محنت کش بھوک سے ٹرپتے بچوں کی خاطر بیلچے اٹھائے سڑکوں پر آگئے

محنت کش بھوک سے ٹرپتے بچوں کی خاطر بیلچے اٹھائے سڑکوں پر آگئے

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور میں محنت کش اپنے بیلچے، کسّیاں اور دیگر سامان اٹھائے صبح سویرے سڑکوں کنارے آ بیٹھے، انہوں نے کرونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر بھی اختیار نہیں کر رکھی تھیں۔روزگار کی تلاش میں بیٹھے مزدوروں نے کہا کہ آج کئی روز سے گھر میں فاقے ہیں،بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں، حکومتی امداد تونہ ملی ہے ملنی ہے، اپنے بچوں کو بھوک سے مرتا نہیں دیکھ سکتے۔کرونا جیسی خطرناک وبا سے خود کو اور اپنے پیاروں کو بچانے کیلئے گھروں میں رہنا ضروری ہے مگر بھوک کا کیا کیا جائے، جب گھر میں کچھ کھانے کو نہ ہو تو گھروں میں رہنامحال ہو جاتاہے۔سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھوں پر بیٹھے مزدور کبھی کسی گاڑی کے پیچھے بھاگتے ہیں تو کبھی سوالیہ نظروں سے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ مزدوروں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گزشتہ 15دن سے امداد کے اعلانات کررہی ہے لیکن اعلان سے پیٹ نہیں بھرتے۔ہم بچوں کو بھوک لگنے پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ صبر کریں حکومت امدادلیکر آتی ہی ہوگی، کیا حکومتی امداد اس وقت آئے گی جب ہمارے گھر کے آدھے افراد بھوک سے مرجائیں گے، پھر ہم حکومت کے 4ہزار لیکر کیا کرینگے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگر ہم تک امداد پہنچانی ہوتی ملک میں فوج جیسا منظم اور ایماندار ادارہ موجود ہے جس پر پوری قوم کو فخر اور یقین ہے اس کے ذریعے ہم تک امداد پہنچادیتی جبکہ حکومت نے تو مصیبت کی اس گھڑی کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ اب بھاری معاوضوں پر ایک نئی فورس بنائی جائیگی، وہ فورس پہلے بنے گی،دفاتر قائم ہونگے اور ہمارے لئے امداد کی تمام رقم تو ان پر خرچ ہوجائیگی ہمیں تو پھر خود ہی مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہے سو روزی کی تلاش میں سڑک پر آکر بیٹھ گئے ہیں۔مزدور اپنا دکھڑا بیان کرہی رہے تھے کہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور سب کو وہاں سے بھگادیا۔

محنت کش

مزید :

صفحہ اول -