جناب وزیراعظم! پرنٹ میڈیا کو بچایئے

جناب وزیراعظم! پرنٹ میڈیا کو بچایئے
جناب وزیراعظم! پرنٹ میڈیا کو بچایئے

  

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس کی عالمی وبا کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے دنوں میں اس وقت پرنٹ میڈیا کی زبوں حالی کا تذکرہ کرنا اور ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لئے اقدامات کی درخواست کرنا بظاہر بڑا معیوب سا لگتا ہے مگر زمینی حقائق کو اگر سامنے رکھا جائے۔ اور پرنٹ میڈیا اور اس سے متعلقہ شعبہ جات کی کسمپرسی دیکھی جائے تو موجودہ حالات بڑے موزوں لگتے ہیں کیونکہ کرونا کی وبا نے عالمی قوتوں کو بھی دفاعی پوزیشن میں لاکھڑا کیا ہے۔ بڑی بڑی سپر پاور بھی لاچار اور بے بس نظر آ رہی ہیں۔موت کے خوف نے بڑے بڑوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ انسانیت اپنی اصلی حالت میں وجود پا رہی ہے۔ زمانے کو فتح کرنے کے دعوے دار بھی موت کے خوف سے اللہ کے آگے سرسجود نظر آ رہے ہیں۔ حقیقت یہی ہے موت سے بچنے کے لئے دنیا بھر کے دروازے بند ہو چکے ہیں مگر توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے۔

ایوان اقتدار کے ستون بھی ہمدردی، ایثار اور گرتے ہوؤں کو سہارا دینے کی درخواست کر رہے ہیں اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام موضوعات کو پس پشت ڈال کر آج کے کالم کا موضوع پرنٹ میڈیا کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو بچانا ہے اس کی بڑی وجہ یقینا الیکٹرونک میڈیا اور بے لگام سوشل میڈیا کو قرار دیا جا سکتا ہے، مگر ہر طفل تسلی سے زیادہ نہیں ہو گا اتنی آسانی کے ساتھ پرنٹ میڈیا کی زبوں حالی کارکنان کی کسمپرسی اور ہر آنے والے دن میں مایوسی کے بڑھتے ہوئے سائے سے پہلو تہی ممکن نہیں ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک پرنٹ میڈیا کی طویل داستان ہے جسے ایک نشست میں پیش کیا جانا ممکن نہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کی پیدائش تو چند سال پہلے کی ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کا کریڈٹ تاحیات جنرل مشرف کو ہی جائے گا۔ سوشل میڈیا الیکٹرونک میڈیا کی بگڑی ہوئی بنا باپ کے کرۂ ارض پر مسلط ہونے والی اولاد ہے جو حدود و قیود سے مبرا ہونے کے ساتھ ساتھ مدر پدر آزاد ہے۔ پرنٹ میڈیا کی اپنی تاریخ ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کے عروج اور چادر اور چار دیواری کی دیواریں پھلانگتے سوشل میڈیا کے اقتدار کے دور میں بھی پرنٹ میڈیا کے ضم ہونے کا نعرہ صرف نعرہ ہی رہا۔

پرنٹ میڈیا کی سنہری روایات پوری آب و تاب کے ساتھ ان حالات میں بھی چمک رہی ہیں جب پرنٹ میڈیا کا وجود ختم کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہےّ اس کی وجہ یقینا خبر کی سچائی، تحقیقات کے بعد گھر بیٹھے قاری تک پہنچانے کے طویل مراحل ہیں جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر پرنٹ میڈیا کے سورج کو غروب نہیں ہونے دیا۔ میڈیا کو کاروبار بچانے کے لئے فیس سوئنگ کے ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے کی بھیڑ چال کی تاریخ بھی زیادہ پرانی نہیں ہے اور یہ سب بھی پرنٹ میڈیا کی طویل قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ معاشرے کو سنوارنے کے لئے مسائل کی نشاندہی اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے خبر کی تصدیق کے لئے رپورٹنگ کا شعبہ بھی ایک تاریخ رکھتا ہے اس کی قربانیوں کی بھی طویل داستان ہے۔ خبر کو سنوار کر سبنگ تک پہنچانا اور پھر سب ایڈیٹر کی طرف سے ایڈیٹنگ کے بعد پرنٹنگ کے مراحل میں بھیجنا تو چند سال پرانی کہانی ہے۔ اس سے پہلے خبر کو حاصل کرنا کتابت اور ایڈیٹنگ کرکے پرنٹنگ کے شعبے کو بھیجنا علیحدہ شعبہ تھا۔ نئے دور کے کمپیوٹر نے کام آسان کیا اور کرتاہی جا رہا ہےّ اس کے باوجود خبر کے حصول سے پرنٹ کرنے تک اور پھر اخبار مارکیٹ سے گھروں تک پہنچانے کا عمل بھی دل موہ لینے والا ہے۔

بات دوسری طرف نکل گئی۔آج کا کالم میں پرنٹ میڈیا کے کارکنان کی حالتِ زار تک محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ پرنٹ میڈیا کے چند کردار جن پر ہمیشہ فخر کیا جاتا رہے گا جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی پرنٹ میڈیا کی اہمیت کم نہیں ہونے دی۔ اخبار کی اشاعت معمولی عمل نہیں ہے اس میں کارکنان کی محنت، کاغذ، سیاہی پرنٹنگ میٹریل کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ جناب وزیراعظم عمران خان آپ کی 22سال طویل جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے میں پرنٹ میڈیا کا بڑا کردار ہے۔ پرنٹ میڈیا کے ورکر نے تبدیلی کے نعرے کو عملی جامعہ پہنانے اور آپ کو ایوان وزیراعظم تک پہنچانے کے لئے موثر ذریعہ بنے ہیں۔ اس لئے پرنٹ میڈیا کے کارکنان کی توقعات بھی آپ سے زیادہ ہیں۔ پرنٹ میڈیا ملکی معیشت کی صورت حال سے آگاہ ہے۔ اس لئے ملکی معیشت کو پٹڑی پر چڑھانے کے لئے اپناکردار انصاف کے ساتھ ادا کررہا ہے۔ جناب والا! پرنٹ میڈیا ہمیشہ آپ کا دست بازو رہاہے۔ اس لئے مشکل حالات میں آپ ہی کی طرف نظریں لگائے ہوئے ہیں، کیونکہ سرکاری اداروں کا بزنس ہی پرنٹ میڈیا کا سہارا رہا ہےّ گزشتہ دو سالوں میں ملکی معیشت کی بگڑتی ہوئی صورت حال میں پرائیویٹ بزنس نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے اور یہی حال سرکاری بزنس کا ہے۔ کاغذ سے لے کر سیاہی تک بے تحاشا ٹیکسز نے اخبار کی سنگل کاپی کے اخراجات بے تحاشا کر دیئے ہیں۔ بگڑتی ہوئی صورت حال میں اخبارات ڈاؤن سائزنگ کرنے پر مجبور ہیں۔ کارکنان کی بڑی تعداد بے روزگار ہو رہی ہے۔ دوسری طرف کمرتوڑ مہنگائی میں کم معاوضہ کی وجہ سے کارکنان کی مشکلات روز بروز بڑھ رہی ہیں رہی سہی کسر کرونا وائرس کی وبا نے پوری کر دی ہے۔

جناب وزیراعظم پرنٹ میڈیا کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کے لئے رکے ہوئے واجبات کی ادائیگی ضروری ہے۔ کاغذ سمیت دیگر پرنٹنگ میٹریل کو ٹیکس فری کرکے پرنٹ میڈیا کو بچایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ پرنٹ میڈیا کے اہم ترین شعبہ اخبار فروش حضرات بھی کرونا کی وبا کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں ان کو نیٹ میں لانا بھی ضروری ہے۔اخباری کارکنان کو وزیراعظم ریلیف فنڈ، وزرائے اعلیٰ ریلیف فنڈ میں فوری شامل کرنا ضروری ہے۔اخبارات کو وفاقی اور صوبائی واجبات فوری ادا کرکے ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ جناب وزیراعظم اخبارات سے جڑے ہوئے لاکھوں کارکنان اور ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہزاروں اخبار فروش حضرات کے لئے فوری ریلیف پیکیج دینا ضروری ہے، کیونکہ اخباری کارکنان اور اخبار فروش حضرات کی بڑی تعداد کرونا کی وجہ سے گھروں میں قید ہے،ان کے لئے بچوں کی 3وقت کی روٹی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -