عدل و انصاف کے تقاضے(2)

عدل و انصاف کے تقاضے(2)

ویسے تو دنیا کی تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں، جن میں مقتدر لوگوں نے اپنی اولاد کے خلاف فیصلے دئیے، لیکن مَیں یہاں بالخصوص دو واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا.... ایک تاریخِ اسلام سے اور دوسرا تاریخِ مغرب سے۔ دونوں کا تعلق جنگ و جدل سے ہے۔

پچھلی قسط میں سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کا ذکر کر چُکا ہوں کہ انہوں نے کس طرح اپنے بیٹے(زید بن عمرؓ) کو مجرم پایا تو خود وہ سزا دی جو قرآن حکیم کی آیات اور رسول اکرمﷺ کی احادیث کے عین مطابق تھی۔ اب خلافتِ راشدہ کے خلیفہءاول کا ذکر کرنا چاہوں گا، جنہوں نے غزوئہ بدر کے بعد ایک ایسا جُملہ زبانِ مبارک سے ارشاد فرمایا کہ رہتی دنیا تک اس کی مثال شاذ ہی ملے گی۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بیٹے(عبدالرحمن بن ابوبکرؓ) نے قبولِ اسلام کے بعد اپنے والد سے ایک ملاقات میں غزوئہ بدر کو یاد کرتے ہوئے کہا: ”ابا جان! اس غزوہ میں کئی بار ایسا ہوا کہ آپ میری زد میں آئے، لیکن مَیں نے احترامِ پدری کی وجہ سے آپ پروار نہ کیا“۔

 یہ سن کر سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فوراً جواب دیا:”بیٹا! اگر تم دورانِ جنگ میری زد میں آجاتے، تو مَیں تمہیں ہرگز زندہ نہ چھوڑتا“۔

 سبحان اللہ!.... دنیا کا کوئی شخص خواہ وہ غیر مسلم ہو یا مسلم، حضرت صدیق اکبر کی بات پر نعوذباللہ کوئی شک نہیں کر سکتا۔ وہ تھے ہی سراپا صداقت۔ صدیق کا لقب اسی لئے تو ان کے نام نامی کے ساتھ نام کے حصے کی طرح چسپاں ہے۔ انہوں نے اپنی زبان سے جو لفظ بھی بولا، وہ سچ تھا۔ جب بیٹے کو وہ یہ بات کہہ رہے تھے کہ اگر تم میری زد میں آتے تو بچ کے نہ پاتے، تو یہ بالکل حقیقت تھی.... یہی وہ معیار عدل تھا ، جس کی پیروی بعد میں دوسری اقوام کے رہنماو¿ں میں بھی دیکھنے کو ملی۔

1977ءمیں میری پوسٹنگ ایبٹ آباد میں تھی۔ کسی کام کے لئے راولپنڈی آیا تو ایک بک شاپ پر جنرل آئزن ہاور کی ایک کتاب پر نظر پڑی۔ عنوان تھا:”آئزن ہاور کے خطوط میمی کے نام“.... مسز آئزن ہاور کا نام میمی آئزن ہاور تھا۔ آئزن ہاور یورپ میں جب اتحادی افواج کا سپریم کمانڈر بنایا گیا، تو اس نے اپنے سپریم ہیڈ کوارٹر سے جو خطوط اپنی اہلیہ کے نام لکھے، وہ جنگ کے خاتمے کے بعد شائع کر دئیے گئے۔ ان خطوط میں آئزن ہاور کی نجی زندگی کی جھلکیاں جا بجا ملتی ہیں۔

دسمبر 1943ءمیں جب جنرل کو، بحیرئہ روم میں امریکی افواج کا کمانڈر بنا کر بھیجا جاتا ہے، تو اس کا ہیڈ کوارٹر الجیریا میں ہوتا ہے، لیکن 1944ءمیں جب اتحادی افواج ساحلِ فرانس پر جرمنی کے خلاف اترتی ہیں تو اس کا ہیڈ کوارٹر لندن میں ہوتا ہے، کیونکہ یہیں سے اتحادی افواج، انگلش چینل کو عبور کر کے نار منڈی(ساحلِ فرانس) پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ یہ حملہ 6 جون 1944ءکو کیا جاتا ہے۔ اس کو ”آپریشن اوور لارڈ“ بھی کہا جاتا ہے۔

آئزن ہاور کا ایک ہی بیٹا تھا، جس کا نام جان ایس ڈی آئزن ہاور تھا۔ کوئی اور اولاد نہ تھی۔ اس نے بھی ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈیمی سے کمیشن حاصل کیا اوراسی روز اکیڈیمی سے پاس آو¿ٹ ہوا، جس روز (6 جون 1944ئ) یہ آپریشن لانچ کیا گیا۔ اس بیٹے سے آئزن ہاور کو بہت محبت تھی۔ اپنے بیٹے کی پاسنگ آو¿ٹ سے تین ماہ پہلے جنرل آئزن ہاور نے اپنے چیف آف آرمی سٹاف، جنرل جارج سی مارشل کو ایک خط لکھا:، مَیں اس خط کا ترجمہ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:

بشی پارک

15 مارچ 1944ئ

ڈیئر جنرل!

 یہ خالصتاً ایک ذاتی خط ہے۔ میرا بیٹا 6 جون کو کیڈٹ کورس مکمل کر کے کمیشن حاصل کر رہا ہے۔ یہ سمجھ لیجئے کہ اس خط کا موضوع اس امکان کا جائزہ لینا ہے کہ آیا میرے بیٹے کو عارضی ڈیوٹی پر کہیں میرے قریب بھیجا جا سکتا ہے یا نہیں؟.... میرا خیال ہے پاس آو¿ٹ ہونے کے بعد اسے ایک ماہ کی رخصت ملے گی۔ عام حالات میں، مَیں اس کے سوا اور کچھ نہ چاہتا کہ وہ اس ایک ماہ کے دوران یہاں یو کے (UK) میں آجاتا اور مجھے ملنے کے بعد جہاں اس کی پوسٹنگ ہوتی، وہاں چلا جاتا، تاہم مشکل یہ ہے کہ اس کو کان کے درد کی ایک دیرینہ تکلیف ہے اور زیادہ بلندی پر جانے کے لئے اسے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہوائی جہاز کے ذریعے آتے ہوئے، بحر اوقیانوس کے اوپر سے پرواز کے دوران اسے دس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنی ہوگی۔ یہ اس کے لئے شاید مشکل ہو، اس لئے مَیں چاہوں گا کہ اگر وہ کسی تیز رفتار بحری جہاز پر یہاں بھیج دیا جائے تو بہتر ہوگا، مثلاً کوئنز(Queens) یا اس طرح کا کوئی اور تیز رفتار شپ.... وگرنہ اس کے کانوں کے مستقل خراب ہونے کا احتمال رہے گا۔

مَیں اسے براہ راست اپنے ہیڈ کوارٹر کے ساتھ اٹیچ نہیں کرنا چاہوں گا کہ اس طرح یہ ایک مثال بن جائے گی، جو مَیں نہیں چاہتا۔ البتہ مَیں اسے جنرل بریڈ لے یا کسی اور کمانڈر کے پاس بھیج دوں گا، جو مجھ سے زیادہ دور بھی نہ ہو اور نزدیک بھی نہ ہو۔ اس طرح مَیں اسے گاہے بگاہے مل لیا کروں گا۔ ایک نو آموز اور نو عمر آفیسر کے لئے اس قسم کا تجربہ بہتر ہوتا ہے۔ تاہم میرا اصل مقصد یہ ہے کہ مَیں ایک بار پھر اپنے بیٹے سے مل کر اس کی خیر خیریت معلوم کر لیا کروں گا۔ نجانے کیوں بعض اوقات مجھے گھر کی یاد ستانے لگتی ہے.... آپ کو معلوم ہے، عسکری مجبوریوں کے باعث مَیں کسی تھیٹر یا کسی اور پبلک جگہ پر نہیں جاسکتا۔ مَیں اسے دو ماہ کے بعد واپس گھر (امریکہ) بھیج دوں گا۔ یہ اس کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ میرے پاس یا میرے اردگرد زیادہ دیر تک نہ ٹھہرے۔ یہاں میرے بہت سے افسر ایسے ہیں، جن کے بیٹے ان کے پاس نوکری کر رہے ہیں، لیکن میرا معاملہ ان سے مختلف ہے۔ میرے بیٹے کو میرے پاس نہیں ہونا چاہئے، خواہ وہ کتنا ہی بہتر اور قابل کیوں نہ ہو۔ لوگ اس کی کارکردگی کو غلط معنی پہنائیں گے۔

اس سلسلے میں، مَیں نے اپنے بیٹے سے گول مول بات کی تھی، لیکن جب تک آپ کی منظوری نہ ہو، مَیں اسے اپنے پاس بلانے کی توثیق نہیں کر سکتا.... ہاں ایک اور بات بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر قبل ازیں اسے کسی خاص سرکاری کام یا عسکری ڈیوٹی کے لئے منتخب کیا جا چکا ہے تو پھر اسے رخصت کے فوراً بعد واپس چلے جانا چاہئے، مَیں نہیں چاہوں گا کہ وہ میرے پاس رہے۔ مجھے اس سلسلے میں آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔ براہ کرم اپنے ردعمل سے ضرور مطع کیجئے۔

فقط آپ کا مخلص

آئزن ہاور

اندازہ کیجئے اتنی بڑی اور عظیم افواج کا سپریم کمانڈر، اتنا کامیاب اور اثر و رسوخ رکھنے والا جرنیل، اتنے بڑے عہدے پر فائز اور اتنی معمولی سی بات کہ اپنے بیٹے کو کمیشن ملنے کے بعد اپنے پاس بلانا چاہتا تھا!.... اس زمانے میں بھی اور آج بھی دنیا بھر کی افواج میں یہ رسم عام ہے کہ جرنیل حضرات اپنے بیٹے اور عزیز و اقارب کو اپنا اے ڈی سی بنانا یا اپنی فارمیشن میں پوسٹ کروانا ایک فوجی روایت سمجھتے ہیں، لیکن آئزن ہاور کی عظمت دیکھئے کہ اس نے کس دور اندیشی اور اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا اور اپنے چیف کو لکھا کہ اگر امریکن آرمی اس کے بیٹے کی تعیناتی کا قبل ازیں کوئی فیصلہ کر چکی ہے تو اسے اس کے پاس یورپ میں نہ بھیجا جائے۔

 اگر طولِ کلام کا اندیشہ نہ ہوتا تو پاکستان آرمی میں بھی ایسی بہت سی مثالیں ہیں ، جن میں باپ نے بیٹے کے خلاف فیصلہ دیا۔ یہ مرحلہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ جب باپ کے پاس اختیار ہو کہ وہ عدل کرے اور عدل اس کی اولاد کے خلاف جاتا ہو تو اس آزمائش سے خدا بچائے.... ہم جسٹس چودھری کے لئے دعا گو ہیں۔ ٭

مزید : کالم