ملکی سیاسی تاریخ کا بڑا دن، وزیر اعظم کی قسمت ،وزیر اعلیٰ پنجاب کی کرسی کا فیصلہ آج ہوگا

ملکی سیاسی تاریخ کا بڑا دن، وزیر اعظم کی قسمت ،وزیر اعلیٰ پنجاب کی کرسی کا ...
ملکی سیاسی تاریخ کا بڑا دن، وزیر اعظم کی قسمت ،وزیر اعلیٰ پنجاب کی کرسی کا فیصلہ آج ہوگا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد / لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) گزشتہ ماہ شروع ہونے والی سیاسی گرما گرمی آج اپنے عروج کو پہنچنے والی ہے۔  اسلام آباد میں وزیر اعظم کے  خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی تو لاہور میں نئے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا میلہ بھی سجے گا۔

آج صبح 11 بجے قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا جس میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جائے گی۔ متحدہ اپوزیشن اتحاد کا دعویٰ ہے کہ ان کے نمبر نہ صرف پورے ہیں بلکہ تحریک انصاف کے منحرف ارکان کے بغیر ہی ان کی تعداد مطلوبہ 172 ووٹوں سے بڑھ چکی ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں مسلم لیگ( ن) ، پیپلز پارٹی ، متحدہ مجلس عمل، بلوچستان عوامی پارٹی اور حکومت کی سابقہ اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان پر امید ہیں کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجائے گی۔ انہوں نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر انہیں تحریک عدم اعتماد میں شکست ہوتی ہے تو وہ اس کے نتائج  تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ یہ سارا معاملہ ہی مشکوک اور غیرملکی فنڈڈ ہے۔

دوسری جانب پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے اسمبلی کا اجلاس ساڑھے 11 بجے ہوگا۔  تحریک انصاف کے اتحاد کی طرف سے مسلم لیگ( ق) کے چوہدری پرویز الہٰی وزارت اعلیٰ کیلئے امیدوار ہیں جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے مسلم لیگ( ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز کو اس عہدے کیلئے نامزد کیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے امیدوار کی جانب سے رات گئے اپنے حامی ارکان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا جس میں (ن )لیگ کے دعوےکے مطابق 200 سے زائد ارکان شریک ہوئے۔ حمزہ شہباز کو  تحریک انصاف کے منحرف دھڑوں ترین گروپ اور علیم خان گروپ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ ترین گروپ کے 13 جب کہ علیم خان گروپ کے9 ارکان نے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ  پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر اسد کھوکھر اور نذیر چوہان بھی حمزہ شہباز کو ووٹ دیں گے۔