کورونا کی آڑ میں حکمران اسلام دشمن ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں: عبد الوحید قریشی

کورونا کی آڑ میں حکمران اسلام دشمن ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں: عبد الوحید قریشی

  

حیدرآباد(بیورورپورٹ)جماعت اسلامی سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری و سابق ایم پی اے عبدالوحید قریشی نے سندھ بھر میں نماز جمعہ کے اوقات میں خصوصاً لاک ڈاؤن سخت کر کے نماز کی ادائیگی کو روکنے اور حیدرآباد میں گنجان آبادیوں میں قرنطینہ سینٹر قائم کرنے کی فیصلے کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا ہے کہ ان فیصلوں کو واپس لیا جائے۔ ایک بیان میں عبدالوحید قریشی نے کورونا وائرس سے تحفظ کے لئے ماہرین کی تجویز کردہ احتیاطی تدابیر پر ضرور عمل ہونا چاہئے لیکن یہ اس سے بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالی سے زیادہ سے زیادہ توبہ استغفار کیا جائے مگر حکومت نے پہلے مساجد میں نماز کو محدود کرنے کی آڑ میں عملًا پابندی لگا دی اور مساجد جانے سے نمازیوں کو جبری روکا گیا اور اب جمعہ کو دن 12بجے سے سہ پہر 3بجے تک لاک ڈاؤن سخت کرنے کا اعلان کیا جس کا مقصد مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات کو جبری روکنا ہے یہ اقدامات اللہ تعالی کے غیض و غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہیں اس سے کورونا کی وباء کو روکنے میں تو کوئی مدد شائد ہی ملے لیکن اللہ تعالیٰ کی ناراضگی قوم کے لئے بڑے نقصان کا سبب بنے گی،انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے تدارک کے اقدامات کی آڑ میں حکمران اسلام دشمن ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں اگر اس سے وہ باز نہ آئے تو خود بھی وباء سے نہیں بچ سکیں گے،انہوں نے کہا کہ دعوؤں کے برعکس وفاقی حکومت اور سندھ کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور عملے کے افراد ضروری سہولتوں سے محروم ہیں تو مریضوں کو کیا سہولتیں حاصل ہوں گی،عام ادویہ بھی ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے شہر سے باہر وسیع سرکاری خالی عمارتیں قرنطینہ مراکز کے لئے دستیاب ہونے کے باوجود سول ہسپتال حیدآباد،گورنمنٹ کوہسار ہسپتال،میمن ہسپتال سمیت دیگر مقامات پر قرنطینہ مراکز قائم کئے گئے ہیں، ڈاکٹروں عملے دیگر مریضوں کی ہی نہیں ہزاروں خاندانوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ نماز جمعہ جبری روکنے اور آبادیوں میں قرنطینہ سینٹر بنانے پر عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے،حکومت یہ فیصلہ فوری واپس لے، انتظامیہ اور پولیس کو جبر تشدد سے روکا جائے ورنہ شدید ردعمل ہو گا،انہوں نے کہا کہ بظاہر وفاقی اور صوبائی حکومت نے غریبوں اور محنت کشوں کے لئے اربوں روپے کے ریلیف پیکیجز دینے اور گھروں تک خوراک کی اشیاء پہنچانے کا اعلان کیا ہے لیکن عملًا اس کا کوئی انتظام نظر نہیں ا ٓرہا غریب مزدور کم آمدنی والے لاکھوں خاندان شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -