بلدیاتی اداروں کی بحالی، مطالبہ درست ہے!

بلدیاتی اداروں کی بحالی، مطالبہ درست ہے!

  

حزب اختلاف کی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا سے متاثرہ افراد کی داد رسی، امداد اور ان کے ساتھ تعاون کے لئے بلدیاتی ادارے بحال کر دیئے جائیں کہ مقامی نمائندے کسی بھی فورس یا تنظیم کی نسبت بہتر طور پر عوامی مسائل سے آگاہ ہیں۔ یہ صورت حال ملک کے مختلف صوبوں میں مختلف ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں میئر موجود ہیں۔ خیبر پختون خوا اور پنجاب میں نئے بلدیاتی قوانین موجود ہیں۔ تاہم بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہونا ہیں۔ کے پی کے میں ان اداروں کی مدت پوری ہوئی جبکہ پنجاب میں یہ ادارے نئے قانون کے باعث ختم کر دیئے گئے۔ حالانکہ ان کی مدت کافی باقی تھی۔ اسی طرح سندھ میں بھی نیا بلدیاتی قانون بنا اور بلدیاتی ادارے انتخابات کے منتظر ہیں۔ یوں کسی بھی صوبے میں یہ بنیادی عوامی رابطے والے ادارے نہیں ہیں۔ مطالبہ کرنے والی دو جماعتوں میں سے پیپلزپارٹی خود بھی سندھ میں برسر اقتدار ہے اور وہاں یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دیئے جائیں۔ ایم۔ کیو۔ ایم تو میئر کے اختیارات کے حوالے سے تنقید کرتی چلی آ رہی ہے۔جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو چیئرمین وزیر اعظم پاکستان بلدیاتی اداروں کے زبردست حامی اور نچلی سطح تک اختیارات کی تقسیم کو عوامی مسائل کا حل جانتے ہیں۔ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ خیبرپختون خوا میں انتخابات التوا میں ڈال دیئے گئے۔ پنجاب میں نئی قانون سازی کر کے ادارے توڑ دیئے گئے کہ بھاری اکثریت کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے تھا اسی طرح بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے۔ وہاں بھی یہ ادارے غیر فعال ہیں۔ یہ صورت حال غور و فکر کی متقاضی ہے اور بحالی کا مطالبہ بر حق ہے کہ بلدیاتی نمائندے مقامی ہوتے اور سب کو جانتے ہیں۔ مطالبہ جائز ہے۔ اگرچہ فی الحال انتخابات ممکن نہیں تاہم یہ ادارے بحال کئے جا سکتے ہیں جو انتخابات تک کام کریں یوں کسی فورس کی ضرورت نہیں ہو گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -