میر شکیل کی رہائی کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت 7اپریل پر ملتوی

میر شکیل کی رہائی کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت 7اپریل پر ملتوی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کی رہائی کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت 7اپریل پر ملتوی کرتے ہوئے نیب کے وکیل سے جوابی دلائل طلب کرلئے ہیں۔ گزشتہ روز درخواست گزاروں میر شکیل الرحمن اور ان کی اہلیہ شاہینہ شکیل کے وکلاء بیرسٹر اعتزاز احسن اورامجد پرویزنے اپنے دلائل مکمل کرلئے۔بیرسٹر اعتزاز احسن نے بڑھاپے کی بنیاد پربھی میر شکیل الرحمن کو رہاکرنے کی استدعا کی،درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ میر شکیل الرحمن کو نیب نے شکایت کی تصدیق کی سطح پر گرفتار کیا،میر شکیل الرحمن کو کوئی سوالنامہ بھی فراہم نہیں کیاگیا،ان کیخلاف 34 سال پرانا کیس کھولا گیا، 20 سال نیب نے بھی کچھ نہیں کیا، یہ نیب کا کیس نہیں بنتا، سارا معاملہ دستاویزی ہے اور یہ دستاویزات ایل ڈی اے کے ریکارڈ پر موجود ہیں،میر شکیل الرحمن کو پلاٹ الاٹمنٹ میں دی گئی رعایت کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی امر نہیں، میر شکیل الرحمن نہر پر واقع 33 کنال اراضی کے پہلے سے مالک تھے،مذکورہ شہریوں کی استثنائی 21 کنال اراضی ساتھ ملا لی، میر شکیل الرحمن کو گرفتار کر نانیب کا طے شدہ منصوبہ تھا،میر شکیل الرحمن کو 12 مارچ کو گرفتار کرنے کا اقدام نیب کے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے،ان کی گرفتاری اورجسمانی ریمانڈکو غیرقانونی قرار دیا جائے،درخواست گزاروں کے وکلاء نے مزید استدعا کی کہ میر شکیل الرحمن کو کیس کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہا کیا جائے،اعتزاز احسن نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ میر شکیل الرحمن70 سال کا بوڑھا ملزم ہے،اس لئے ضمانت پر رہا کیا جائے، پراسیکیوٹر نے نیب کی جانب سے جواب جمع کراتے ہوئے رہائی کی درخواست کی مخالفت کی،فاضل بنچ نے انہیں جوابی دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 7اپریل پر ملتوی کردی۔

میر شکیل

مزید :

پشاورصفحہ آخر -