حکومت کا بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو مرحلہ وار وطن واپس لانے کا فیصلہ

حکومت کا بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو مرحلہ وار وطن واپس لانے کا فیصلہ

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بیرون ممالک سے بہت سے پاکستانی وطن واپس آنے کے خواہاں ہیں، انہیں بتدریج وطن واپس لایا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دنیا بھر میں وطن واپسی کے منتظر پاکستانیوں کو واپس لانے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ بہت سے پاکستانی بیرون ممالک سے وطن واپس آنا چاہتے ہیں، قومی رابطہ کمیٹی نے17پروازیں بحال کرنے کی منظوری دی،ہم ان پاکستانیوں کو بتدریج واپس لائیں گے۔اپنے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح ٹرانزٹ میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانا ہے،دوسری ترجیح ایکسپائرڈ ویزا ختم ہونے والے پاکستانی جبکہ تیسری ترجیح بیرون ملک مقیم پاکستانی اور زیر تعلیم واپسی کے منتظر طلبا کو واپس لانا ہے۔وزیر خارجہ کے مطابق چار سے گیارہ اپریل تک بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول کا اعلان کیا گیا ہے، اس کے لئے ہمیں ان تمام مسافروں کوایئرپورٹ پر کرونا وائرس کے لئے ٹیسٹنگ کے عمل سے گزارنا ہے، اس کے لئے ہم اپنی ٹیسٹنگ اور قرنطینہ ہاؤس کی استعداد کار کو بتدریج بڑھا رہے ہیں، وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پروٹوکول پر مکمل عملدرآمد ہو گا توکراچی کیلئے بھی پروازیں بحال کریں گے۔علاوہ ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے،دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔وزیر خارجہ نے اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے قطر کی طرف سے کئے گئے بروقت اقدامات کو سراہا۔قطر کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے عالمی وبائی تناظر میں، کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کیلیے پاکستان کی ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے کی تجویز کو سراہتے ہوئے قطر کی طرف سے تجویز کی حمایت کا عندیہ دیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے اس عالمی چیلنج سے نمٹنے اور اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مشاورتی سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔مزید برآں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سارک کے سیکرٹری جنرل ایسالا رووان ویراکون سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے کرونا عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیائی خطے میں اس عالمی وباء کی نوعیت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سارک ممالک کی طرف سے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے کرونا وبائی چیلنج سے نمٹنے،سماجی و اقتصادی ترقی اور علاقائی مسائل کے حل کیلئے، باہمی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

شاہ محمودقریشی

مزید :

صفحہ اول -