ہمارا نظام حکومت ہمارے مسائل کے حل میں کس حد تک کامیاب

 ہمارا نظام حکومت ہمارے مسائل کے حل میں کس حد تک کامیاب
 ہمارا نظام حکومت ہمارے مسائل کے حل میں کس حد تک کامیاب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 وطن عزیز پاکستان میں ہمہ جہتی مسائل روزِ اول سے شروع ہوکر جاری و ساری رہے اور دن بدن ان میں اضافہ ہی نظر آیا۔ آج ان ہمہ گیر مسائل کو عام آدمی کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں،اس کوشش کا مقصد صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ اصلاح احوال  ہے۔ قیام پاکستان کے فوری بعد مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو نئے ملک میں آباد کرنا اور کاروبار حیات میں شریک کرنا تھا کہ یہ لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اور بڑی قربانیاں دیکر پاکستان ہجرت کرنے میں کامیاب ہوے تھے،ان کے معاملات کی دیکھ بھال کیلئے محکمہ بحالیات قائم کرنا پڑا، مگر یہ دراصل محکمہ خرابیات ثابت ہوا، اس وطن عزیز میں کرپشن کی پیدائش اور اس کی آبیاری میں اس محکمہ کا رول ناقابل ِ فراموش ہے اور اسی محکمہ کی کاوشوں کے نتیجہ میں پاکستان میں بحالیات کی مقدمہ بازی کا ایک ایسا دروازہ کھلا کہ 75 سال گزر جانے کے باوجود بھی یہ در بند نہیں ہو رہا، کرپشن میرٹ کا قتل عام کرتی ہے، جب یہ سلسلہ چل نکلا کہ پیسے کے زور پر حقدار کو حق سے محروم کیا جا سکتا ہے تو پھر اس میرٹ کی دھجیاں ہر شعبہ زندگی میں اڑیں اور اتنی دلیری سے اڑیں کہ ہر کوئی انگشت بدندان رہ گیا۔ آگے نکلنے کی ایک دوڑ شروع ہوئی جس میں اخلاقی حدود و قیود کی اس بری طرح دھجیاں اڑائی گئیں کہ الامان الحفیظ، اپنا کام کروانے کے لئے ہر جائز و ناجائز حربہ روا رکھا گیا اور اس کا اطلاق ہر شعبہ زندگی میں کیا گیا اور اس بے دردی سے کیا گیا کہ کہ یہ ہماری زندگی کا لازمی جزو نظر آ نے لگا، اس پر نہ کوئی ندامت نہ پریشانی، مقصد حیات جب صرف یہ ہی ٹھہرا کہ اپنا کام ہونا چاہئے تو پھر غلط اور صحیح کی بحث میں کون پڑتا ہے اور اس روش نے انسانوں میں بے حسی، لا لچ، خود غرضی اور چالاکی کو جنم دیا، ایک ایسے معاشرہ میں جہاں معاشی اور معاشرتی عدم تفاوت عروج پر ہو وہاں اخلاقی گراوٹ جلد پنپتی ہے، کچھ یہی ہمارے ساتھ بھی ہوا،ہم نے میرٹ کی دھجیاں اڑائیں تو اسے کسی خاص شعبہ زندگی تک محدود نہ رکھا،سکول میں بچوں کے داخلہ س لے کر نوکری کا حصول،پولیس، تھانہ کچہری، عدالت، سرکاری دفاتر غرض ہر جگہ سفارش، اقربا پروری، اور کرپشن کو متعارف کرایا اس کاوش میں امیر، غریب، با اختیار اور بے اختیار، اہل اقتدار،اہل سیاست، بزنس کمیونٹی، زمیندار، مزارعہ، سب نے مقدور بھر حصہ ڈالا، حتیٰ کہ ہم اس سٹیج پر آگئے جہاں حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تفریق بھی بالائے طاق رکھ دی گئی۔

قوموں کی تاریخ میں جب اس طرح کا بگاڑ آ جائے تو اسے سنوارنے کے لئے بڑی محنت اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جو ابھی مفقود نظر آتی ہے۔جب کسی معاشرہ سے رول آف لاء ختم ہو جائے اور عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ یہ ملک ایلیٹ کیلئے بنا ہے جس معاشرہ میں تگڑے کے لیے قانون نہ ہو اور کمزور کے لئے انصاف نا پید تو وہ معاشرہ زیادہ دیر تک نہیں چلتا۔اس نظام کی خرابی میں ہر کسی نے مقدور بھر حصہ ڈالا ہے، سرکاری دفاتر میں جب افسر یا کلرک کی جگہ میز پر عینک اور ٹوپی پڑی ہو اور میلوں کا سفر طے کرکے آنے والوں کو جھوٹ مار کر ٹرخایا جا رہا ہو اور وہ سائل بد دعائیں دیتا دفتروں سے نکلتا ہو تو نظام پر سوال تو اٹھیں گے۔ ہمارے ہاں ایک اور المیہ بھی ہے صرف کرپشن، اقربا پروری اور کام چوری ہی بیماریاں نہ ہیں بلکہ کسی بھی سرکاری محکمہ میں کام کرنے والے وہ افسران اور اہلکار جو ہک کے زور پر اپنی ایمانداری منوانے کے لئے سر گرم رہتے ہیں اور اپنے علاوہ سب کو برا سمجھتے ہیں ان میں سے اکثریت کام چور اور نااہل لوگوں کی ہوتی ہے جنہیں لوگ مردم آزار کے نام سے پکارتے ہیں،یہ سوائے لوگوں کو اخلاقیات کا درس دینے اور نمائشی دینداری کے کوئی دفتری کام کر کے خوش نہیں ہوتے، نتیجتاً خلق خدا خوار ہوتی ہے،اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہوگی کہ آج کسی سرکاری دفتر میں جانے سے پہلے کسی سفارشی کا فون کرانا،رقعہ یا وزٹنگ کارڈ دکھانا ضروری ہو چکا ہے، اب تو باقاعدہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس کے ریفرنس سے آئے ہیں، ٹریفک کے کسی رول کی خلاف ورزی پر وارڈن کے روکنے پر سب سے پہلے اسے کہا جاتا ہے کہ تو مجھے جانتا نہیں ہے، پھر کسی نہ کسی کو فون ملا کر اس سے بات کرائی جاتی ہے جو صرف اپنی ڈیوٹی ادا کر رہا ہوتا ہے،

دودھ میں ملاوٹ کرنے والا، سبزی اور فروٹ کم تولنے والا، لوگوں کو تنگ کرنے والے ہر محکمہ میں موجود سرکاری اہلکار اور افسران، میٹر سلو کرکے بجلی چور، دوائیوں میں ملاوٹ کر کے انسانی زندگیوں سے کھیلنے والا تاجر اور چیزوں کو مہنگا کرنے کی نیت سے ذخیرہ اندوزی کرنے والا تاجر اور دکاندار سبھی اس نظام پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں اور ساتھ بڑے دکھ اور تاسف سے یہ اظہار کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ نظام فیل ہو چکا ہے۔ قول و فعل کے اسی تضاد نے ہمارا اخلاقی بھرکس نکال دیا ہے، ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں اس پر نادم بھی نہیں ہوتے، ہم معاملات کو چھوڑ کر عبادات پر توجہ دیتے ہیں حالانکہ عبادات کی معافی ہے جبکہ معاملات کی تلافی، انسان جو خالق کائنات کی سب سے خوبصورت تخلیق ہے اسے ہر سطح اور ہر جگہ تنگ اور ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، نہ اس کی زمین چھوڑتے ہیں نہ جائیداد، نہ عزت نہ عفت، سرکاری دفاتر میں، تھانے کچہری میں، عدالتوں میں کہاں ایک عام انسان اہل ثروت اور اہل اقتدار کے جور و ستم سے محفوظ ہے۔ ہم نے دین کا عبادات والا حصہ پکڑا ہوا ہے اور معاملات والا چھوڑ رکھا ہے، حالانکہ حساب کتاب تو معاملات پر ہونا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو غور سے پڑھا ہی نہ ہے،اس نظام کے بگاڑ میں ہماری سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کا کتنا رول رہا یہ ایک طویل بحث کا متقاضی ہے اور اس کیلئے الگ کالم لکھنا پڑے گا مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس نظام کے بگاڑ میں ہماری سیاسی جماعتوں اور لیڈر شپ کا رول ہر گز قابل ِ ستائش نہ رہا ہے۔ رول آف لاء تو لاگو ہی اوپر سے ہوتا ہے، مگر اس ملک میں اسے نیچے سے نافذ کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، لہٰذا نہ یہ رول آف لاء اوپر نظر آ تا ہے نہ نیچے۔

مزید :

رائے -کالم -