بجلی،گیس بل 3ماہ تاخیر سے جمع کرانے کی چھوٹ، یوٹیلیٹی بلز پر نقصان حکومت برداشت کریگی، مشیر خزانہ، حکومت کا تعمیراتی صنعت کی بحالی کا فیصلہ، اعلان آج کرونا کا پھیلاؤ کم، محدود وسائل سے قابو پالینگے: وزیراعظم

بجلی،گیس بل 3ماہ تاخیر سے جمع کرانے کی چھوٹ، یوٹیلیٹی بلز پر نقصان حکومت ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کرونا کی وجہ سے عوام بجلی اور گیس کے بل 3 ماہ بعد جمع کراسکتے ہیں۔اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ کرونا سے متاثرہ افراد کی مدد کی جائیگی، اس کیلئے ایک 1200 ارب کا پیکیج دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ کاروباری حضرات کیلئے 5 بڑے فیصلے کیے ہیں، چھوٹے کارخانوں کے متاثرہ ملازمین کیلئے 100 ارب رکھے جارہے ہیں۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ بجلی اور گیس کے بل فوری طور پر جمع کرانے کی ضرورت نہیں، 3 ماہ بعد بھی جمع کرائے جاسکیں گے، یوٹیلیٹی بلز جمع کرانے میں تاخیر کا نقصان حکومت خود برداشت کرے گی جس کیلئے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ بزنس مین مطمئن رہیں، حکومت ان کے پیچھے کھڑی ہے، بزنس مین کمیونٹی کی سپورٹ پر شکریہ ادا کرتے ہیں، کارباری برادری سے مل کر کرونا سے متعلق چیلنجز پر قابو پائیں گے۔

حفیظ شیخ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے آئندہ اجلاس کے پیش نظر کثیر الضابطہ ریسرچ کمیٹی قائم کی جائے گی جو مختلف شعبوں کے حوالے سے اپنی سفارشات مرتب کرکے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی جبکہ وزیر اعظم نے کہا موجودہ صورتحال میں درست اور حقائق پر مبنی ڈیٹا کی دستیابی نہایت اہمیت کی حامل ہے، اس ضمن میں کسی قسم کی کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائیگی،کرونا کی روک تھام کے حوالے سے مختلف ملکوں میں کیے جانیوالے اقدامات کا بھی مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے، پاکستان میں حالات دنیا سے مختلف ہیں۔ یہاں ہمارا مقابلہ محض کرونا سے ہی نہیں، غربت اور بیروزگاری سے بھی ہے، ہر فیصلہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائیگا۔ ادھر حکومت نے تعمیراتی صنعت کو بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اس سلسلے میں آج ایک بڑے پیکج کا اعلان کیا جائیگا۔اس بات کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں کاروباری شخصیات میں ٹیکس ریفنڈز کے چیک تقسیم کرنے کیلئے منعقدہ تقریب میں کیا۔ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کرونا وائرس کی صور تحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیر اقتصادی امور محمد حماد اظہر، وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفراللہ مرزا، معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹنٹ جنرل محمد افضل، وزیرِ اعظم کے فوکل پرسن برائے کرونا ڈاکٹر فیصل سلطان و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔ معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفراللہ مرزا نے ملک میں کرونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال،وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے معاشی و انتظامی اقدامات خصوصاً صوبہ سندھ سے بلوچستان اور پنجاب کو گندم کی بلاتعطل ترسیل، صنعتی یونٹس کی روانی، سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد، وفاق اور صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن کی بہتری اور کرونا کے حوالے سے مصدقہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے اقدامات اورپیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگز دیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کے آئندہ اجلاس کے پیش نظر کثیر الضابطہ ریسرچ کمیٹی قائم کی جائے گی جو مختلف شعبوں کے حوالے سے اپنی سفارشات مرتب کرکے نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی تاکہ ان سفارشات کی روشنی میں کمیٹی مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کر سکے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیر اعظم کو کرونا کی تشخیص کیلئے مطلوبہ میڈیکل سہولیات، کٹس، وینٹی لیٹرز و دیگر آلات کی دستیابی اور اس سلسلے میں کیے جانیوالے اقدامات کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی۔جس میں بتایا گیا ابتدائی طور پر نجی شعبے کی دو لیبارٹریوں کو این ڈی ایم اے کی جانب سے ٹیسٹ کے آلات فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹیسٹ کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔ اس تجربے کو مدنظر رکھ کر یہ سہولت مزید چودہ لیبارٹریز میں فراہم کی جائے گی۔ وزیرِ اعظم نے وفاقی دارالحکو مت میں کام کرنیوالے تمام ڈاکٹرز اور طبی عملے کیلئے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ کی بھی اصولی منظوری دی۔ وزیراعظم نے کہا اس مشکل وقت اور نامساعد حالات میں انسانیت کی خدمت سے سرشار ڈاکٹرو ں اور طبی عملے کا جذبہ اور خدمات لائق تحسین ہیں۔ حکومت صحت کے شعبے سے وابستہ ان مسیحاؤں کی تمام تر ضروریات ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔بعدازاں وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت گیس کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب،وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر اور سینئر افسران شریک ہوئے، وزیر اعظم کو توانائی خصوصاً گیس کے شعبے میں جاری اصلاحاتی عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔معاون خصوصی ندیم بابر نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کی صورتحال پر تفصیلی بریف کیا اور بتایا اس وقت ملکی ضروریات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اورذخیرے کی صورتحال تسلی بخش ہے۔ ملک میں موجود ریفائنریز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے اٹھائے جانیوالے اقداما ت پر اب تک کی پیش رفت وزیر اعظم کو پیش کی گئی۔اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا توانائی کے شعبے سے متعلقہ مسائل کا پائیدار حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، توانائی کے شعبے سے متعلقہ مسائل عوام کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، معاملات کے حل کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے، نظام میں موجود خرابیوں اور دستیاب وسائل کو موثر طریقے سے بروئے کار لا کر ہی عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے،ایسے علاقوں جہاں قدرتی گیس کی فراہمی ممکن نہ ہو وہاں ایل پی جی کی دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ عوام کی روزمرہ کی ضرورتیں باآسانی پوری ہو سکیں اور جنگلات کی کٹائی کی حوصلہ شکنی ہو۔ لہذا اس شعبے میں اصلاحات کا عمل بلاتعطل جاری رکھا جائے گا۔گیس کے محدود ذخائر اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان وسائل کا بہترین اور منافع بخش استعمال یقینی بنایا جائے۔ حکومت نے تعمیراتی صنعت کو بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اس سلسلے میں آج ایک بڑے پیکج کا اعلان کیا جائیگا۔اس بات کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں کاروباری شخصیات میں ٹیکس ریفنڈز کے چیک تقسیم کرنے کیلئے منعقدہ تقریب میں کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ورکر مدد او اس تک پہنچنا زیادہ آسان ہے تاہم جو افراد یومیہ اجرت کمانے والے ہیں اور ان کا کہیں اندراج نہیں ان تک احساس پروگرام کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔وزیراعظم نے بتایا ان افراد کو ایس ایم ایس مہم کے ذریعے اعلان کردہ 12 ہزار ارب روپے میں سے فنڈز فراہم کیے جائیں کیونکہ یہ گھرانے اس وقت سب سے زیادہ مشکل میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ کاروباروں کو اسلیے سپورٹ کرنا ہے کہ بزنس کمیونٹی کے بغیر ملک آگے بڑھ ہی نہیں سکتا اور حکومت کا شروع سے یہی فیصلہ ہے کہ ملک میں صنعت کو فروغ دینا ہے، بزنس کو مراعات اور جس طرح 60 کی دہائی میں پاکستان میں صنعتی ترقی ہورہی تھی وہی ماحول فراہم کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہاٹیکس ریفنڈز دینا اسی منصوبے کا حصہ ہے جو پہلے نہیں دیے جاتے تھے جس کی وجہ ہماری صنعت دوبارہ سرمایہ کاری نہیں کرسکتی تھی اور آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔انہوں نے بتایا حکومت کی پوری کوشش ہے کہ بزنسز کو ریفنڈ دیے جائیں تا کہ ان کے لیکویڈیٹی ہو اس کے علاوہ وزارت تجارت و صنعت کو ہدایت کی گئی ہے تمام چیمبرز آف کامرس سے رابطے کر کے اس بات پر غور کیا جائے کہ کس طرح مل کر اس مشکل وقت سے نکلا جائے۔وزیراعظم نے کہا یہ مشکل صرف ہمارا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے بلکہ امیر ترین ملک امریکہ بھی مشکلات کا شکار ہے جن کی صرف معیشت زد میں ہے لیکن ہمیں بھوک کے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔بزنس کمیونٹی کیلئے ضروری ہے کہ وزارت تجارت اور صنعت تمام اسٹیک ہولڈرز اور چیمبرز کیساتھ مل بیٹھ کر روزانہ کی بنیاد پر اس بات کا جائزہ لیں کہ اس مشکل وقت سے کس طرح نکلا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم روزانہ اجلاس کر کے پوری قیادت کورونا وائرس کے باعث ملکی اور معاشی حالات کا جائزہ لیتی ہے۔ہمیں ایک طرف یہ دیکھنا ہے کہ وائرس نہ پھیلے جس کے حوالے سے اللہ کا خاص کرم کے دیگر ممالک میں جو تعداد ہے پاکستان میں اس سے کہیں کم ہے اور اپنے وسائل سے اس پر قابو پالیں گے۔ ہماری پوری کوشش ہے لاک ڈاؤن میں لوگوں کا اجتماع نہ ہو اور ایسی جگہیں مثلاً شادیاں، سکولز، کھیلوں کے مقابلے بند کردیے ہیں اور اس میں 2 ہفتے کی توسیع بھی کردی ہے اور عوام کو بھی خود ایسی جگہوں پر جانے سے گریز کا کہا جارہا ہے جہاں مجمع اکٹھا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ہمیں اس بات کا توازن بھی رکھنا ہے کس صنعت کو جاری رکھا جائے جس پر مسلسل غور جاری ہے کہ کون سی صنعت چلتی رہے تو لوگوں کے روزگار کا سلسلہ بھی جاری رہے گا اور وائرس کے پھیلاؤ کا خوف بھی نہیں رہے گا یہ حکومت کا اس وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ا وزارت تجارت و صنعت نے ان صنعتوں کی فہرست تیار کی ہوئی ہے کہ کون کون سی صنعتیں چل سکتی ہیں جس میں وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے۔آج بروزجمعہ تعمیراتی صنعت کیلئے ایک بڑے پیکج کا اعلان کروں گا، حکومت نے فیصلہ کیا ہے تعمیراتی صنعت کو مراعات دینی ہیں اور اس کو چلانے میں مدد فراہم کرنی ہے۔ کیونکہ ہمارا یہ خیال ہے سڑکیں بننے سے کرونا کے پھیلاؤ کا خوف نہیں ہوگا، لوگوں کا ہجوم اکٹھا نہیں ہوگا یوں تعمیراتی صنعت سے منسلک دیگر صنعتیں بھی چلنا شروع ہوجائیں گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا اس کیلئے ان صنعتوں کو حدود و شرائط سے آگاہ کیا جائے گا کہ کن ایس او پیز کو مدِ نظر رکھ کر کام کیا جاسکتا ہے لیکن ہم نے تعمیراتی صنعت کو کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ کہیں یہ نہ ہو کرونا سے بچاتے بچاتے لوگوں کو بھوک سے مرنے سے نہ بچا پائیں۔پاکستان اور دیگر ممالک میں ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے جو اس صورتحال سے متاثر ہو کر بیروزگار ہے اور ہمارے وسائل اتنے نہیں کہ سب تک پہنچا جاسکے،اس لئے فیصلہ کیا ہے تعمیراتی صنعت کو کھولا اور بڑا ریلیف پیکج دیا جائے گا۔ادھر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ عالمی وبا کرونا وائرس کے پیش نظر جاری لاک ڈاؤن کے دوران شہریوں کے مسائل نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں۔وزیراعظم آفس کی جانب سے ایک خصوصی مراسلہ جاری کیا گیا جس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے افسران کو ہدایات جاری کی ہیں۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے خصوصی مراسلے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤ ن کے باعث شہریوں کو مسائل کا سامنا ہے، سرکاری افسران مسائل کے حل کے لیے شہریوں سے رابطے میں رہیں۔وزیراعظم آفس کے مراسلے کے مطابق کورونا کے باعث شکایات کے حل کا دورانیہ 41 سے 60 روز کردیا ہے۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا کہ سرکاری افسران کو گھروں سے کام کے لیے پورٹل کی سہولت میسر ہے، افسران شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے اقدامات کریں۔

وزیر اعظم اعلان

اسلام آباد،لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد، گلگت بلتستان (سٹاف،جنرل رپورٹرز، بیورورپورٹس،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس کے باعث ملک بھر میں مجموعی کیسز کی تعداد 2373 ہوگئی جبکہ مزید 6 ہلاکتوں کے بعد وائرس سے مرنیوالوں کی تعداد 34 ہوگئی۔ سندھ میں 761، پنجاب میں 914، خیبرپختونخوا میں 276، گلگت بلتستان میں 187، بلوچستان میں 169، اسلام آباد میں 62، آزاد کشمیر میں 9 افراد کرونا وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ ملک بھر میں 107 افراد صحت یاب ہوگئے۔ پاکستان میں اب تک کرونا وائرس سے ہونیوالی ہلاکتوں میں سے پنجاب میں سب سے زیادہ 11 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ سندھ میں 9، خیبرپختونخوا 8، گلگت بلتستان 2 اور بلوچستان میں ایک شخص جاں بحق ہوچکا ہے۔ پنجاب کے ضلع لاہور میں 4، راولپنڈی 3 جبکہ رحیم یار خان اور فیصل آباد میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔ سندھ میں تمام ہلاکتیں کراچی میں ہوئی ہیں۔تفصیلا ت کے مطابق پاکستان میں جمعرات کرونا وائرس کے اب تک 138 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اور 5 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جن میں سے خیبرپختونخوا میں 2، پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان میں ایک ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے،اب تک پنجاب میں 69 کیسز ایک ہلاکت، سندھ میں 34 کیسز ایک ہلاکت، خیبرپختونخوا 23 کیسز 2 ہلاکت، گلگت 3 کیسز ایک ہلاکت، بلوچستان 5 اور اسلام آباد میں مزید 4 کیسز سامنے آئے ہیں۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے صوبے میں ایک اور ہلاکت کی تصدیق کی جس کے بعد سندھ میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ ٹنڈو محمد خان سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ مریض کو 28 مارچ کو حیدرآباد کے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جس کا کرونا کا ٹیسٹ مثبت آیا،انتقال کرنیوالا مریض تبلیغی جماعت کا رکن تھا۔علاوہ ازیں محکمہ صحت کی سمری کے مطابق سندھ میں اب تک کرونا وائرس کے 34 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 743 ہوگئی ہے۔سمری کے مطابق کراچی میں 17، حیدرآباد 9، شہید بے نظیر آباد 6 اور جامشورو میں 2 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ تمام کیس لوکل ٹرانسمیشن کے ہیں۔خیبرپختونخوا میں اب تک کرونا کے 23 کیسز اور مزید 2 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 276 ہوگئی،ہلاکتوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔کرونا وائرس سے انتقال کرنیوالے 2 مریضوں میں سے ایک کا تعلق بنوں اور ایک کا نوشہرہ سے ہے۔صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا کی جانب سے ہلاکتوں اور نئے کیسز کی تصدیق کی گئی۔صوبائی وزیر صحت کی جانب سے جاری سمری کے مطابق صوبے میں اب تک وائرس سے 29 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔پنجاب میں جمعرات کرونا وائرس کے مزید 69 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ لاہور میں ایک ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی ہے جس کے بعد پنجاب میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 11 اور مجموعی کیسز 914 ہوگئے ہیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے پنجاب میں جمعرات کو ایک اور ہلاکت کے بعد مجموعی طور پر 11 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور میں 5، راولپنڈی میں 4، فیصل آباد اور رحیم یار خان میں ایک ایک مریض جاں بحق ہوا۔ترجمان نے بتایا ڈی جی خان سے 213 زائرین اور ملتان سے 91 زائرین میں وائرس کی تصدیق ہوئی، رائے ونڈ قرنطینہ میں 142 اور فیصل آباد قرنطینہ میں 5 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق لاہور میں 199، گجرات 90، جہلم 28، راولپنڈی 53، ننکانہ 13، گوجرانوالہ 14، فیصل آباد 9، سرگودھا 10، حافظ آباد،ڈی جی خان 5، منڈی بہاوالدین 4، رحیم یار خان،میانوالی،بہاولنگر 3، نارووال،ملتان، وہاڑی، لودھراں 2 جبکہ اٹک،خوشاب،سیالکوٹ، بہاولپور، قصور اور لیہ میں ایک ایک کیس ہے۔ایک رو قبل بدھ کو پنجاب میں کورونا سے راولپنڈی میں 83 سالہ شخص جاں بحق ہوا تھا جو پنڈی میں چوتھی ہلاکت تھی۔پنجاب میں ہونیوالی 11ہلاکتوں میں سے لاہور میں جمعرات کو ہونیوالی ایک ہلاکت کے بعد 5 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، راولپنڈی میں 4 اور رحیم یار خان، فیصل آباد میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔بلوچستان میں کرونا وائرس کے مزید 5 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 169 ہوگئی ہے تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے نئے کیسز کی تصدیق نہیں کی گئی۔بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق صوبے میں 17 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ بلوچستان میں اب تک ایک شخص کورونا سے ہلاک ہوا ہے۔جمعرات کو اسلام آباد میں مزید 4 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔پورٹل کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں کیسز کی مجموعی تعداد 62 ہوگئی ہے۔ جمعرات کو گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے مزید 3 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں جس کے مطابق علاقے میں کیسز کی مجموعی تعداد 187 ہوگئی ہے اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے محکمہ اطلاعات نے علاقے میں کرونا سے ایک اور ہلاکت کی تصدیق کی ہے جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔گلگت بلتستان کے محکمہ اطلاعات نے مجموعی کیسز کی تعداد 183 بتائی ہے اس طرح پورٹل اور محکمہ اطلاعات کے نمبرز میں 4 نمبرز کا فرق ہے۔گلگت بلتستان میں اب تک کرونا وائرس سے ہونیوالی ہلاکتوں میں وائرس کی تشخیص کرنیوالے ڈاکٹر اسامہ بھی شامل ہیں۔گلگت بلتستا ن میں اب تک کرونا وائرس سے 6 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔آزاد کشمیر میں بدھ کے روز کورونا وائرس کے مزید 3 کیسز سامنے آئے جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی تھی۔

پاکستان کرونا

بیجنگ،واشنگٹن،لندن،پیرس،روم،برلن،میڈرڈ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)دنیا بھر میں نوول کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے نو لاکھ سے زائد اور ہلاکتیں 50ہزار کے قریب پہنچ گئیں،اٹلی کے بعد سپین 10ہزار سے زائد ہلاکتوں کیساتھ زیادہ اموات والا دوسرا ملک بن گیا،امریکہ 5ہزار سے زائد ہلاکتوں کیساتھ تیسرے نمبر پر ہے، امر یکی صدر نے کرونا مریضوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود گھروں میں رہنے کا قومی حکم جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے،فجی نے کرونا وائرس کے مزید 2مریضوں کی تصدیق کے بعد دارالحکومت میں لاک ڈان کردیا،افغانستان میں 43نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد239ہوگئی،بیلاروس نے چین کی جانب سے فوری ٹیسٹ کرنے کا ساما ن حاصل کرلیا۔جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس کے 2لاکھ10ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ کئی گھنٹے پہلے امریکہ ایسا پہلا ملک بن گیا جہاں 2لاکھ سے زائد مریض سامنے آئے ہیں۔اس بیماری کے ہاتھوں 24گھنٹوں میں ایک ہزار سے زائد اموات کے اضافے کے بعد گزشتہ روز ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5ہزار سے بڑھ گئی۔جونز ہاپکنز یونیورسٹی کے مرکز برائے سسٹمز سائنس اینڈ انجینئرنگ نے 0500 جی ایم ٹی 2 اپریل کو کرونا وائرس سے بری طرح متاثرہ ملکوں میں عالمی مصدقہ کیسز کی تازہ ترین اپ ڈیٹس جا ری کی ہیں جس کے مطا بق دنیا بھر میں مصدقہ کیسز کی تعداد 9لاکھ37 ہزار 170۔امریکہ میں 2لاکھ 16 ہزار 721،اٹلی میں 1لاکھ 10 ہزار 574، سپین میں 1 لاکھ 4ہزار118،جرمنی میں 77ہزار 981اور فرانس میں 57ہزار763 ہو گئی۔ اسی طر ح ایران میں مصد قہ مر یضو ں کی تعداد 47ہزار593،برطانیہ میں 29 ہزار865،سوئٹرزلینڈ میں 17ہزار768،ترکی میں 15ہزار679 اور چین میں 82ہزار394 ہو گئی ہے۔چین کے قومی صحت کمیشن(این ایچ سی)نے جمعرات کو کہا چینی مین لینڈ پر ملک کے اندر منتقل ہونیوالے نوول کرونا وائرس کے کسی بھی کیس کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔نوول کرونا وائرس کے تمام35 تصدیق شدہ کیسز کا تعلق بیرون ملک سے آ نے والوں سے تھا جس سے اس وبا کے درآمد کیسز کی تعداد 841 ہوگئی ہے۔ ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے (ایس اے آر)میں 4 اموات کیساتھ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 765تھی،مکا ایس اے آر میں مصدقہ کیسز کی تعداد 41 اور 5 اموات کیساتھ تائیوان میں کیسز کی تعداد 329 تھی۔ہانگ کانگ میں کل 147، مکا میں 10 اور تائیوان میں 45 مریضوں کو صحت یابی کے بعد ہسپتالوں سے فارغ کردیا گیا تھا۔فرانس میں کرونا وائرس قابو سے باہر ہو گیا، گزشتہ روز کرونا سے 509 افراد ہلاک ہوگئے۔ فرانس کی حکومت نے خصوصی ٹرینوں کا انتظام کرکے ہنگامی بنیادو ں پر مریضوں کو دور دراز علاقوں اور جرمنی کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا، فرانس میں کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 4032 تک جاپہنچی۔حکومت نے لاک ڈاون مزید سخت کرتے ہوئے جرمانہ کی شرح دو سو فیصد بڑھا دیا، ہسپتالوں میں ڈاکٹر پیرا میڈیکل اسٹاف دن رات ایک کرکے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر مریضوں کی دیکھ بھال کررہے ہیں جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔24639 افراد کے کرونا مثبت ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جو فرانس کے مختلف ہسپتالوں میں داخل ہیں، فرانس میں اس وقت 6017 افراد ہسپتالوں کی انتہائی نگہدا شت یونٹ میں زیر علاج ہیں۔ادھرفجی میں نوول کرونا وائرس کے مزید 2مریضوں کی تصدیق کے بعد حکومت نے آج جمعہ کی علی الصبح سے دارالحکومت سووا میں لاک ڈان کرنے کا اعلان کردیاہے۔ فجی کے وزیراعظم ووریق بینی ماراما نے کہا چھٹا مریض21سالہ خاتون جبکہ ساتواں مریض اس کا 33سالہ شوہر ہے۔ ان دونوں کا تعلق سووا سے ہے اور اب دونوں کو سووا سے مغرب کی جانب تقریبا 39 کلومیٹر دور واقعہ ناووا ہسپتال میں الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔وزیراعظم کے مطابق عظیم سووا کا علاقہ آج جمعہ کی صبح 5بجے سے اگلے 14روز کیلئے لاک ڈان کردیاجائے گا۔ انہوں نے ملک بھر میں کرفیو اب رات 8بجے سے صبح5بجے تک لگانے کا بھی اعلا ن کیا۔

دنیا کرونا

مزید :

صفحہ اول -