حکومت 1.5ملین میٹرک ٹن اضافی،چینی برآمد کر کے ملکی خزانے کو سہارا دے:شاگر ملز ایسوسی ایشن

حکومت 1.5ملین میٹرک ٹن اضافی،چینی برآمد کر کے ملکی خزانے کو سہارا دے:شاگر ملز ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                        لاہور(این این آئی)پاکستان شوگر ملز ایسوایشن (پنجاب زون)کی جنرل باڈی کا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں حکومت کی جانب سے اشیا ئے ضروریہ کی اسمگلنگ کے خلاف اٹھائے گئے موثر اقدامات کو سراہا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ چینی جو اسمگلنگ سے بچائی گئی اسے برآمد کر کے ملک کیلئے قیمتی زرِمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف اپنی شرائط کو منوا کر عوام پر مہنگائی کی صورت میں مسلسل بوجھ لاد رہا ہے۔ اس صورت میں اگر اضافی چینی کو برآمد کیا جائے گا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ عوام کو حاصل ہو گا، قیمتی زرِمبادلہ ملک میں آئے گا  جس کی بدولت حکومت کو کم سے کم بیرونی امداد پر انحصار کرنا پڑے گا۔ اجلاس میں شوگر انڈسٹری کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر تجارت کو لکھے  گئے خطوط پر بھی بات چیت ہوئی۔ خطوط کے مندرجات کے مطابق ملکی شوگر انڈسٹری  نے حالیہ کرشنگ سیزن 24-2023 میں چینی کی سرپلس پیداوار حاصل کی ہے۔ موجودہ سال میں کل دستیاب چینی 7.5 ملین میٹرک ٹن ہے جب کہ ملکی سالانہ کھپت 6.00 ملین میٹرک ٹن ہے جو کہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کے پاس 1.5 ملین میٹرک ٹن کی اضافی چینی موجود ہے جس سے 1.2  ارب ڈالر تک کا زرِمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔کم از کم  1 ملین میٹرک ٹن اضافی چینی کو دو قسطوں میں بغیر کسی اضافی شرائط برآمد کر دیا جائے تا کہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں حالیہ اچھے نرخوں کی بدولت سے ملکی خزانے کو بہترین فائدہ پہنچایا جا سکے۔ بھارت نے اپنی توجہ چینی برآمد کرنے کی بجائے ویلیو-ایڈڈ اشیا ء کی تیاری پر مرکوز کر لی ہے جس کی بدولت انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایک طلب و رسد کا ایک فرق پیدا ہو گیا ہے اور حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اضافی چینی کو برآمد کر کے ملکی خزانے کو سہارا دینا چاہیے۔حکومت کو چاہیے کہ چینی کی سالانہ 10 لاکھ ٹن برآمد کا کوٹہ بنادے کیونکہ اگلے سال بھی گنے کی فصل زیادہ ہو گی۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان اس وقت سب سے سستی چینی بنا رہا ہے اور ملکی شوگر انڈسٹری نے رواں سال 500 روپے فی من تک گنے کا ریٹ دیا ہے۔

 شوگر ملز ایسوسی ایشن

مزید :

صفحہ آخر -