کرونا، نئے اختلاف اور عوام کی حالت!

کرونا، نئے اختلاف اور عوام کی حالت!
کرونا، نئے اختلاف اور عوام کی حالت!

  

جراثیمی وباء کرونا وائرس کا پھیلاؤ ابھی جاری ہےّ آج بھی پوری دنیا میں یہی چرچا ہے۔ متاثرین بڑھ رہے ہیں تو اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم ہمارے ملک پاکستان پر شاید اللہ مہربان ہے یا پھر ہم وسائل کی کمی کے باعث متاثرین کو تلاش نہیں کر پا رہے۔ ایسا احساس ہونے لگا ہے کہ جو لوگ خود سے رجوع کریں، ان میں سے لوگوں کے ٹیسٹ لے کر ہی مثبت نتیجے والے تلاش کئے جاتے ہیں۔حالانکہ ضرورت تو یہ ہے کہ عوام میں سے متاثرین تلاش کرنے کے لئے ٹیسٹ گھروں پر کئے جائیں، اس سلسلے میں وسائل نہ ہونے کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ وفاق اور صوبوں نے اپنے اپنے طور پر بڑے بڑے ریلیف پیکیجز کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ عوام تو منتظر ہے کہ لاک ڈاؤن میں کچھ سہولت ملے گی۔ لیکن روک تھام کو زیادہ موثر بنانے کے لئے یہاں تو مزید سختی شروع کر دی گئی اور لاک ڈاؤن کا وقفہ بھی 14اپریل تک بڑھا دیا گیا۔

جہاں تک ٹیسٹ کٹوں اور ٹیسٹ کا تعلق ہے تو یہاں بھی تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہماری پنجاب یونیورسٹی کے سائنس دانوں اور انجینئرنگ یونیورسٹی کی طرف سے سستی ٹیسٹ کٹس بنانے کا دعویٰ کیا اور تیاری بھی شروع کی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ہر دو یونیورسٹی والوں کی کاوش کا فوری ٹیسٹ کرکے ان کو سامان اور آلات مہیا کئے جاتے لیکن یہاں تو تنازعہ پیدا ہو گیا، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری نے خبردارکیا کہ غیر معیاری کٹس آ گئی ہیں۔ ان سے کیا گیا ٹیسٹ خطرناک ہو گا کہ یہ منفی کو مثبت اور مثبت کو منفی بھی بنا سکتی ہیں۔ اس کے جواب میں ڈی ایم اے کے چیئرمین نے کہا کہ ان کے پاس کٹس رجسٹرڈ والی اور اصل ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ دونوں اصحاب درست کہہ رہے ہیں کہ فواد چودھری نے بازار کی بات کی تو چیئرمین ڈی ایم اے نے ان کٹس کا ذکر کیا جو ان کو چین سے موصول ہوئیں۔ اگرچہ صورت حال یہ ہے کہ نجی لیبارٹریاں کرونا ٹیسٹ نو ہزار روپے میں کر رہی ہیں، ان میں مخصوص امراض کے ہسپتال بھی شامل ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ ان کے پاس اصل کٹس ہیں یا غیر معیاری ہیں؟ بہرحال زیادہ قیمت کا جواز یہ ہے کہ ایسے مخصوص ٹیسٹ والی مشین بہت ہی مہنگی ہے۔ بہرحال شکوک تو پیدا ہوئے۔ بہتر ہوگا کہ اس کی وضاحت کر دی جائے اور متاثرین کو خود تلاش کیا جائے۔

اس حوالے سے ایک اور خبر نے بھی عوامی توجہ مبذول کی اور اس مسئلہ پر بھی ردعمل شروع ہو گیا۔ تبلیغی مرکز رائے ونڈ میں مشتبہ افراد کا ٹیسٹ ہوا تو بعض حضرات مثبت ثابت ہوئے۔ اس پر رائے ونڈ کا مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا اور مزید ٹیسٹ ہوئے تو 26افراد کے نتائج مثبت آ گئے۔ اس حوالے سے بعض افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس پر سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی بہت جذباتی ہو گئے اور خود ویڈیو بیان جاری کیا کہ تبلیغی جماعت والے لاوارث نہیں ہیں، یہ پُرامن اور نیک لوگ ہیں، جو اللہ کے دین کی تبلیغ کے لئے گھروں سے نکلتے ہیں، ان کی توہین برداشت نہیں، گرفتار لوگ فوراً رہا کئے جائیں۔ اسی حوالے سے مولانا طارق جمیل نے وضاحت کی کہ تبلیغی مرکز بند ہے۔ سب سے کہا گیا ہے کہ وہ خود کو محدود رکھیں، تاہم عوامی تاثر اور مشاہدہ یہ ہے کہ اب بھی بعض تبلیغی ٹیمیں محلوں میں جا کر تبلیغ کے فرائض انجام دے رہی ہیں، ان کو بھی واپس بلایا جائے۔ ویسے یہ کچھ غیر مناسب تنازعہ ہے۔ ہم سب کو احتیاط والی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ بہرحال انتظامیہ نے تاحال رائے ونڈ سٹی کا لاک ڈاؤن جاری رکھا ہے اور طبی عملہ ٹیسٹ لے رہا ہے۔ فی الحال تھوڑا وقت اشیاء خور و نوش کی خریداری کے لئے وقفہ دیا ہے۔ ایسے تنازعات سے بچنے کی ضرورت ہے۔

شہریوں میں ایک اور احساس تحفظ بھی بڑھا ہے، قدرت کی طرف سے موسم میں تبدیلی نظر آ رہی ہے، بارشوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اب ختم ہو رہا ہے اور دھوپ چمکنے لگی ہے۔ یہ تصور موجود ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے سے کورونا وائرس کی اپنی موت واقع ہو جائے گی کہ 37،38 سینٹی گریڈ میں یہ مر جائے گا، تاہم ڈاکٹر حضرات کا ایک بڑا طبقہ یہ تھیوری تسلیم نہیں کرتا کہ یہ وائرس سرد علاقوں میں محفوظ اور گرمی میں بے اثر ہو جائے گا، ایسے حضرات کا موقف ہے کہ وائرس اپنی مدت پوری کرتا ہے۔ اس سے اتنی احتیاط کی جائے کہ یہ ایک سے دوسرے کو متاثر کئے بغیر اپنی مدت پوری کر لی۔ یہ سب ماہرین ہی کا کہنا ہے۔ اگر اس سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے تو عام لوگ بے قصور ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس حوالے سے بھی عوام کو آگاہ کیا جائے۔

ہم نے انہی سطور میں گزارش کی تھی کہ ضروری اور ہنگامی فرائض ادا کرنے والے سارے عملے کو حفاظتی لباس اور سامان مہیا کیا جائے کہ وہ اپنے فرائض تسلی سے سرانجام دیں، لیکن یہاں تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ طبی عملے کو حفاظتی لباس اور سامان نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے پانچ نرسوں میں کرونا کی تصدیق ہو گئی اور متعدد ڈاکٹر بھی متاثر ہیں۔ یہ درست ہے تو افسوس ناک بات ہے، اگر ”مسیحا“ ہی متاثر ہو گئے تو علاج کیسے ہوگا۔ حکومت کو فوری طو رپر توجہ دینا ہوگی کہ یہاں تو ایسی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے، جس میں دو خاتون ڈاکٹر پولی تھین کی ٹوپیاں اور لباس پہنے ہوئے ہیں، اس کی تحقیقات ہونا چاہیے اور کوششوں کو مربوط ہونا چاہیے۔

اللہ کے حضور استغفار اور توبہ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ہم سب کو مجموعی اور اجتماعی طور پر ایسا کرنا چاہیے کہ اللہ رحم فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -