موجودہ وبائی بحران میں علماء کا رویہ

موجودہ وبائی بحران میں علماء کا رویہ
موجودہ وبائی بحران میں علماء کا رویہ

  

"زمانہ (حالات) بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں "۔ (تغیر الاحکام بتغیر الزمان) کسی مریض کو ہسپتال لایا جائے تو طبی عملہ اس کی نبض دیکھتا ہے، درجہ حرارت کی پیمائش کرتا ہے، بلڈ پریشر کا جائزہ لے کر ممکن ہے، کوئی عام دوا دے دے۔ مریض کی حالت بگڑ جائے تو ممکن ہے، اسے ڈرپ لگا دی جائے۔ حالت بہتر نہ ہو تو ممکن ہے، اسے وینٹی لیٹر پر اور حتی کہ انتہائی نگہداشت والے حصے میں منتقل کر دیا جائے۔ علمائے کرام کا کام اس موجودہ بحران میں اس طریق کار سے کچھ مختلف نہیں رہا۔ فرق صرف اسباب اور پیمانہ جات کا ہے۔ آپ کو علماء کے فتاوی میں ایک تدریج نظر آئے گی۔ تفصیل سے قطع نظر یہ کہہ دینا کافی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک کے علماء نے اپنی اپنی حکومتوں کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا۔ ابتدا میں انہوں نے بعض علاقوں میں نماز جمعہ کے اجتماع پر یہ رائے دی کہ اس کی بندش شرعاً صحیح نہیں ہے۔ اس رائے میں ان کے ساتھ وبائی امراض کے طبی ماہرین بھی تھے۔" زمانے اور حالات کے بدل جانے سے احکام بھی بدل جاتے ہیں "۔ یہ مشہور فقہی قاعدہ ہے۔

ذرا آگے آئیں،جب خوف و ہراس کی فضا قدرے زیادہ ہو گئی، سعودی عرب اور مصر میں حکومتی فرامین کے تحت مساجد مکمل بند ہو گئیں تو پاکستان میں کسی حد تک اور ہندوستان میں بڑی حد تک حکومت اور رائے عامہ کے بڑھتے دباؤ کے باعث علماء نے موقع کی مناسبت سے، وہی طبی ماہرین کی طرح، ایک نیا فتویٰ دیا کہ مساجد میں اذان دی جائے گی, نماز باجماعت کا اتنا اہتمام ہوگا کہ صرف امام مسجد،مؤذن اور خادم عملہ وغیرہ نماز پڑھیں گے۔ عام نمازیوں کے ضمن میں علماء نے بالعموم خاموشی اختیار کی، حتیٰ کہ جامعہ اشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ انڈیا کے مفتی محمد نظام الدین رضوی صاحب سے استفتاء ہوا تو انہوں نے صحیح مسلم کی اس حدیث کا سہارا لے کر لوگوں کو گھروں ہی پر رہنے کی تلقین کی جس میں فتنوں کی بات اور ان سے بچنے کا تذکرہ ہے۔ انہوں نے مساجد کی بندش کے متعلق ایک لفظ بھی نہیں کہا کیونکہ ہندوستان میں بالعموم اگر یہ کار دشوار ہے تو اس سیکولر ملک کے مسلمانوں کو کھل کر مساجد میں آنے کی دعوت دینا ممکن ہی نہیں ہے۔

بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ علماء نے ایک طرف تو اپنی اپنی حکومتوں سے پورا تعاون کیا تو دوسری طرف اس مہلک وبا سے عوام الناس کو استثنیٰ دے کر خود اس وبا کا نشانہ بننے پر راضی ہوگئے۔ کیوں ہوئے؟ کیا وہ جنون کا شکار ہیں؟ کیا وہ باغی ہیں؟ کیا وہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہیں؟ ان سب سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ذرا دیر کے لیئے کسی فقہی و فنی بحث سے بچتے ہوئے اگر کہا جائے کہ مسجد میں نماز با جماعت اور نماز جمعہ کا اہتمام موجودہ حالات میں فرض کفایہ ہے تو یہ مہلک فرض ادا کرنے کو کیا علماء خود تیار نہیں ہو گئے؟ قارئین کرام آئیے! اس سوال کے ایک ہی ممکنہ جواب پر ہم آپ قناعت کرلیں اور انبیاء کے ان ورثا سے پیار کریں۔ جو تنخواہ اور بھتہ جات میں آپ عام زندگی میں ان لوگوں کو دیتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ رسک الاؤنس ہماری سائنسی لیبارٹریوں کے عام سائنٹیفک اٹنڈنٹ دن بھر اونگھنے کے عوض لے لیتے ہیں۔ انبیاء کے ان وارث لوگوں سے اشرافیہ اور "تحریک بندش مساجد" کے "مجتہدین" اور کیا چاہتے ہیں؟ اپنی جان تو یہ لوگ داؤ پر لگائے بیٹھے ہیں.اب ذرا دیر کے لئے فرض کریں، پتا چلتا ہے کہ فلاں مسجد یا تمام مساجد میں کسی حادثے سے تابکاری پھیل گئی ہے۔ یعنی ان مسجدوں میں وہی مہلک شعاعیں موجود ہیں جن سے ہیروشیما اور ناگاساگی تباہ ہوئے تھے تو میں نہیں سمجھتا کہ ملک کا کوئی ایک عالم دین بھی ایسی مسجد کے قریب جائے گا۔ خود قریب کیا جائے گا، وہ تو لوگوں کو بھی ایسی مسجد کے پاس جانے سے منع کر دے گا۔

تو کیا اس موجودہ عالمی وبائی ہیجان میں صرف ہمارے علماء ہی موت سے سہمی ہوئی اشرافیہ کے دشمن ہیں؟ کیا ہمارے علما ہی اسے وہم قرار دے رہے ہیں؟ آئیے! اس سوال کا جواب اقوام عالم میں سے تلاش کرتے ہیں۔ روس کے ایک پڑوسی ملک بیلاروس کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کوئی کلب، سینما، تھیٹر, اسکول, کالج, یونیورسٹی, دفتر, ریسٹورنٹ کچھ بند نہیں ہو گا۔ تمام کام اپنے معمول کے مطابق ہوں گے، اتنے معمول کے مطابق کہ صدر نے ملک کی سرحدیں بھی کھلی رکھیں جس کے باعث وہاں شیڈول کے مطابق ملکی سطح پر ہونے والے فٹ بال میچ دیکھنے کے لیے پڑوسی ملکوں کے شائقین بھی آ رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے علماء جیسی صدر کی اس "حماقت" کا ساتھ اس کے حزب اختلاف کے رہنما نے کھل کر دیا۔ دونوں کا کہنا ہے یہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔

اپنے اپنے کام کرو۔ چینی سفیر سے ملاقات کے دوران میں صدر لوکاشنکو نے کہا " ہمیں دہشت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔کسی طرح کے احتیاطی اقدامات کی بھی ضرورت نہیں۔ ہم بس اپنا اپنا کام کریں گے۔" اس ملک میں کوئی دو سو کے لگ بھگ متاثرین کرونا ہیں جن میں سے ایک چوتھائی صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ایک دو ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر سویڈن ہے جو دنیا کے ان 20 ممالک میں سے ایک ہے جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ وہاں بھی تعلیمی ادارے،کلب، رستوران اور تمام تفریحی مقامات معمول کے مطابق کھلے ہوئے ہیں۔ برازیل کو لے لیجیئے۔ وہاں بھی کم و بیش سویڈن جیسی صورت حال ہے۔ وہاں کے صدر بھی صدر لوکاشنکو کی طرح شہر بندی اور دیگر پابندیوں کے خلاف ہیں۔ ملک میں معمول کے مطابق کام ہو رہے ہیں،اگرچہ سویڈن اور بیلاروس کے برعکس صدر پر تنقید تو ہو رہی ہے لیکن اتنی نہیں کہ وہ امور ریاست بند کر دیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس مہلک عالمی وبا میں ہمارا ملک اور اس کے عوام کسی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ طبی ماہرین کی دی گئی تمام ہدایات پر عمل کرنا واجب ہے۔ جان بچانا اور جان کی حفاظت عقلی اعتبار سے تو واجب ہے ہی،شرعی لحاظ سے بھی یہ مقاصد شریعت میں سے ایک ہے۔انہی مقاصد شریعت میں سے دین کی حفاظت بھی ایک شرعی مقصد ہے۔ گویا بظاہر ایک مقصد کا حصول طبی ماہرین کے ذمے ہے۔ لیکن یہ رائے خام ہے۔ خام فکر اور کچی پکی معلومات پر انحصار کیا جائے تو غلط نتائج نکلتے ہیں۔ سیدنا علی المرتضی سے مروی ایک حدیث ہے:" جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے." اس ایک حدیث سے کوئی نتیجہ نکالنا چاہے تو جواب یہی آتا ہے کہ مال پر بھلے سانپ بن کر بیٹھو، مارے گئے تو شہید کہلاؤ گے۔

اس سے ملتے جلتے اجتہادات آج کل فیس بک اور اس نوع کی دیگر جگہوں پر خوب ملتے ہیں۔ ان "مجتہدین"کی آراء سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حرف آخر ہیں۔ حالانکہ راست فکرعلمائے دین نے کبھی اپنی رائے کو حرف آخر قرار نہیں دیا۔ اس زیرنظر مسئلے کو دیکھ لیجیے، علماء کی رائے موقع بموقع اور لمحہ بہ لمحہ بتدریج تبدیل ہوتی رہی اور آئندہ چل کر، ممکن ہے، کوئی ایسی رائے سامنے آجائے جو ابتدائی رائے کی مکمل نفی ہو۔ اس مسلے کا ایک دوسرا پہلو نگاہوں سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے۔ آم کا پیڑ اسکردو میں پھل نہیں دیتا اور اسکردو کا سیب ملتان جاکر بوکھلا جائے گا۔ پردے یا نقاب کو لے لیجئے۔ آج کے افغانستان کا روایتی برقع میری ماں بھی لیا کرتی تھیں۔ آج ہمارے اس لباس کی نوعیت بدل جانے سے ہماری خواتین دیگر انداز کا پردہ کرتی ہیں۔پردہ وہی ہے لیکن ترکی کا پردہ ایران اور پاکستان سے مختلف ہے۔ یہ سب اسلام ہی کے رنگا رنگ ذائقے اور خوشبوئیں ہیں۔ کرونا کا مسئلہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ جو رائے آزاد، جمہوری اسلامی ملک پاکستان میں دی گئی ہے، علما وہی, رائے, برطانیہ میں نہیں دے سکتے. ہندوستان کا معاملہ ان دونوں ملکوں کے بین بین ہے۔

اس سنگین مسئلے کا ایک اور پہلو اس سے زیادہ توجہ طلب ہے۔ کسی زمانے میں محال تھا کہ ڈاکٹر حضرات مریض کو اس کا مرض مہلک ہونے پر اسے آگاہ کرتے۔ مریض کے اہل خانہ کو بھی وہ اتنا ہی آگاہ کیا کرتے تھے جتنا احتیاط کا تقاضا ہوتا تھا تاکہ پیش بندی ہوسکے۔ آج کل صورت حال خاصی بدل چکی ہے۔ ممکن ہے، طبی اخلاقیات میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہو لہٰذا اس بابت ماہرین طب رائے دیں تو وہی رائے درست ہو گی، مجھ عامی کا تبصرہ بے ثمر ہو گا۔ لیکن اسے کیا کہیں گے کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں میں سے کوئی ایک تان اڑاتا ہے: "اے خبردار! احتیاط کرو، دو کروڑ آدمیوں کے مرنے کا اندازہ ہے۔" دوسرا رہنما محض مصرع اٹھا لے تو میں خاموش ہو جاؤں لیکن وہ نیلام گھر میں لگنے والی بولی کی طرح اس میں چالیس پچاس لاکھ اموات کا اضافہ کر کے موت کے خوف سے سہمے ہوئے گوگل محققین کو مرنے سے پہلے ہی مار دیتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ دل دہلا دینے والے ان بیانات کا سب سے زیادہ اثر ملک کی اشرافیہ لے رہی ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ اس طبقہ میں سے کسی کا فون، واٹس ایپ یا دیگر صوتی پیغام نہ آئے جس سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ دنیا کی رنگینیوں میں گلے تک دھنسے ہوئے یہ لوگ، جو تسبیح ومناجات بھی کرلیتے ہیں، موت سے کس قدر خوفزدہ ہیں۔ انہیں جتنا زیادہ خوفزدہ کریں گے،اتنا ہی وہ غلط فیصلے کریں گے۔

مثالی راہنما کے متعلق جو کچھ میں نے پڑھا سمجھا ہے، یہی ہے کہ کسی ہیجان، بحران اور حالت خوف میں مثالی راہنما لوگوں کے لئے امید کا منارہ ہوا کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو محتاط رکھ کر ان کے حوصلے بلند کرتا ہے۔ بحرانی کیفیت میں وہ نجات کا استعارہ بن کر دمکتا ہے نہ کہ پست درجے پر موجود ان کے وہم کو دوچند کردے۔ اپنے ملک میں دیکھا جائے تو دونوں طرح کے رہنما پائے جاتے ہیں۔ اس کیفیت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اپنے اپنے ذوق اور اپنے اپنے میلانات کے مطابق عوام اپنے جیسوں کی پیروی کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ آج ہمارے علماء لوگوں کے لئے نہ صرف حوصلہ مندی کا پرچم بن گئے ہیں بلکہ موقع کی مناسبت سے لمحہ بہ لمحہ بدلتے حالات میں وہ فوری فیصلے بھی کر رہے ہیں۔ قارئین کرام! آپ اپنے علماء پر اعتماد کیجیے۔ یہ انبیاء کے وارث ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -