کیا سوشل میڈیا قابلِ اعتماد ہے؟

کیا سوشل میڈیا قابلِ اعتماد ہے؟
کیا سوشل میڈیا قابلِ اعتماد ہے؟

  

یہ سوال جو میں نے کالم کا عنوان بنایا ہے آج کل کی قرنطینی فضا میں بہت اہم ہے۔ دن رات کے 24گھنٹے آپ جبری آئسولیشن میں گزارتے ہیں۔ نہ کسی سے ملنا جلنا اور نہ کسی کے ہاں آنا جانا۔ سوشل دوریاں بھی احتیاطی تدابیر کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ خود ساختہ خلوت اگرچہ عذاب ہے لیکن جب دوسری آپشن موت ہو تو یہ عارضی خلوت گزینی سو جان سے قابلِ عمل آپشن ہے۔ حضرت ضمیر جعفری کا ایک شعر یاد آیا:

مجھ سے اے بیوی ذرا کترا کے چل

اے مرے بچو ذرا ہشیار ”میں روزے سے ہوں“

دوسرے مصرعے میں اگر ردیف بدل کر ”میں خلوت میں ہوں“ کر دی جائے تو حسبِ حال صورتِ حال بن جائے گی…… جب آپ کسی کمرے میں بند ہو جائیں (اور چابی بے شک آپ کے پاس ہو) تو صرف تین چیزوں سے استفادہ کر سکتے ہیں …… ایک پرنٹ میڈیا، دوسری الیکٹرانک میڈیا اور تیسری سوشل میڈیا۔ آج کل سمارٹ موبائل ایک نعت سے کم نہیں۔ ایسی ایسی وڈیوز اور آڈیوز دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ تنہائی کی کربناکی (ایک حد تک ہی سہی) کم ہو جاتی ہے۔ ہر گھنٹے دو گھنٹے کے بعد جب موبائل دیکھتا ہوں تو اس پر واٹس آپ،فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام وغیرہ کے 15،20 نوٹی فیکیشنز نظر آتے ہیں جن کی تفصیل دیکھتا ہوں تو ”وڈیو / آڈیو گروں“ کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ بعض وائرل وڈیوز/ آڈیوز اس مہارت سے بنائی جا رہی ہیں کہ اصل اور نقل میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض وڈیوز بدیہی طور پر ایک مخصوص مقصد کو پیش نظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔ زیادہ تر یہ مقصد سیاسیات کے اردگرد گھومتا ہے لیکن بعض ایسی بھی ہیں جو آپ کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنے کی بجائے مِس انفارم / ڈِس انفارم اور ڈی ایجوکیٹ کرتی ہیں۔ میں نے گزشتہ تین چار کالم کرونا وائرس کی عالمگیر ماتمی فضا کی تاثیر زائل کرنے کے لئے ہلکی پھلکی تحریروں میں قلمبند کئے۔ ان میں ایک کا عنوان تھا: ”اوئے مختیاریا“…… یہ کالم ندیم افضل چن کی ایک وائرل آڈیو سن کر لکھا گیا تھا۔ اس مختصر سی (صرف 21سیکنڈز) آڈیو میں ”پیوند کاری“ کا امکان نظر نہیں آتا تھا۔پھر بھی میں نے اس امکان کو رد نہ کیا اور لکھا کہ چن صاحب کی آواز کی کاپی کرنا کوئی اتنا زیادہ مشکل کام نہیں۔ دو روز پہلے ایک ٹاک شوز میں جب ان کو ”مختیارے“ کا حوالہ دیا گیا تو نہ صرف انہوں نے برا نہ منایا بلکہ دوسرے شرکائے بحث نے بھی اس پھبتی کو انجوائے کیا۔

اسی طرح کے ایک اور کالم میں ایک دوسری وائرل وڈیو کو زیر بحث لایا گیا۔ یہ 3منٹ کی ایک وڈیو ہے جس میں ڈب شدہ اذان کو ایک شہری علاقے کی فضا سے لی گئی تصویر کی مساجد کے بلند میناروں سے سنوایا گیا ہے اور اس کے ساتھ جس دوست نے یہ وڈیو بھیجی تھی اس نے یہ بھی لکھا کہ: 500 سال بعد سپین کی مساجد میں اذانوں کا اذن دے دیا گیا ہے“۔ ملٹری ہسٹری کا طالب علم ہونے کے حوالے سے میں نے لیفٹیننٹ جنرل آغا علی ابراہیم کی جن تصانیف کا مطالعہ کیا ان میں جنرل خالد بن ولید کی Sword of Allah کے علاوہ مسلم سپین کی تاریخ بھی تھی۔ زمانہ ء طالب علمی میں نسیم حجازی کے جو ناول پڑھے تھے ان میں بھی طارق بن زیاد کی فتح اندلس کی دلچسپ تاریخ تھی۔ الحمراء،غرناطہ اور اشبیلیہ کے نام بھی دہلی، لاہور، بغداد، قسطنطنیہ اور قاہرہ وغیرہ کے ناموں کے ساتھ مسلمانوں کی عظیم فتوحات کے زندۂ جاوید شواہد تھے۔ پھر اقبال کی شہرۂ آفاق اردو نظم ”مسجد قرطبہ“ تھی جو اگرچہ خاصی طویل تھی لیکن کالج کے زمانے میں مجھے زبانی یاد تھی۔ اس پس منظر میں، میں نے جب غرناطہ کی مساجد میں 500برس کے بعد ”پہلی اذان“ سنی تو ناسٹلجیا نے آن گھیرا اور میں نے اپنے کالم میں اس وڈیو کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ آج اگر سپین میں کرونا وائرس نے موت اور خوفِ مرگ کو ارزاں کر دیا ہے تو اب کرسچین سپین کو مسلم اندلس یاد آیا ہے اور بارسلونا، غرناطہ اور قرطبہ کی مساجد میں اذانیں شروع ہو گئی ہیں …… اس میں کیا شک ہے کہ موت ایک زندہ حقیقت ہے اور موت کا عفریت جب کسی قوم اور ملک کو قومی اور ملکی سطح پر نگلنے لگے تو پھر خدا تو یاد آ ہی جاتا ہے…… یہ معلوم نہ تھا کہ کسی حرام خور ”وڈیوگر“ نے یہ کاریگری کی تھی کہ آذربائیجان کی ایک فضائی تصویر جو کسی ڈرون سے بنائی گئی تھی وہ لے کر اس کی ایک مسجد کے بلند مینار کو بار بار فوکس میں رکھ کر ڈب کی ہوئی اذان کو Play Back کے طور پر ریکارڈ کرکے اس وڈیو کو وائرل کر دیا تھا۔ اس مسجد کے مینار کو دیکھ کر مجھے اقبال کی مسجد قرطبہ یاد آئی اور اس کا یہ مصرع نگاہوں تلے گھوم گیا:

تیرا منارِ بلند جلوہ گہہ جبرائیل

اس سے قطع نظر کہ اس وڈیو میں دکھائی گئی مسجد، مسلم سپین کے کسی شہر کی تھی یا وسط ایشیائی ریاستوں کے کسی شہر کی کہ ان میں بیشتر ممالک (تاجکستان، ازبکستان، کرغستان، قازقستان اور ترکمانستان) میں ایسی عظیم الشان مساجد پائی جاتی ہیں جو مسلم سپین کے 800سالہ دور میں تعمیر کی گئی مساجد کی یاد تازہ کر دیتی ہیں۔ یہ بات تاریخی طور پر غلط تھی کہ یہ اذان غرناطہ یا بارسلونا کی کسی مسجد سے بلند ہو رہی ہے۔ کرونا سے ہونے والی ہزاروں اموات کے پس منظر میں اس وڈیو کو بنانے والوں نے ناظرین و سامعین کو مِس انفارم بھی کیا اور ڈی ایجوکیٹ بھی۔ اور اس کا حوالہ جناب لارڈ نذیر نے دیا جنہوں نے Fake News کے نام سے 6،7 منٹ کی ایک وڈیو میں اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ موجودہ دور کو ففتھ جنریشن وار کا دور کہا جاتا ہے لیکن دراصل یہ من گھڑت اور جھوٹی خبروں (Fake News) کا دور ہے۔

انہوں نے حالیہ ایام میں کرونا وائرس کی عالمگیر وباء کے پھیلاؤ پر بات کرتے ہوئے وائرل ہونے والی کئی وڈیوز اور آڈیوز کا ذکر بھی کیا جن میں مسلم سپین کی ایک مسجد میں دی گئی اذان، صدر ٹرمپ کی بعض تقاریر، انڈیا کے وزیراعظم مودی کی وہ تقریر جس میں انہوں نے بظاہر مسلمانوں کے قرآن حکیم اور خدا کے رحمان و رحیم ہونے کا اقرار کیا، صدر پوٹن کی وہ تقریر جو انہوں نے روس کے قومی دن پر کی اور جس کا غلط ترجمہ کرکے ناظرین و سامعین کو بتایا گیا کہ پوٹن، دنیا کی آبادی کو ختم کرنے کی مغربی ممالک کی کوششوں کا ذکر کر رہے ہیں، اسرائیل کے وزیر دفاع شمعون کی ایک وڈیو جو کرونا وائرس کے موضوع پر بنائی گئی اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی تحریری صورت میں وڈیو کی سکرین پر لایا گیا، برٹش پارلیمنٹ میں قرآن کی تلاوت دکھائی گئی اور ایک ہندو جوگی کا حوالہ دیا گیا جو قرآن کی آیات کا ترجمہ سنا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اسلام، مسلمانوں کے لئے نہیں، تمام انسانوں کے لئے نازل ہوا اور اس کا اصل موضوع حق و باطل نہیں، انسانیت ہے…… لارڈ نذیر احمد نے بڑی دلسوزی سے ہاتھ باندھ کر اس وڈیو میں ناظرین و سامعین سے درخواست کی کہ وہ آنحضور ﷺ کی وہ حدیث یاد کریں جس میں آپؐ نے فرمایا کہ جھوٹے کی نشانی یہ ہے کہ اگر وہ کوئی بات کنفرم کئے بغیر آگے پہنچا دے تو وہ سچا نہیں ہے۔

آج مختلف واٹس آپ گروپ جو اس طرح کی وڈیوز اور آڈیوز بنا کر آن ائر کر رہے ہیں ان کو سوچنا چاہیے کہ پاکستان میں (اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی پاکستانی موجود ہیں) اس طرح کی جھوٹی وڈیوز کو دیکھ دیکھ کر کیا ان کی تربیت ہو گی یا ان کو گمراہی کی راہوں کا مسافر بنا دیا جائے گا؟

مجھے خود اگرچہ اس طرح کی وڈیوز پر کوئی اعتماد نہ تھا لیکن بعض وڈیوز جو سیاہ و سفید نہیں بلکہ سرمئی (Grey)پراپیگنڈہ کی ذیل میں آتی ہیں ان کو موضوع بنا کر اپنے کالموں میں جگہ دینی پڑی۔ میں اپنے قارئین سے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے مطلوبہ چھان بین کا اہتمام کئے بغیر جذبات کی اسیری کا مظاہرہ کیا اور جھوٹی اور من گھڑت خبروں پر تکیہ کرکے اپنے پڑھنے والوں کو ایسی معلومات فراہم کرنے کا سامان کیا جو سچی نہیں، جھوٹی تھیں۔ سوشل میڈیا پر دی جانے والی ”خبروں اور معلومات“ کا جو حوالہ لارڈ نذیر احمد نے اپنی وڈیو میں دیا ہے میں ان سے 101 فیصد متفق ہوں۔ بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ ہمیں جو خبریں کسی مغربی نیوز چینل سے موصول ہوتی ہیں ان پر بھی اندھا دھند اعتماد نہ کیا کریں اور ہر خبر کو غیر جانبداری کی کسوٹی پر بار بار پرکھنے کے بعد اس کو موضوعِ تحریر اور موضوعِ خواندگی بنایا کریں۔

آج کل بعض واٹس آپ گروپ نے سمارٹ موبائل فونوں پر بزعم خود ”مستند“ خبروں کی دکانیں کھول رکھی ہیں۔ ان لوگوں میں بعض نام بڑے جغادری قسم کے ہیں اور بعض غیر معروف ہیں۔ ان سب کا آغاز اس فقرے سے ہوتا ہے کہ ہمارے چینل کو اگر آپ نے اب تک سبسکرائب نہیں کیا تو ابھی فلاں ”گھنٹی“ پر انگلی لگائیں تاکہ آپ کو ہم اسی قسم کی تازہ ترین اور ”چوندی چوندی“ خبریں بھیج سکیں۔

……قارئین مکرم! خدا کے لئے ان دکانداروں سے بچیں۔ یہ سب اپنے اپنے گندے کپڑے دھونے کی فکر میں ہیں! ہم ان لوگوں سے نہیں نمٹ سکتے، اب کرونا ہی ان سے نمٹے تو نمٹے!! اللہ اللہ خیر سلا!!

مزید :

رائے -کالم -