علامتی سپیکر ایاز صاد ق نے ڈپٹی سپیکر  قاسم سوری کی رولنگ  کے خلاف اپنی رولنگ دیدی

علامتی سپیکر ایاز صاد ق نے ڈپٹی سپیکر  قاسم سوری کی رولنگ  کے خلاف اپنی رولنگ ...
علامتی سپیکر ایاز صاد ق نے ڈپٹی سپیکر  قاسم سوری کی رولنگ  کے خلاف اپنی رولنگ دیدی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی میں سپیکر کی جانب سے اجلاس ملتوی کرنے کے بعد  اپوزیشن جماعتوں   کا اجلاس ہوا  ، مسلم لیگ (ن) کے رہنما  ایاز صادق نے سپیکر قومی اسمبلی کی کرسی سنبھال لی اور تحریک عدم اعتماد پر کارروائی شروع کر دی ہے۔علامتی سپیکر نے ڈپٹی سپیکر  قاسم سوری کی رولنگ  کے خلاف اپنی رولنگ دے کر قاسم سوری کی رولنگ کو مسترد کر دیا۔علامتی اجلاس میں اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جس کے حق میں  195 ارکان نے ووٹ دیے ۔

ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی جانب سے  تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کرنے کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا تاہم اپوزیشن جماعتوں  نے اپنا اجلاس شروع کر دیا جس دوران قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ایاز صادق اس دوران سپیکر کی کرسی پر براجمان ہو گئے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں مرتضیٰ جاوید عباسی نے پینل آف چیئر کا اعلان کر دیا ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیاہے۔

علامتی سپیکر نے ڈپٹی سپیکر  قاسم سوری کی رولنگ  کے خلاف اپنی رولنگ دے کر قاسم سوریکی رولنگ کو مسترد کر دیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اپوزیشن کی جانب سے سپیکر کی رولنگ پر دھرنا دیا گیا تھا ۔ 

یاد رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت شروع ہو اجس پر انہوں نے فواد چوہدری کو گفتگو کا موقع دیا ، فواد چوہدری نے نشست پر کھڑے ہو کر تحریک عدم اعتماد کے خلاف آرٹیکل 5کے تحت تحریک پیش کی جسے سپیکر نے قبول کرتے ہوئے آئینی طور پر درست قرار دیا اور تحریک عدم اعتماد کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی اور رولنگ جاری کر دی ،سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔

 وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ  میں اپنی پوری قوم کو مبارک با د دینا چاہتاہوں قومی اسمبلی کے سپیکر نے غیر ملکی سازش کے تحت پلان کی گئی عدم اعتماد کی تحریک کو اپنے آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مسترد کر دیاہے ۔مجھے کل سے اتنے لوگ پیغام دے رہے تھے کہ پریشان ہیں کہ یہ کیا ہو رہاہے ، ساری قوم کے سامنے غداری ہو رہی تھی ، سازش ہو رہی تھی ، میں ان کو پیغام دینا چاہتاہوں کہ گھبرانا نہیں ہے ، اللہ اس قوم کو دیکھ رہاہے ، 27 رمضان کو پاکستان وجود میں آیا تھا ، اس طرح کی سازش یہ قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی ، سپیکر نے اپنی آئینی طاقت استعمال کرتے ہوئے جو فیصلہ کیا ہے اس کے بعد میں نے ابھی سے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کر دی ہے ، جمہوریت میں عوام کے پاس جائیں، عوام فیصلہ کریں کہ وہ کس کو چاہتے ہیں۔