ہائیڈروکسی کلوروئین ار ایز یتھر ماوئی سین نے کرونا پر 100فیصد نتائج دیئے: پروفیسر اسد اسلم

  ہائیڈروکسی کلوروئین ار ایز یتھر ماوئی سین نے کرونا پر 100فیصد نتائج دیئے: ...

  

لاہور(رپورٹ جاوید اقبال، تصاویر ذیشان منیر) کروناایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کے کو چیئرمین اور میوہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو پروفیسر اسد اسلم خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وباء میں بہتری آرہی ہے،تبلیغی مراکز اور اجتماعات میں جانے والے مریض سامنے آرہے ہیں،باقی لاہور اور گردونواح میں امن ہے اور اس میں بڑی کمی آرہی ہے۔ ہم نے کرونا میں مبتلا مریضوں پر 2 ادویات کو استعمال کیا ہے جس نے 100فیصدنتائج دیئے ہیں اور اللہ کے فضل سے جن مریضوں پر اس دوائی کو استعمال کیا وہ تمام کے تمام صحت یاب ہو گئے اور کرونا نیگٹیو ہو گیا۔روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر اسد اسلم نے کہا کہ وائرس سے متاثرہ مریضوں کیلئے ہائیڈروکسی کلوروئین اور ایزیتھرو مائی سین فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں۔ پنجا ب کے سرکاری ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کوانہیں دو ادویات کا پانچ دن کا کورس مکمل کرایا گیا، اب تک 18 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ میو ہسپتال کے آٹھ، پی کے ایل آئی کے چار اور پنجاب کے دیگر اضلاع سے پانچ مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ اینٹی ملیریا کے لئے استعمال ہونے والی ہائیڈروکسی کلوروئین پہلے روز دو گولیاں صبح اور دو شام دی گئیں، جبکہ باقی چار دن ایک گولی صبح اور ایک شام دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گلے کی سوزش، بیکٹریا، جلد کے انفیکشن، آنکھ اور کان کے انفیکشن کے لئے استعمال ہونے والی ایزیتھرومائی سین ایک گولی صبح و شام پانچ دن کا کورس مکمل کروایا جاتا ہے، تمام سرکاری ہسپتالوں میں یہ ادویات استعمال کروا کر مریضوں کو صحت یاب کیا جارہا ہے۔ نجی معالج بھی یہ دو ادویات اپنے کرونا کے مریضوں کو استعمال کراسکتے ہیں تاہم یہ دوا اپنے معالج کے مشورہ کے بغیر کھانے سے سائیڈ ایفیکٹ بھی کرسکتی ہے، اس لئے ڈاکٹر کی مشاورت کے بغیر اسے استعمال نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ لاہور اور گرد ونواح میں کرونا کے مریضوں میں بڑی حد تک کمی آئی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید کمی آئے گی۔ اب جو مریض ریکارڈ پر آئے ہیں یہ وہ مریض ہیں جو گلی محلوں سے نہیں آئے بلکہ تبلیغی اجتماعات میں شرکت کرنے والے ہیں جو ایک جگہ اکٹھے رہے اور وائرس انہوں نے آپس میں تقسیم کیا۔ لاک ڈاؤن کا فیصلہ خوش آئند ہے اس سے بھی بڑی بچت ہوئی ہے۔

پروفیسر اسد اسلم

مزید :

صفحہ آخر -