفاقہا گردیدہ ام

بسیار خوباں دیدہ ام

مہر بتاں لرزیدہ ام

لیکن تو چیزے دیگری“

یعنی میں مشرق سے مغرب تک اُڑا،

میں شمال سے جنوب تک گیا،

میں نے ہر دور کے صاحبانِ جمال بھی دیکھے، صاحبانِ کمال بھی دیکھے

سوہنے بھی دیکھے، من موہنے بھی دیکھے،

شان والے بھی دیکھے، اونچے مقام والے بھی دیکھے،

بڑے سے بڑا دیکھا، اونچے سے اونچا دیکھا

دنگ کردینے والے، بڑے بڑے دبنگ دیکھے،

قسما قسم دیکھے، رنگ برنگ دیکھے،

لیکن، اے مسجد نبوی کے کچے صحن میں بیٹھ کر، آسمان کے چاند کو شرما دینے والے! تجھ سے بڑھ کر نگاہوں میں کوئی آیا ہی نہیں،

تیرے بنا، دل میں کوئی سمایا ہی نہیں“……

اوروں کی بات چھوڑیں، خود نبی کائناتؐ نے فرمایا ”ایک روز میں وادی ئ بطحا“ میں آرام کر رہا تھا، میری آنکھیں سو رہی تھیں، دل جاگ رہا تھا، کہ ایسے میں دو فرشتے میرے پاس آئے، ایک فرشتے نے دوسرے سے پوچھا ”کیا یہ وہی ہیں جن کی طرف ہم کو بھیجا گیا ہے؟

دوسرے فرشتے نے کہا:

”ہاں ہاں! یہی تو ہیں جن کی طرف ہم کو بھیجا گیا ہے!“

(آپؐ نے فرمایا) پھر ایک ترازو قائم کیا گیا، اس کے ایک پلڑے میں مجھ کو رکھا گیا دوسرے پلڑے میں ایک عام شخص کو رکھا گیا۔ میرا پلڑا بھاری رہا،

پھر ایک کی جگہ دس کو میرے ساتھ تولا گیا، میں تب بھی وزنی ٹھہرا،

پھر 10 کی جگہ 100 کو میرے ساتھ ترازو کیا گیا، میرا پلڑا تب بھی بوجھل ہی رہا،

پھر ایک ہزار کو میرے ساتھ تولنے کی بات ہوئی…… تو ایک فرشتے نے دوسرے سے کہا (کیا گن گن کے تول رہے ہو؟ ایک، دس، سو، ہزار، لاکھ، کروڑ کیا؟)

”لو وزنت الدنیا کلھالرجحھا“

کہ اگر ایک پلڑے میں، دنیا کے سارے مدبر، مفکر، مصلح، ریفارمر، فقیہ، مجتھد، امام، پیر، فقیر، صاحبانِ جمال و کمال بڑے سے بڑے غرض،ساری دنیا والے ڈال دیئے جائیں اور دوسرے پلڑے میں اکیلے آمنہ کے لال ہوں۔ ساری دنیا والے مل کر بھی اکیلے مدینے والے کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔“

کوئی آپؐ کی شان کس طرح بیان کرسکتا ہے؟ آپؐ تو وہ ہیں کہ جن کے بارے میں حضرت جابرؓ ارشاد فرماتے ہیں، ”ایک روز سیدالانبیاؐء مسجد نبوی سے باہر تشریف لائے، باہر بچے کھیل رہے تھے، آپ نے ایک ایک کے سر پہ ہاتھ رکھا، میرے سر پر بھی ہاتھ رکھا میرے گالوں کو چھوا تو میرے کلیجے میں اس طرح کی ٹھنڈک پڑی کہ وہ ٹھنڈک بیان نہیں کرسکتا، صرف محسوس کرنے کی شے تھی اور آپ کے ہاتھوں سے اس طرح خوشبو اٹھ رہی تھی، اس طرح کی خوشبو میرے جسم و جاں کو معطر کررہی تھی کہ ایسے دکھائی دیتا تھا جیسے آپ کا ہاتھ خوشبو کی نہر ہو۔

آقا تو وہ ہیں کہ ایک روز حضرت انس ؓ کے گھر میں گئے۔ اُن کی والدہ کا معمول تھا کہ رسول اللہﷺ کے جسم اطہر کے گرے ہوئے پسینے کے قطرات کو اکٹھا کر کے ایک بوتل میں جمع کر لیا کرتیں۔

ایک روز سیدالانبیاءؐ نے انسؓ کی ماں کو ان قطرات کو جمع کرتے ہوئے دیکھ لیا، فرمایا اے انس کی ماں! میرے پسینے کے قطرات کیوں جمع کررہی ہو؟

اس نے کہا، آقا! لوگ عطر استعمال کرتے ہیں اور میں عطر کی جگہ آپ کا پسینہ استعمال کرتی ہوں کہ دنیا کی کوئی خوشبو آپ کے پسینے کی خوشبو کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

”مَضَتِ الدھورُ وما اتین بمثلہ

ولقد اتی فعجزن عن نظراۂ“

یعنی”صدیاں بیت گئیں، زمانے لدگئے، کوئی آپؐ کی طرح کا نہ آیا، اور آپؐ آمنہ کے ہاں تشریف لے آئے تو اب قیامت قائم ہوجائے، کوئی آپؐ کی طرح کا نہ آئے گا“۔

آپؐ عدیم النظیر ہیں،

بے مثال ہیں،

لاجواب ہیں،

جب آپؐ جیسا کائنات میں کوئی آیا ہی نہیں، تو کون ہے جو آپؐ کی تعریف کا حق ادا کر پائے؟

کون ہے، جو آپؐ کی شان، آپؐ کے شایانِ شان، بیان کرسکے؟

کوئی نہیں، کوئی نہیں …… یقینا کوئی نہیں!

کوئی آپؐ کی سیرت کو اور آپؐ کی نعت کے حق کو کس طرح ادا کرسکتا ہے؟ کہ آپؐ تو وہ ہیں جن کے بارے میں کسی کہنے والے نے کہا،

یا صاحب الجمال و یا سید البشر

من وجھک المنیر لقد نور القمر

لایمکن الثناء کما کان حقہ

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

”آقا! آپ حسن جمال والے، آپ کمالات کے کمال والے،

کائنات کا کوئی شخص آپ کے جمال کی وجہ سے، آپ کے کمال کی وجہ سے، آپ کے کمالات کے کمال کی وجہ سے، آپ کا مقابلہ ہی نہیں کرسکتا کہ آپ اپنے جمال و کمال کی وجہ سے ساری کائنات کے سردار ٹھہرائے گئے ہیں،

آقا چاند بھی چمکتا ہے تو گویا آپ کے چہرے کی ضیا پاشیوں اور کرنوں کی تابانیوں سے حصہ لے کر چمکتا ہے۔

کائنات کا کوئی شخص آپ کی تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتا، کہے گا تو بس یہی کہے گا،

”کہ“ بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“

یعنی ”عرش والے کے بعد اگر کائنات کے اندر سب سے زیادہ کسی کی تعریف کی جاسکتی ہے تو صرف مدینہ کے تاجدارؐ کی، کی جاسکتی ہے اور کسی کی نہیں“۔ (ﷺ)

مزید :

ایڈیشن 1 -