ایک طرف آپ ایک ملک کو ڈی مارش کررہے ہیں،دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ تعلقات بھی خراب نہ ہوں،جسٹس حسن اورنگزیب کے سائفر اپیلوں پر ریمارکس

ایک طرف آپ ایک ملک کو ڈی مارش کررہے ہیں،دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ تعلقات بھی ...
ایک طرف آپ ایک ملک کو ڈی مارش کررہے ہیں،دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ تعلقات بھی خراب نہ ہوں،جسٹس حسن اورنگزیب کے سائفر اپیلوں پر ریمارکس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف آپ ایک ملک کو ڈی مارش کررہے ہیں،دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ اس سے تعلقات خراب نہ ہوں۔

نجی ٹی وی چینل  دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر اپیلوں پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو روسٹرم پر طلب کرلیا،گزشتہ روز کے واقعہ پر آئی جی اور ایس ایس پی آپریشنز طلب کر لیاگیا۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ آئی جی اور ایس ایس پی آپریشنز کو فوری بلالیں،سلمان صفدر کرمنل لائرہیں ان کے سامنے بات کریں گے،آئی جی اور ایس  ایس پی آپریشنز15منٹ تک آ جائیں گے،چیف جسٹس نےسلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنے دلائل کا آغاز کریں۔

سائفر اپیلوں پر بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آخری جرح دونوں فریق کرتے ہیں کہ کیس کیا ہے،342کا بیان پڑھ کر سنایا گیاتو بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سے 2،2سوال پوچھے گئے،سوال پوچھنے کے فوری بعد سزا سنا دی گئی،بیان میں لکھا ہے کہ ججز سزا سنا کر فوری کورٹ سے روانہ ہو گئے،324کے بیان میں یہ کس طرح لکھا گیا؟342کا بیان ایک مکالمہ ہوتا ہے جو ججمنٹ سے پہلے کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ آپ نے 342کے بیان کو کنفرنٹ کردیا اور بیان سامنے بھی آ گیا ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ سائفر اگر سائفر کے طور پر نہ آتا اور عمومی طور پر بھیجا جاتا تو پھر کیا ہوتا؟

ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،ڈی آئی جی آپریشنز چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں پیش ہوئے،

عدالت نے کہاکہ اگر سائفر ڈپلومیٹک بیگ کے طور پر آتا تو کیا پھر وزیراعظم اسے سامنے لا سکتے تھے؟چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ لیکن پھر مسئلہ وہی ہے کہ سائفر میں تھا کیا؟وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ سائفر ایک سفید کوا ہے،جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف آپ ایک ملک کو ڈی مارش کررہے ہیں،دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ اس سے تعلقات خراب نہ ہوں۔