اوباما کے نامزدگی کنونشن میں کاسترو کلیدی مقرر ہو گا!

اوباما کے نامزدگی کنونشن میں کاسترو کلیدی مقرر ہو گا!

امریکہ کے صدارتی انتخابات کو جب سو دن رہ جائیں تو ان دنوں کی اُلٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے اور اب یہ اُلٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ اگرچہ ابھی تک دونوں جماعتوں نے رسمی طور پر اپنے اپنے امیدوار نامزد نہیں کئے ، لیکن برسر اقتدار صدر اور نائب صدر ہی ہمیشہ برسر اقتدار جماعت کے نامزد امیدوار ہوتے ہیں، اس لئے ڈیمو کریٹس کے نامزد صدر اور نائب صدر باراک حسین اوباما اور جوبائیڈن ہوں گے۔ اسی طرح ری پبلکن کی صدارتی امیدواری کی دوڑ میں باقی سارے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور میدان میں عیسائیوں کے مورمن فرقے کے مٹ رومنی اکیلے رہ گئے ہیں ، لہٰذا اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ری پبلکن انہی کو نامزد کریں گے۔ ران پال کا یہ کہنا کہ کوئی خبر نہیں، کسی دوڑنے والے کو عین ”نشان فتح“ کے قریب جا کر ٹھوکر لگے اور وہ گر پڑے تو اس کے پیچھے والا فاتح بن سکتا ہے۔ شاید....

اے بسا آرزو کہ خاک شُدہ

مٹ رومنی تین ملکوں.... برطانیہ، اسرائیل اور پولینڈ.... کا دورہ کر کے واپس آ گئے ہیں۔ ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ وہ لوٹ کے آئے ہیں، تو انہیںگھر کیسا لگا ہے، لیکن اُن کا دورہ عام خیال کے مطابق اُن کی کسی عزت افزائی کا باعث نہیں بن سکا۔ برطانوی، امریکیوں کو تہذیب نا آشنا سمجھتے ہیں۔ ٹونی بلیئر کے دور میں برطانیہ اور امریکہ میں تاریخی قربت رہی، لیکن برطانوی اس کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اکثر برطانوی پروگراموں میں امریکی انگریزی کا مذاق اڑایا اور ان کی معاشرت کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مٹ رومنی میسا چوسٹس کے گورنر کی حیثیت سے سالٹ لیک سٹی میں ہونے والے اولمپک کے کرتا دھرتا تھے۔ وہ امریکہ میں بھی بار بار یہی کہتے ہیں کہ انہیں تجارت کا طویل ذاتی تجربہ ہے، سیاست میں اُن کو گورنری کا تجربہ ہے اور اولمپک منعقد کرا کے انہوں نے جن انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، اُن سب کو ملا کر وہ ایک بہترین امریکی صدر ثابت ہو سکتے ہیں۔

 اولمپک کے اسی تجربے کے زعم میں جب وہ برطانیہ پہنچے تو انہوں نے کہا کہ برطانیہ اولمپک کرانے کے لئے کس حد تک تیار ہے، تیار ہے بھی یا نہیں؟ اہل برطانیہ نے اسے اپنی توہین سمجھا۔ لندن کے میئر بورس جانسن نے ہائیڈ پاک سے اولمپک مشعل روانہ کرنے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص امریکہ سے آیا ہوا ہے، اُس نے پوچھا کہ برطانیہ اولمپک کے لئے تیار ہے یا نہیں؟ برطانیہ آپ بتاﺅ، آپ تیار ہو؟ لوگوں نے نعرے لگائے.... ” ہم تیار ہیں۔ ہم تیار ہیں“.... تاہم برطانیہ میں رہنے والے امریکیوں نے، بلکہ امراءنے مٹ رومنی کی پذیرائی کی اور اُن کی فنڈ ریزنگ میں کہتے ہیں بہت مال جمع ہوا۔ ری پبلکن اس معاملے میں ابھی تک بہت خوش قسمت واقع ہوئے ہیں۔ اس میں تو خیر خوش قسمی کی کوئی بات نہیں کہ تمام امراءان کے ساتھ ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اُن کا حامی ہے اور مٹ رومنی خود، جن سرمایہ کار کمپنیوں کے سربراہ رہ چکے ہیں، وہ اور اسرائیلی یہودی شیلڈن انہیں اربوں ڈالر کے عطیات دے رہے ہیں۔

 ڈیمو کریٹس نے کوشش کی کہ کمپنیوں کے عطیات پر قدغن لگائی جا سکے، لیکن عدالت نے کمپنیوں کو شخص ”Person“ قرار دے کر اس کی اجازت دے دی۔ قانون کی زبان میں کوئی بھی کارپوریشن خود ایک شخص ہے، لیکن ڈیمو کریٹس کا خیال ہے کہ اگر ان بڑی بڑی کارپوریشنوں کو صدارتی انتخابات میں عطیات دینے کی کھلی چھٹی ہو تو یہ بڑے بڑے عطیات دے کر اپنے مفادات کے تحفظ کی ضمانت حاصل کر سکتی ہیں، جس سے عام شہریوں کے مفادات متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ڈیمو کریٹس نے ایک قانون متعارف کرانے کی کوشش کی، جس کے تحت دس ہزار سے زائد عطیہ دینے والے کا نام پتہ ظاہر ہونا چاہئے۔ اسے انہوں نے Disclose Act کا نام دیا تھا،لیکن کانگرس میں ری پبلکن نے پاس نہیں ہونے دیا۔ یہ ہے اصل خوش قسمتی ری پبلکن کی۔ دونوں جماعتوں کی حمایت(ووٹ) حاصل کر لینا بھی ری پبلکن کا کمال رہا ہے۔ ڈیمو کریٹس اس معاملے میں پھسڈی ہیں۔ بش، ڈیمو کریٹ اکثریت والی کانگریس سے اپنے حق میں فیصلے کراتے رہے ہیں۔ ہماری طرح یہاں اسے ”مُک مکا“ نہیں کہا جاتا، بلکہ یہ دونوں جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا Bi-Partisan بہت خوبی سمجھی جاتی ہے۔

مٹ رومنی دوسرے روز ملی بینڈ سے ملے، تو اُن کا لہجہ بدلا ہوا تھا اور وہ برطانیہ کی تیاری کے سلسلے میں اُلٹی سیدھی تاویلیں دیتے رہے۔ انہوں نے خاصی”مسکہ بازی“ بھی کی اور کہا کہ میرا مطلب تھا کتنی بھی تیاری کر لی جائے کوئی کمی تو رہ ہی جاتی ہے، لیکن اولمپک کا اصل ایونٹ تو کھیل ہوتے ہیں۔ جب کھیل شروع ہو جاتے ہیں، تو لوگ ان میں دلچسپی لیتے ہیں اور یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ انتظامات میں کیا خامی رہ گئی؟ بہرحال یہاں سے وہ اسرائیل گئے، جہاں انہوں نے یہودی انداز کی ٹوپی پہن کر ”دیوار گریہ“ پر گریہ بھی کیا۔ یہودی امراءمیں فنڈ ریزنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ” یہ تمہارا کلچر ہے، جس کی وجہ سے تم قریب ہی رہنے والے فلسطینیوں سے معاشی لحاظ سے زیادہ کامیاب ہو“۔ اس پر فلسطینیوں نے اسے ” نسلی تعصب“ پر مبنی تبصرہ قرار دیا اور سیاسی و اخباری تجزیہ کاروں نے کہا کہ مٹ رومنی نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ مغربی کنارے اور غزہ پر1967ءسے یہودی اسرائیل کا قبضہ ہے اور ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی فنڈز تک یہ کہہ چکے ہیں اس علاقے کی معیشت کی ترقی میں اسرائیلی قبضہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس فنڈ ریزنگ کو بند دروازے کی فنڈ ریزنگ قرار دیا گیا، کیونکہ اس کی باہر کوئی بھنک نہیں نکلی کہ کس نے کتنا دیا۔

پولینڈ میں مٹ رومنی نے کہا کہ پولینڈ نے کمیونزم کے خاتمے کے بعد جو ترقی کی ہے، دُنیا کو اس پر توجہ دینی چاہئے، جس سے اہل پولینڈ میں خوشحالی آئی ہے اور پولینڈ ایک اعلیٰ معیار کی فوج کا حامل ملک ہے۔ پولینڈ کی جدت طرازی کی بدولت سرمایہ کار پولینڈ کا رُخ کر رہے ہیں۔ بیرونی دورے میں مٹ رومنی نے صدر اوباما اور اُن کی اقتصادی پالیسیوں پر ذرا ہاتھ ہولا رکھا اور واپس آ کر وہیں سے اپنی انتخابی مہم شروع کر دی ہے، جہاں چھوڑ کر گئے تھے، لیکن اس سلسلے میں یہ بات خاصی پُراسرار ہوتی جا رہی ہے کہ اب تک مٹ رومنی نے اپنے نائب صدر کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ ری پبلکن کا قومی کنونشن برائے نامزدگی22اگست کو ہونا طے پایا ہے۔ اس کنونش میں نیو جرسی کے گورنر کرس کرسٹی کلیدی مقرر ہوں گے۔ یہ کنونشن ریاست فلوریڈا کے شہر ٹیمپا میں ہو گا۔کرس کرسٹی(اصل نام کرسٹو فر جیمز، لیکن یہاں سیاست میں عرفی نام سرکاری طور پر بھی چلتے ہیں) بارہ سال بعد نیو جرسی کے ری پبلکن گورنر منتخب ہوئے، وہ خود صدارت کے بھی خواہش مند تھے، لیکن پھر وہ پیچھے ہٹ گئے۔ اُن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت بدلحاظ اور منہ پھٹ ہیں اور ڈیمو کریٹس پر بہت شدید حملے کرتے ہیں۔ جب اُن سے نائب صدارت کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ مٹ رومنی اگر کہیں گے، تو مَیں اُن کی بات کو سنوں گا۔ ایک اور موقع پر کہا: ”کیا مَیں آپ کو نائب صدر لگتا ہوں“؟۔

اب سارا مقابلہ ٹی وی اشتہارات پر ہو گا، جس کے لئے اربوں کے فنڈز جمع کئے جائیں گے اور ایک ایک اشتہار بہت سوچ سمجھ کر چلایا جائے گا، جس پر ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ اشتہارات میں دوسروں کی خامیاں، اپنی خوبیاں، ہم نے کیا کِیا، دوسروں نے کیا کِیا۔ ہم نے عوام کے فائدے کے لئے کیا، دوسروں نے عوام کو نقصان پہنچایا۔ میرے حلقے کے ڈیمو کریٹ سینیٹر چک شومر نے ای میل بھیجی، جس میں فخریہ بیان کیا صدر اوباما نے98فیصد امریکیوں کو ٹیکس میں رعایت دے دی ہے۔ اب جن کی آمدن اڑھائی لاکھ ڈالر سالانہ سے کم ہوگی، اُن پر ٹیکس کی شرح کم ہوگی۔ یہ بل سینٹ سے 48کے مقابلے میں51ووٹوں سے پاس ہوا۔

ڈیمو کریٹس کا قومی کنونشن شارلٹ نارتھ کیرولینا میں3ستمبر کو شروع ہو گا۔ کنونشن کے چیئرمین لاس اینجلس کے میئر انتونیو ویا آرا ہوسا ہوں گے۔ کنونشن سے خاتون اول مشعل اوباما بھی خطاب کریں گی اور سابق صدر بل کلنٹن بھی۔ ڈیمو کریٹس کے دوسرے کئی سیاست دان بھی مقررین میں شامل ہوں گے، لیکن کلیدی مقرر37سالہ ہولیان کاسٹرو میئر سان انتونیو ٹیکساس ہوں گے، جو نسلی اعتبار سے میکسیکن ہیں۔ ان کے توام بھائی ہو آکین کاسترو ریاست ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کے لئے20ویں ضلع سے امیدوار ہیں اور ان کی کامیابی کے روشن امکانات ہیں۔ اس طرح اس کنونشن کے ذریعے صدر اوباما سپینش (لاطینی امریکن) ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

2008ءکے الیکشن میں بھی نیوادا اور کولوریڈو سے انہیں67فیصد(سپینش) ووٹ ملے تھے، لیکن عام خیال یہ ہے کہ صدر اوباما نے سیاہ فام اور سپینش کے علاوہ دیگر امیگرنٹس کے لئے کچھ نہیں کیا، اس لئے یہ ووٹر اُن سے ناراض ہیں، تاہم انہوں نے سپینش نوجوانوں کو امیگریشن میں کچھ مراعات دی ہیں، جنہیں ری پبلکن ایمنسٹی کا نام دے رہے ہیں۔ ری پبلکن امیگرنٹس کو مراعات دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ اس کے ٹیکس میں چھوٹ اور ہیلتھ کیئر بل سے بھی ان لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس پر ڈیمو کریٹس کا قومی کنونشن سارے کا سارا سپینش کو منانے کی کوشش ہے۔ یہ حربہ کامیاب ہو سکتا ہے، لیکن ری پبلکن بھی سپینش ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ دیکھیں وہ کیا حربہ استعمال کرتے ہیں۔ نائب صدارت کے امیدوار کرس کرسٹی اصلی نسلی گورے سکاٹش، آئرش اور سیلیّن ہیں اور گزشتہ دنوں عدالتوں میں ایک گورے نے یہ بیان دے کر حیرت زدہ کر دیا تھا کہ ری پبلکن نے2008ءمیں کوشش کی تھی کہ سیاہ فاموں کو الیکشن سے دُور رکھا جائے۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)

مزید : کالم