آرٹیکل 184تھری کے تحت سپریم کورٹ حقائق کی انکوائری نہیں کرسکتی،اعظم نذیر

  آرٹیکل 184تھری کے تحت سپریم کورٹ حقائق کی انکوائری نہیں کرسکتی،اعظم نذیر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے جسٹس(ر)تصدق حسین جیلانی سے کمیشن کا سربراہ بنانے سے پہلے رضامندی حاصل کی تھی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کابینہ کی طرف سے کمیشن کے ٹی او آرز کی منظوری کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے مجھے دوبارہ جسٹس(ر)تصدق حسین سے رابطہ کر نے کا کہا تھا، جس پر انہیں ٹی او آرز بھی بھیجے گئے تھے، جس کے بعد انہوں نے کمیشن کا سربراہ بننے کی پیش کش بخوشی قبول کی۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا انہیں سپریم کورٹ کی طرف سے سوموٹو لینے پر حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ تصدق حسین جیلانی کی کمیشن سے علیحدہ ہونے کی اطلاع سوموٹو نوٹس سے ایک گھنٹہ پہلے وزیراعظم ہاوس میں آ چکی تھی۔ جسٹس (ر)تصدق حسین جیلانی کی جانب سے کمیشن سربراہ بننے سے انکار کے بعد سپریم کورٹ نے جو سوموٹو لیا وہ درست فیصلہ ہے۔وفاقی وزیر قانون نے یہ بھی کہا مجھے لگتا ہے کہ آرٹیکل 184 تھر ی کے دائرہ کار میں سپریم کورٹ حقائق کی انکوائری نہیں کرسکتی، شاید ماضی کی طرح اس معاملے میں کمیشن بنایا جائے یا سپریم کورٹ خود اس معاملے کو دیکھے کیونکہ معاملے میں ججوں کی موجودگی کی وجہ سے شاید جے آئی ٹی بنانا مناسب نہ ہو۔

اعظم نذیر

مزید :

صفحہ اول -