پاکستانی شاعر شفیق سلیمی خالق حقیقی سے جاملے

پاکستانی شاعر شفیق سلیمی خالق حقیقی سے جاملے
 پاکستانی شاعر شفیق سلیمی خالق حقیقی سے جاملے

  

دبئی (طاہر منیر طاہر) متحدہ عرب امارات میں گزشتہ 35 سال سے مقیم پاکستانی شاعر شفیق سلیمی   اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ شفیق سلیمی کا تعلق لاہور پاکستان سے ہے اور انہوں نے ابوظہبی کے ایک تعلیمی ادارے میں بطور معلم اپنے فرائض انجام دئیے ہیں۔ سکول میں استاد ہونے کے ساتھ ساتھ وہ شاعری میں بھی استاد کی حیثیت سے مانے جاتے ہیں۔ شفیق سلیمی کے سانحہ ارتحال پر ان کے قریبی جاننے والوں شاعر امجد اقبال امجد، ڈاکٹر ثروت زہرہ، ڈاکٹر زبیر فاروق، اشرف صدیقی اور سید تابش زیدی نے شفیق سلیمی کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک اعلیٰ پائے کے شاعر اور انتہائی نفیس انسان تھے۔ اپنے نام کی طرح وہ انتہائی شفیق بھی تھے۔

مرحوم شاعری کی دنیا میں ایک اعلیٰ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک استاد کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ بہت سے لوگوں نے ان سے شاعری سیکھی اور شاعری میں ضروری اصلاح بھی لی۔ شفیق سلیمی مرحوم جتنا عرصہ بھی متحدہ عرب امارات میں رہے وہ ہر قسم کی ادبی سرگرمیوں خصوصاً مشاعروں کے انعقاد میں سرگرم رہے۔ ان کی صدارت میں متعدد مشاعرے بھی ہوئے جبکہ خود انہوں نے بہت سے یادگار مشاعروں میں حصہ بھی لیا۔ شفیق سلیمی کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے امجد اقبال امجد نے ”شام سخن“ کے نام سے جبکہ سید تابش زیدی نے ”ایک شام شفیق سلیمی کے نام“ سے خصوصی تقریباً کا اہتمام بھی کیا جس میں ان کی ادبی خدمات کو بھرپور الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

مقامی عرب شاعر ڈاکٹر زبیر فاروق نے بتایا کہمرحوم شفیق سلیمی شاعری میں ان کے استاد تھے۔ معروف شاعرہ ڈاکٹر ثروت زہرہ نےبتایا کہ شفیق سلیمی کے انتقال سے شعر و ادب کا ایک باب بند ہوگیا ہے اور شاعری کی دنیام یں ایک خلا محسوس ہورہ اہے۔ مرحوم ایک باکمال شاعر تھے۔ شفیق سلیمی مرحوم کے پرانے دوست اشرف صدیقی جو آج کل دوحہ قطر میں ہیں انہوں نے کہا کہ شفیق سلیمی نے بیرون ملک رہ کر علم و ادب کی جو خدمت کی ہے اور اردو زمان کے فروغ کے لیے جس قدر کام کیا ہے وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ علیحدہ علیحدہ پیغامات میں شفیق سلیمی کے چاہنے والوں نے ان کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے دعائے صبر جمیل کی ہے۔

مزید :

تارکین پاکستان -