ہمارے بچے

ہمارے بچے
ہمارے بچے

  

بچے دنیا کا وہ واحد کھلونا ہیں جو چڑچڑے انسان کو بھی ہنسنے اور خود سے محبت کرنے ہر مجبور کر دیتے ہیں اگر ہم بچوں پہ بات کرنے بیٹھیں تو دراصل یہ آفت کی وہ پڑیا ہیں جو خوش مزاج کو بھی غصے میں بآسانی مبتلا کر دیں اور اپنی شرارتوں سے پریشان شخص کے چہرے پر بھی مسکراہٹ کے آئیں بہت سے ایسے تنہا پسند لوگ ہیں جنہیں بچے پسند نہیں ہوتے مگر ایک عمر یا مدت بعد انہیں بھی کہیں نا کہیں کسی بچے سے لگاؤ ہو جاتا ہے کیونکہ بچے ہوتے ہی اتنے پیارے اور معصوم ہیں ۔

اگر موجودہ دور کے بچوں کی بات کی جائے تو جہاں موجودہ دور کے بچے بےحد ذہانت کے ساتھ دنیا میں تشریف رکھتے ہیں وہیں انکی اس ذہانت سے ماں باپ کا ڈیل کرنا ایک انتہائی مشکل امر ہو جاتا ہے بچوں کے سوالات پہ سوالات کرنے کی عادت ہر چیز کو اپنے انداز سے چیک کرنے کی عادت کہیں ٹک کر نہ بیٹھنے والی عادتوں نے ماں باپ خصوصاً ماں کو شدید پریشان کر رکھا ہے ماؤں کو اپنی ایک آنکھ لازمی بچے پہ رکھنی پڑتی ہے وگرنہ کوئی بھروسہ نہیں کہ کب لوشن ڈریسنگ ٹیبل کو سفید کر دے واش روم میں پانی کے ٹب بہتے ہوئے ملیں یا بچے خود کو خود ہی کوئی چوٹ پہنچا لیں.

اسی لیے موجودہ دور کے بچوں کی ایک سال سے لے کر چار سال تک کی عمر میں ماؤں کی خاصی کڑی مشقت ہو جاتی ہے وہ سکون اور سکھ کا سانس لیتی ہیں جب انکے گھر کی آفتیں اسکول میں قدم رکھنے کی عمر کو پہنچتی ہیں گوکہ بچوں کا تعلیمی دور بھی اپنے آپ میں آسان نہیں مگر اس ذمہ داری میں ماں باپ کے ساتھ اسکول اور ٹیوشنز والے بھی حصے دار ہیں تو اس لیے بچوں کا یہ دور ماؤں کے لیے نسبتاً آسانیاں لے کر آتے ہیں.

اگر موجودہ دور کے بڑے بچوں کی بات کی جائے تو میری اور دوسری بہت سی ماؤں کے خیالات کے مطابق اس نسل کو موبائل سے فرصت ہی نہیں ہے جبکہ دیکھا جائے تو اس جنریشن کے بچے میٹرک کے بعد کالج میں قدم رکھنے کے ساتھ ساتھ کوئی نا کوئی ذریعہ معاش بھی تلاش کرتے ہیں کوئی اگر کمپیوٹر میں اچھا ہے تو فری لانسر کے طور پر کام کرتا ہے کوئی ٹیوشن پڑھاتا ہے لڑکیاں ٹیچنگ کی طرف چلی جاتی ہیں لیکن اماؤں کو یہ سمجھانا ایک انتہائی مشکل امر ہے کیونکہ انہیں کچھ کہا جائے تو ارشاد فرماتی ہیں کہ اس نسل سے تقریریں کروا لو وہ اچھی کر دیتے ہیں کام کا بولو تو وہیں موت پڑ جاتی ہے اور اسی سوچ کے نتیجے میں تھوڑے سے مذہبی ماں باپ کو یہ بھی لگنے لگتا ہے کہ عذاب ہمارے موبائل کے استعمال کی وجہ سے آتے ہیں انہیں یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ عذاب موبائل کے غلط استعمال سے تو آ سکتے ہیں مگر اللہ اتنا بھی قہار و جبار نہیں کہ محض موبائل کے استعمال پہ کرونا اور زلزلے جیسی سخت آفات بھیجے.

کتنا مشکل لگتا ہے سادہ لوح ماں باپ سے یہ کہنا کہ عذاب اس لیے بھی آتے ہیں کہ آپ سے بڑی یا آپکی عمر کے لوگ اسلامیات میں نمبر نہ دینے کے بہانے کیسے لڑکیوں کو بلیک میل کرکے اسلام کو مذاق بناتے ہیں قرآن پڑھانے والے قاری کیسے معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر بچوں سے شفقت سے پیش آنے والی حدیث سے انحراف کرتے ہیں کیسے محلے کے بزرگ جوان اور ادھیڑ عمر اشخاص چودہ برس کی عمر کی بچی کو مسلسل اجتماعی زیادتی کا شکار کرکے پڑوسیوں کے حقوق کی شدید توہین کرتے ہیں۔

میری موجودہ حکومت سے نفرت کہہ لیں یا ناراضگی کی سب سے پہلی وجہ میرے ملک میں روزانہ کے بنیاد پر دس کے قریب اس گندی ذہنیت اور فطرت والوں کے ہاتھوں سے مرنے والے بچے ہیں 2018 سے قائم اس حکومت کے دور میں اب تک آٹھ سے دس ہزار سے زائد بچے اس وجہ سے مر چکے ہیں پچھلے سال ملک میں پانچ سے چھ ہزار سے زائد زیادتی کے کیس رجسٹرڈ ہوئے کیسی ایک مجرم کو سزا نہیں ملی حکومت نے ایک بل پاس کرکے عوام کے منہ پہ بند باندھ دئیے وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی کے مطابق پھانسی کی سزا کا کوئی فائدہ نہیں. جبکہ آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں ہر جرم پہ سزا دی گئی کیونکہ سزا سے جرم کی تعداد میں پہلے کمی آتی ہے اور مستقل سزا پہ عمل درآمد سے وہ جرم مٹنے لگتا ہے کیونکہ سزا جرم کی نفسیات ہے جب تک سزا کا ڈر نہیں ہوگا تب تک مدرسے کے قاری یونیورسٹی کے پروفیسر دور قریب کے رشتے دار محلے کے پڑوسی ہمارے بچوں کو اپنے لیے استعمال کرکے مارتے رہیں گے اور ایک نسل پروان چڑھنے سے پہلے ہی بوریوں میں سے کھیتوں میں سے نالوں میں سے ملتی رہے گی اور زمین میں دفن ہوتی رہے گی ۔

مہنگائی اور بل کے مسائل اپنی جگہ زندگی کو مشکل بناتے ہیں مگر اس طرح معصوم بچوں کا مرنا عذاب کے ہم پہ مسلط ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے جب تک حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کرے گی میں اس حکومت کو نااہل تسلیم کروں گی جس نے میرے ملک کی ایک نسل تباہ کر دی ہے اور ابھی بھی اس جرم پہ بند باندھنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی.

اللہ ہمارے بچوں کا حامی و ناصر ہو

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -