نواز ، عمران لڑائی پر زرداری مسکرا رہے ہیں !

نواز ، عمران لڑائی پر زرداری مسکرا رہے ہیں !

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب دھڑے باز ہیں ، اگر ہم عمران خان کے ساتھ ہیں تو پھر شوکت خانم کے مالی معاملات اور دستاویزات کسی آسمانی صحیفے سے کم نہیں، جن پر کوئی سوال، کوئی اعتراض کسی گناہ سے کم نہیںاور اگر ہم عمران خان کے مخالف کیمپ میں ہیں توشوکت خانم ہسپتال کی کینسر کے مریضوں کے لئے خدمات ہمارے لئے ایک تنکے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں، جنہیں جب چاہیں ، پاو¿ں تلے روند کے رکھ دیں۔ ہم اس حقیقت کو جاننے کے باوجود کہ سیاست کے سینے میں دل نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، اخلاقیات کا رونا روتے رہتے ہیں ۔ مجھے خواجہ آصف اور پرویز رشید کی پریس کانفرنس پر کسی قسم کی کوئی حیرت نہیں، سیاست میں مخالفین کو راستہ دینے والے ہجوم میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ عمران خان جب سیاست میں آئے تھے تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حسین چوک گلبرگ میں بنے ہوئے میڈیا سیل میں مشاہد حسین سید اور پرویز رشید جیسے تیز طرار لوگوں نے وہ سکینڈل زبان زد عام کئے کہ عمران خان کو سنبھلنے کے لئے سالہا سال لگ گئے۔ اب بھی وہ جس طرح نواز شریف اور شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے اور مجھے اس حقیقت کو بھی بیان کرنے دیجئے کہ عمران خان کی توپوں کا رخ آصف علی زرداری سے کہیں زیادہ نواز شریف کے خلا ف تھا۔ تحریک انصاف اگر نواز شریف اور شہباز شریف کو کرپٹ قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتی تو اسے اس قسم کے جواب کے لئے تیار رہنا چا ہیے تھا۔ میرے دوست بار بار اسی بات پر اصرار کرتے ہیں کہ نواز لیگ کو سیاست اور خدمت کو الگ الگ رکھنا چاہئے تھا، اگر مسلم لیگ نون کو شوکت خانم کے معاملات میں کچھ قابل اعتراض چیزیں مل گئی تھیں توکینسر کے مریضوں کا خیال کرتے ہوئے انہیں سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے تھامگر دوسری طرف مسلم لیگ نون کے رہنماو¿ں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن او ررہنما ، مسلم لیگ نون کو پیپلزپارٹی سے زیادہ برا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو کیاسب رکھ رکھاو¿، مروت اور لحاظ انہوں نے ہی رکھنا ہے۔ نواز لیگ والوں نے یاد دلایا کہ جب شہباز شریف ڈینگی کے خلاف پورے تن من دھن سے لڑائی لڑ رہے تھے ، اس وقت حکومت نے ڈینگی کے کمپلیٹ بلڈ کاو¿نٹ یعنی سی بی سی ٹیسٹ کی فیس نوے روپے مقرر کی جس کے ذریعے خون میں پلیٹ لٹس کا پتا چلایا جاتا تھاتو اس وقت بھی تحریک انصاف کے عمر چیمہ شریف میڈیکل سٹی اوراتفاق ہسپتال سے دو رسیدیں لے کر پروگرام میں پہنچ گئے تھے کہ شریف خاندان کے زیر اہتمام دونوں ہسپتالوں میں اوور چارجنگ کی جا رہی ہے، کیا تحریک انصاف نے یہ سوچا تھا کہ وہ ان دونوں فلاحی اداروں کے بارے پروپیگنڈہ نہ کرے۔مسلم لیگ نون کے رہنماو¿ں کی پریس کانفرنس، ٹی وی پروگراموںمیں الزامات کے تبادلے اوراس کے بعد شائع ہونے والی تیز و تند خبروں نے دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھا دئیے ہیں اور یہ ایسے موقعے پر ہوا ہے جب صدر مملکت آصف علی زرداری نے دو تین رو ز قبل ہی خیر پور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ پنجاب سمیت چاروں صوبوں میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہو گی، پنجاب کا وزیراعلیٰ ایک جیالا ہو گا۔ آسمان کو چھوتی مہنگائی، بد ترین لوڈ شیڈنگ، تاریخ ساز بدانتظامی اور کرپشن کے باوجود اگر پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین چاروں صوبوں اور خاص طور پر پنجاب کا نام لے کر وہاں کی حکمرانی حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو اس کی بنیاد صرف اور صرف مسلم لیگ نون او رتحریک انصاف کے درمیان فاصلے ہیں ، جنہیں مسلم لیگ نون کے خواجہ آصف نامی ایک ایسے رہنما نے بہت زیادہ بڑھا دیا ہے جو صدر آصف علی زرداری کے بہت ہی قریبی دوست سمجھے جاتے ہیں ۔ سچی بات ہے کہ میں نے اس پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کے روئیے میں پریشانی دیکھی ہے اور انہیں پریشان ہونا بھی چاہئے۔ کیا اب وہ عدالت میں جائیں گے جیسا کہ انہوں نے اعلان بھی کیا ہے تاکہ وہاں نہ صرف ان الزامات کو غلط ثابت کرسکیں بلکہ خواجہ آصف سے ہرجانہ بھی وصول کر سکیں مگر مسلم لیگ نون نے شوکت خانم کی شہرت، اسکے سب سے بڑے ذریعہ آمدن اور اس سے بھی بڑھ کے لوگوں کے اعتماد کو جس طرح نقصان پہنچایا ہے، اس کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا سوائے اس کے کہ مسلم لیگ (ن) یہ سب الزامات واپس لے لے ۔۔۔ مگر ایسا تو صرف خوابوں اور خیالوںمیں ہوتا ہے، حقیقت کی دنیا اتنی رکھ رکھاو¿، لحاظ اور مروت والی نہیں ہوا کرتی۔ میں جانتا ہوںکہ خواجہ آصف ، شہباز شریف کے بھی بہت قریب ہیں اور ان کی پریس کانفرنس میں پرویز رشید کی موجودگی ثابت کررہی ہے کہ شریف برادران ان الزامات کی مکمل حمایت اور پریس کانفرنس کی سرپرستی کر رہے ہیںمگر یہی خواجہ آصف ہیں جنہوں نے کھوسہ خاندان کو شریف فیملی سے دور کرنے میں اہم کردارادا کیا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ شریف برادران اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کس قسم کی دوستی نبھا رہے ہیں۔بہرحال یہ دونوں جماعتیں آج جس مقام پر کھڑی ہیں ، وہاں تک دھکے دے کر لانے میں عمران خان کے کردار اور بیانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ میثاق جمہوریت جیسی چیزوں کے ذریعے سیاست سے جس انتہا پسندی کو دیس نکالا دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، سیاست دوبارہ انہی مفادپرستوں اور انتہا پسندوں کی باندی بننے لگی ہے۔شوکت خانم پر لگنے والے الزامات کا نقصان عوام کو بھی ہو گا اور یہ نقصان زیادہ واضح ہو کے چند ماہ میں سامنے آجائے گا جب دلوں میں ایک دوسرے کے لئے نفرتیں لئے ہوئے عمران خان اور نواز شریف ایک دوسرے کے خلاف انتخابی میدان میں اتریں گے۔ وہ پیپلزپارٹی جس نے خاص طور پر پنجاب میںلوڈ شیڈنگ اور پورے ملک میں مہنگائی کا عذاب اتارا، اب ینٹی پیپلزپارٹی ووٹ کو تقسیم کرکے پنجاب کسی جیالے کے حوالے کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے ۔ وہ جنہوں نے پنجابیوں کے دن کا چین اوررات کی نیند لوٹ لی ہے، جنہوں نے پنجاب کے مزدور سے مزدوری کرنے کا حق ، اس کے بیمار ماں باپ سے دوا اوربچے سے دودھ چھین رکھا ہے۔ وہ جنہوں نے پنجاب ہی نہیں چاروں صوبوں کے غریبوں کے ساتھ ذاتی دشمنی پیدا کر لی ہے، انہیں پنجاب سے ووٹ تو کیا امیدوار بھی مل جائیں گے تو بڑی بات ہو گی۔ کیاپیپلزپارٹی کو وہ بندہ ووٹ دے سکتاہے جسے ہر روز بارہ سے سولہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ جو آٹا خرید کے کھاتا ہے، مشرف دور میں اسے 265 روپے میں بیس کلو کا تھیلا مل رہا تھا اور اب وہ ساڑھے چار سال بعد اسی آٹے کے تھیلے کے لئے چھ سو روپے دے رہا ہے، کیا وہ خاتون ووٹ دے سکتی ہے جو گھر میں کھانا بناتے ہوئے بناسپتی گھی استعمال کرنے کے عیاشی سے بھی محروم ہو گئی ہے ، وہی گھی جو مشرف کی آمریت میں 70 روپے فی کلوگرام ملا کرتا تھا اور اب دو سو روپے کلو ہے۔وہ لوگ جو ڈیڑھ ڈیڑھ او ر دو دو سوروپے کلو دالیں خرید کر کھانے پر مجبور ہیں وہ پیپلزپارٹی کو کیسے ووٹ دے سکتے ہیں ۔ وہ جن کے لئے اس دور حکومت میں چھوٹے اور بڑے گوشت کے بعد چکن کھانا بھی عیاشی بن گیا ہو، وہ لوگ جو پھل کھانا صرف خواب میں ہی افورڈ کر سکتے ہوں۔ کیا وہ شخص پیپلزپارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لا سکتا ہے جس نے زندگی بھر کی محنت کے بعد چند لاکھ روپے اپنا گھر بنانے کے لئے جمع کئے ہوں مگر اس کی بدقسمتی کہ پیپلزپارٹی کی حکومت آ گئی ہو، وہ اینٹ جو ساڑھے تین ہزار میں ایک ہزار مل جایا کرتی تھی، وہ سات سے آٹھ ہزار میں مل رہی ہواور گھر بنانا خواب ہی رہ گیا ہو۔ کیا وہ مسافر جو لاہور محنت مزدوری یا کلرکی کے لئے آتا ہے اور واپس اسے اپنے شہر راولپنڈی جانے کے لئے ڈیڑھ سو کی بجائے ساڑھے چا ر سو اور صادق آباد جانے کے لئے تین سو کی بجائے آٹھ سو روپے کرایہ دینا پڑ رہا ہو۔کیا وہ کسان آصف علی زرداری کی جماعت کو ووٹ دے گا جس کے ٹریکٹر اورٹیوب ویل کے لئے ڈیزل تینتیس روپوں سے سو روپے لٹر پر پہنچ گیا ہو،یوریا کھاد ساڑھے پانچ سو سے انیس سو روپے اور ڈی اے پی کھاد کا تھیلا گیارہ سو سے ساڑھے چار ہزار روپوں تک پہنچ گیا ہو۔ کیا وہ شہری ووٹ دے گا جس کی جیب بجلی کے بلوں کی صورت میں کاٹی جا رہی ہو، جس کو بجلی پیدا کر کے بیچ بھی دی گئی ہو مگر چار سے چھ ماہ بعد اسے بتایا جائے کہ اب اسے مزید ہزاروں روپے ادا کرنا ہوں گے، یہ کیسی ساہوکاری ہے کہ اس طرح ساہوکاری تو متحدہ ہندوستان میں ہندوساہوکار بھی اپنے مسلمان خریداروں سے نہیں کیا کرتے تھے۔ اس دور میں اگر بڑھی ہے تو لوڈ شیڈنگ، بےر وزگاری ، فرسٹریشن اور خود کشیاں بڑھی ہیں ، جناب صدر کو علم ہے کہ فرسٹریشن اور خود کشیاں بڑھنے سے ووٹ نہیں بڑھا کرتے مگر وہ اپنے ساتھ مٹھی بھر جیالے رہ جانے کے باوجود نواز ، عمران لڑائی میں شدت آنے کے بعد اقتدار دوبارہ قریب آنے پر مسکرا رہے ہیں ۔۔۔

مزید : کالم