ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں

ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں

  

امریکہ کے بتیس ارکانِ کانگرس نے جن میں ڈیمو کریٹک نامزدگی کے صدارتی امیدوار برنی سینڈرز بھی شامل ہیں ایران پر امریکی پابندیاں معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے امریکی وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کو ان ارکان کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سخت پابندیاں کورونا کی وبا سے نپٹنے میں رکاوٹ ہیں خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا تنازع ایرانی عوام کی مدد میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے جو وبا سے شدید متاثر ہیں ایران میں 50 ہزار کے لگ بھگ لوگ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور تین ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں، ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ عوامی تعاون کے نتیجے میں کورونا کے خلاف ہماری کوششیں کامیاب ہوئی ہیں ملک کے کئی صوبوں میں نئے مریضوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور بہت سے مریض صحت یاب ہو رہے ہیں۔

اس سے پہلے بھی پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ملک یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ امریکہ، ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں ختم کرے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تو یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ کورونا وبا کے زمانے میں ہر قسم کی جنگی کارروائیاں ختم کر دی جائیں لیکن یہ مطالبہ ابھی تک صدا بہ صحرا ثابت ہوا ہے ایران کے خلاف امریکی پابندیاں بھی اپنی جگہ قائم ہیں اور دنیا میں جنگی کارروائیاں بھی ہو رہی ہیں، کشمیر کی کنٹرول لائن پر بھارت مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس میں بے گناہ شہری حسب معمول متاثر ہو رہے ہیں، اب امریکی ارکانِ کانگرس کی طرف سے پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ منظرِ عام پر آیا ہے تو امید کرنی چاہئے کہ امریکی حکومت اپنے ارکان کے اس مطالبے پر غور کرے گی۔

امریکی پابندیوں سے ایران کی معیشت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ صدر اوباما کے زمانے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جو نیوکلیئر معاہدہ ہوا تھا اس کے بعد کچھ عرصے کے لئے پابندیاں نرم ہوئیں تو دنیا بھر کی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار ایران کے ساتھ کاروبار کے لئے متحرک ہو گئے تھے، ایران نے امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ اور یورپی کمپنی ایئربس کے ساتھ نئے طیارے خریدنے کے معاہدے کئے تھے کیونکہ پابندیوں کی وجہ سے ایرانی ہوا بازی کی صنعت بری طرح متاثر ہو گئی تھی، بہت سے طیارے فالتو پرزے نہ ملنے کی و جہ سے گراؤنڈ ہو گئے تھے لیکن ابھی ایسے معاہدے ہو رہے تھے اور طویل المیعاد معاہدوں کے اثرات نظر آنا شروع ہوئے تھے کہ صدر ٹرمپ آ گئے اور انہوں نے آتے ہی ایران کے خلاف اقدامات کا اعلان کر دیا۔ نیو کلیئر ڈیل یک طرفہ طور پر ختم کرایا اور نئی پابندیوں کا آغاز کر دیا جو اب تک جاری ہے۔

دنیا کے بہت سے ملکوں کے مطالبے کے باوجود امریکی صدر نے پابندیوں کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا تاہم اب پہلی مرتبہ ارکانِ کانگرس میدان میں آئے ہیں خود امریکہ میں کورونا کے اثرات بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ بدھ کو ایک ہی دن میں ایک ہزار اموات واقعہ ہو گئیں اور ایسی اطلاعات بھی ہیں جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ لاکھوں افراد اس وبا کا لقمہ بن جائیں گے، امریکی نائب صدر مائیک پنس نے کہا ہے کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ متوقع اموات کو ایک لاکھ تک محدود کر دیا جائے ورنہ خدشہ ہے کہ یہ تعداد لاکھوں میں چلی جائے گی، امریکہ جیسے ملک میں فیس ماسک کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور صدر ٹرمپ کو یہ اپیل کرنی پڑی ہے کہ امریکی شہری منہ ڈھانپنے کے لئے سکارف کا استعمال کریں۔ اس سے یہ اندازہ کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آتی کہ ایران جیسا ملک جو سالہا سال سے امریکی پابندیوں کا شکار ہے وہاں کورونا کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری سازو سامان کی قلت کا کیا عالم ہوگا، اس لحاظ سے ارکان کانگرس کا یہ مطالبہ بروقت بھی ہے اور امریکہ کے لئے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کے تحت ایران کے خلاف پابندیاں ختم کر دے۔

امریکہ اور ایران کے تعلقات اس وقت سے ختم ہیں جب سے ایران میں شاہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا ہے۔ امریکہ نے بہت کوشش کی کہ ایران کی حکومت مستحکم نہ ہو سکے، انقلاب کے فوراً بعد ایران پر عراق کا حملہ اس بات کا غماز تھا۔ آٹھ سال سے زیادہ عرصے تک یہ جنگ جاری رہی وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی پھیلی، لاکھوں انسان جنگ کی بھٹی کا ایندھن بن گئے، کئی عرب ممالک کا سرمایہ اور دوسرے وسائل بھی عراق کو میسر تھے لیکن ایران کی حکومت کا خاتمہ نہ کیا جا سکا، آٹھ سال کی جنگ میں دوبار ایران میں انتخابات بھی منعقد ہوئے اور منتخب لوگ کاروبار حکومت چلاتے رہے، ایران نے انقلاب کے بعد اپنے لئے جو نظام وضع کیا ہے اس سے دنیا کے کئی ملکوں کو اختلاف ہو سکتا ہے، خود ایران میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جنہیں یہ نظام پسند نہیں، حکومت کے مخالفین نظام بدلنے کی کوششوں میں بھی لگے ہوئے ہیں۔ انہیں ایران مخالف ملکوں کی امداد بھی حاصل ہے لیکن اب تک مخالفین کو کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ امریکہ بھی ایرانی حکومت بدلنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھ رہا، بر ملا یہ کہا جا رہا ہے کہ ایرانی عوام کی مشکلات کا سبب ایرانی حکومت ہے جو اپنے عوام کو بھوکا مار رہی ہے۔ پابندیاں بھی اس لئے ختم نہیں ہو رہیں کہ امریکہ سمجھتا ہے یہ سلسلہ جاری رہا تو ایران گھٹنے ٹیک دے گا، یہ تو معلوم نہیں کہ صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کی یہ خواہش پوری ہوتی ہے یا نہیں لیکن اب ارکانِ کانگرس نے بھی دنیا کے اس مطالبے کے حق میں اپنا وزن ڈال دیا ہے اور پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تو امید کرنی چاہئے کہ صدر ٹرمپ اپنا پندار کا صنم کدہ ویران کر کے یہ مطالبہ تسلیم کر لیں گے کیونکہ اب کی بار مطالبہ کرنے والے ان کے اپنے ارکانِ کانگرس ہیں اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے اندر بھی ایران کے حق میں آوازیں اُٹھنا شروع ہو گئی ہیں، کورونا کی تباہ کاریوں نے بھی یہ احساس اُجاگر کیا ہے اس لئے یہ بہترین وقت ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم کریں پابندیاں جاری رہیں تو یہ انسانیت کے خلاف سنگین جرم شمار ہوگا۔

مزید :

رائے -اداریہ -