ہماری تیار کردہ قومی حکمت عملی مشکلات سے نجات دلا سکتی ہے: شہباز شریف

ہماری تیار کردہ قومی حکمت عملی مشکلات سے نجات دلا سکتی ہے: شہباز شریف

  

لاہور، اسلام آباد(جنرل،سٹاف رپورٹرز) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدرا و رقائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کرونا کیخلاف جنگ میں مدد پر چین سے اظہار تشکر کرتے ہو ئے کہا ہے کہ کرونا کیخلاف جنگ میں مسلسل مدد پر صدر شی جن پنگ اوروزیراعظم لی کی چیانگ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرزاور طبی عملے کیلئے حفا ظتی وطبی ساز وسامان کی فراہمی اس وقت نہایت اہم ہے،چین کی جانب سے پی پی ای، ماسک، طبی آلات اور سامان کی دوسری کھیپ کا پاکستان پہنچنا سچی دوستی کا ثبوت ہے،چین کا یہ تعاون کرونا کے قلع قمع اور پاکستانیوں کی جان بچانے میں کلیدی ہے۔قبل ازیں تاجر اور کاروباری برادری سے وڈیو لنک پر موجودہ صورتحال پر مشاورت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے موجودہ صورتحال پر تاجر اور کاروباری برادری سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کرونا کی وجہ سے سٹاک ایکسچینج اور کاروباری سرگرمیوں میں مندی کے گہرے اثرات ہیں، مشکل معاشی صورتحال میں کاروباری برادری کی مدد اور رہنمائی کرنا ہوگی، برآمدات میں 50 فیصد تک کمی آسکتی ہے،معیشت میں سرما یہ کاری پر بھی منفی اثرآسکتا ہے،اس صورتحال میں جی ڈی پی گروتھ کی شرح منفی اور بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ ہے،آپ کی مشاورت اورتجاویزسے ایک چارٹرآف ڈیمانڈ مرتب کرکے حکومت کو پیش کیاجائے گا،ہماری تیار کردہ قومی حکمت عملی قوم کو مشکلات سے نجات دلاسکتی ہے،ہم پٹرول اور ڈیزل کی قیمت فوری طورپر کم کرکے 70 روپے فی لٹر مقرر کر نے کا مطالبہ کیا ہے جس سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ قوم کو آج اپنی زندگی کے ایک مشکل ترین امتحان کا سامنا ہے، چھوٹے بڑے تاجروں سے موجودہ معاشی مشکلات پر ہمدردی اور افسوس ہے۔ کاروباری برادری جس بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہے، مجھے اس کا اداراک ہے،اس اجلاس کا مقصد یہ ہے کہ صنعتکار، تاجر اور کارو باری برادری جن مشکلا ت سے دوچار ہے، ان سے یکجہتی کا اظہار کریں۔اصل مسئلہ اور خطرہ کرونا سے زیادہ اس چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت، سنجیدگی اور عزم کا ہے، ہمارا ایمان ہے اللہ کریم مشکل حالات میں ہمیشہ انسانوں کی مدد فرماتا ہے، ایک طرف کرونا قوم کی جان لے رہا ہے تو دوسری طرف روٹی، روزگار کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔گھر میں رہنا مجبوری ہے لیکن روٹی، روزگا ر، کاروبار چلانا بھی ضروری ہے، ایک چیلنج یہ ہے کہ لوگ محفوظ فاصلے پر رہیں تاکہ ان کی اور دیگر افراد کی زندگی بچائیں، دوسرا چیلنج یہ ہے کہ زندگی کا پہیہ بھی نہ رکے۔ نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں جب ہم نے ذمہ داری سنبھالی تھی تو حالات آسان نہیں تھے۔ پوری قوم نے دیکھا بجلی کے اندھیرے بھی دور ہوئے، صنعت اور کاروبار کا پہیہ بھی رواں ہوا، قوم نے دیکھا کیسے دہشت گردی کا صفایا کیاگیا،قوم نے دیکھا کہ کیسے دن رات محنت سے الحمداللہ ترقی کی شرح 5.8 فیصد پر پہنچی۔ مہنگائی کی شرح ریکارڈ3 فیصد کی نچلی ترین سطح پرآئی، مشکل ترین حالات کے باوجود پالیسی ریٹ ساڑھے 6 فیصد پر رہا۔تمام شعبہ جات کو یکساں اور متوازن انداز سے سازگار ماحول فراہم کیاگیا، زراعت، صنعت، حرفت، تجارت، پیدوار، خدمات غرض تمام شعبوں میں نمایاں بہتری دکھائی دے رہی تھی، تعلیم اور صحت کے شعبے بہتر بنائے گئے۔ آپ سب حضرات ماشاء اللہ باصلاحیت ہیں، اپنی اپنی سطح پر مشکلات کا ہمہ وقت سامنا کرتے، ان کو حل کرتے ہیں۔ اس مشکل معاشی صورتحال میں کاروباری برادری کی مدد اور رہنمائی کرنا ہوگی۔مسلم لیگ (ن) نے اپنے تجربے، مشاورت اور حالات کی روشنی میں قومی حکمت عملی مرتب کی ہے، ہم سمجھتے ہیں ہماری تیار کردہ قومی حکمت عملی قوم کو مشکلات سے نجات دلاسکتی ہے۔ہمیں صنعت، فیکٹری، مل، دکاندارسمیت مزدور اورغریب ترین طبقات سب کا خیال رکھناہے۔آزمائش کی اس گھڑی میں نادار طبقات کا خاص رکھیں، مزدور، دیہاڑی دار اور سفید پوش لوگ ہم سب کی مدد کے حقدار ہیں۔

شہباز شریف

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے شہبازشریف کو پارلیمانی مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کی تجویز دیدی۔ جمعرات کو مولانا فضل الرحمان نے شہبازشریف سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ملک میں کرونا صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میں نے شہبازشریف کو پارلیمانی مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے،پارلیمانی مانیٹرنگ کمیٹی بنائے جانے تک اپوزیشن کسی کمیٹی میں شریک نہیں ہوگی۔ شہبازشریف نے میری تجویز پر تمام اپوزیشن کو اعتماد میں لے لیا ہے کیونکہ یہ ملک کسی ایک جماعت کے سربراہ کی بنائی فورس کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ہمیں ٹائیگر فورس کی ضرورت نہیں، اس کام کے لیے ہمارے پاس فوج، پولیس اور بلدیاتی ادارے موجود ہیں۔اگر قومی سطح پر کام کرنا ہے تو قومی تحریک کی نیت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ٹائیگر فورس کی طرف سے کسی ریلیف کے کاموں کا حصہ نہیں بنیں گے۔ حکومت نے مزور پیشہ اور دیہاڑی دار لوگوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے۔یوٹیلیٹی سٹورز پر ہمارے لوگوں کو ریلیف کیلئے سامان نہیں دیا جا رہا۔یوٹیلیٹی سٹورز پر صرف حکومتی پارٹی کے لوگوں کو سامان دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت لوگوں کو اس نہج پر نہ پہنچائے کہ وہ فیصلہ کریں کہ گھر میں بھی مرنا ہے تو پھر باہر آکر کیوں نہ مریں۔

فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -