پاکستان ففتھ جنریشن وار کا شکار

پاکستان ففتھ جنریشن وار کا شکار

  

پاکستان میں اب ففتھ جنریشن وار Fifth Generation War یا Hybrid Warfare کا تذکرہ آئے دن کسی نہ کسی ٹاک شو یا سوشل میڈیا میں سامنے ا ٓجا تا ہے،مگر ابھی بھی بہت سے لو گ اس سے نا واقف ہیں کہ آخر یہ ففتھ جنریشن وار ہے کس بلا کا نام……یہ ہماری سوسائٹی کے سوشل Normsاور Valuesکو تباہ کر نے کے ساتھ ساتھ ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو بھی نقصان پہنچانے کی کو شش کر رہی ہے۔حقیقت میں ہم اس وقت حالت جنگ اور ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہیں،ہم میں ہر کو ئی اس جنگ میں شعوری اور لا شعوری طو ر پر شامل ہے۔ ففتھ جنریشن وارپر بات کرنے سے پہلے میں کچھ تعار ف باقی جنر یشن وار کا بھی بتاتا چلوں۔مختصر اً پہلی وار اس وقت کو کہا جا تا ہے جب جنگیں پیدل ہوا کر تی تھیں اور اس میں ہتھیار کے طور پر تلوار، نیزے،فوجی دستے، مہارت اور انفرادی قوت پر مشتمل دونوں دشمن ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوا کر تے تھے، جو زیا دہ تعداد اور مہارت میں ہوتا وہ جنگ جیت جا تا۔دوسری وار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس دور میں جنگوں میں توپ،مشین گن، رائفل اور ٹیکنالو جی کا استعما ل شروع ہوا۔

اس دور کو تاریخ میں Technology Warکہا جا تا ہے۔تیسری وار میں ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ دنیا میں خیالا ت اور چالوں کے ساتھ جنگیں ہو نا شروع ہو گئیں۔ان جنگوں میں جدید مشینری اور Aircraft کا استعما ل شروع ہوا۔جنگ میں زمینی،فضائی، سمندری راستے یا ایسی جگہو ں سے حملہ کیا جا تا تھا کہ مخالف قوت کو اس کا پتا نہیں چلتا تھا۔ چوتھی وار جو کہ بہت ہی خطرنا ک وار کہلا تی ہے اس میں اندرونی طور پر ملک کو کمزور کیا جا تا ہے اور دشمن کے بنیا دی ڈھا نچے کو تبا ہ کر نا شامل ہو تا ہے۔اس وار میں غیر ریا ستی قوت کی مدد سے جس طرح امریکہ نے Proxy Warکے ذریعے افغانستان میں Union Soviet کو شکست دی اور اس کے ٹکرے ٹکرے کر دیئے۔ ففتھ جنریشن وار جو کہ ہمارے دور کی وار ہے اور ہم، یعنی ملک کا ایک عام شہر ی بھی اس جنگ کا حصہ بنا یا جا تا ہے۔اس وار میں دشمن کے ذہنوں کے ساتھ جنگ کی جا تی ہے اور دشمن ملک کے ہر فرد پر کو شش کر تا ہے کہ اس کو اس کے ملک کے خلاف ہی جنگ میں استعمال کیا جا ئے۔اس وار میں دشمن کے لوگوں کے اندر خوف،لا لچ،حرص اور بے یقینی جیسے جذبات پیدا کیے جا تے ہیں۔دشمن اس وار کے لئے جوہتھیار استعمال کر تا ہے وہ سوشل میڈیا، الیکٹرونک میڈیا،کمپیوٹر ٹیکنالوجی، Fake News، Disinformation، اخبارات،ٹی وی چینل اور صحافی یہ سب کرائے پر دستیا ب ملتے ہیں۔

اس وار میں فوج،ایجنسیوں،حکو متی اداروں اور سیا سی اداروں کے خلاف ملک کے عوام کا استعمال کیا جا تا ہے۔اس جنگ میں زیا دہ تر لوگوں کو یہی پتا نہیں چلتا کہ دوست کو ن ہے اور دشمن کو ن؟ Facebook, Instagramاور Twitter وغیر ہ پر ایسی بحث شروع کر دی جا تی ہے جس سے لوگ مختلف گروپوں میں تقسیم ہوجا تے ہیں،جس سے آہستہ آہستہ معاشرے میں انتشار پھیلنا شروع ہوجا تا ہے،جس طرح آج کل پاکستان کے چینلز اور سوشل میڈیا کی حالت ہے،جس میں لوگوں کو بے یقینی اور مایو سی کی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔آپ سارا دن ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہیں شاید ہی کو ئی چینل ایک آدھ اچھی اور طبیعت کو خوشگوار بنا نے والی کو ئی خبر چلا دے، مگر وہ بھی آپ کو نہیں ملے گی۔ اس وار میں دشمن کی معیشت کو بھی ہر ممکن نقصان پہنچانے کی کو شش کی جا تی ہے۔ عوام کو منصوبوں کی ناکا می،قر ض،کر پشن اور تجا رتی بجٹ کا خسارہ جیسی خبروں میں الجھا ئے رکھا جاتا ہے۔اس میں دشمن کی نو جو ان نسل کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا تا ہے۔

جیسے پاکستان میں اس وقت سوشل میڈیا پر جو ہو رہا ہے، نوجوان Facebook & Instagram وغیرہ پر بیٹھ کر اپنے ہی لو گو ں کے خلاف اپنی ہی ریا ستی و نظریا تی سرحدوں اور اداروں کے خلاف بول رہے ہوتے ہیں۔ انہیں اس چیز کا احساس تک نہیں ہو تا کہ وہ اس وقت دشمن کے ساتھ مل کر اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچانے کی کو شش کر رہے ہیں۔ اس کی فنڈنگ ہمارے دشمن ملک NGO'S، ملٹی نیشنل کمپنیاں،مغر بی ممالک کے Think Tanks اور غیر ملکی ادارے مل کر کر تے ہیں۔

ففتھ جنریشن وارکی موجو دہ سب سے بڑی مثال جو آج کل ٹاک شوز سے لے کر سوشل میڈیا تک زیر بحث ہے وہ ”عورت مارچ“ ہے۔ چند خواتین مل کر سٹرکوں پر نکل کر خود ہاتھوں میں بڑے ہی عجیب و غریب جملوں کے Cards ساتھ، جیسے ”میرا جسم میری مرضی“اپنا کھانا خود گرم کرلو”لال لا ل ترانہ بھی اپنا،نعرہ بھی اپنا“اور کبھی یہ جملے جس میں پاکستان کے تمام مردوں کو کہا جا تا ہے کہ تم "Rapist" ہو، جیسے سلوگنزکے ساتھ خود کو دشمن کے ساتھ مل کر اپنے ہی معاشرے کی Valuesاور Norms کو تباہ کر نے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر 8مارچ کوعورت مارچ ہو تا ہے تو اس کی فنڈنگ NGO'Sکرتی ہیں اور سلوگنز بنوائے جا تے ہیں اور اپنے ہی وطن کی بیٹیوں کو ٹرینڈ کیا جا تا ہے کہ وہ سٹرکوں پر آکر خود ہی اپنی تذلیل اور خود کوSecularاور Liberal کہلوانے میں فخر محسوس کر یں۔

یہ کچھ عورتیں،جن کی تعداد پورے پاکستان میں ایک لا کھ بھی نہ ہو گی، مگرانہوں نے ففتھ جنرریشن وار کا حصہ بنتے ہو ئے مقدس رشتوں کا مذاق بنا یا اور آزادی کے نا م پر جنسی بے راہ روی کو فروغ دیا۔پاکستان میں 95فیصد عوام کو ابھی تک نہیں پتا چلا کہ ہم اور ہمارا ملک اس وقت ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے اور خاص طور پر ہمارے نوجوان طبقے کو بہت ہی محتاط ہو کر معاملات سرانجام دینے ہوں گے۔ہمیں ففتھ جنریشن وار کی سازشوں سے باخبر رہنا ہو گا اور ہمارا دینی اور نظریا تی طبقہ جو ابھی تک سو رہا ہے اس کو بھی پوری طرح سے مثبت سوچ اور منصوبے کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔مولا علی کرم اللہ وجہہ نے کیا خوب فرما یا تھا کہ اگر حق کی پہچان کر نا چاہتے ہو توباطل کے تیروں پر نظر رکھو۔

مزید :

رائے -کالم -