پاکستانیوں کو بھارت میں براہ راست سرمایہ کاری کی اجازت

پاکستانیوں کو بھارت میں براہ راست سرمایہ کاری کی اجازت

بھارت نے پاکستانی شہریوں اور تاجروں کو اپنے ملک میں براہ راست سرمایہ کاری کی اجازت دیدی ہے، نئی دہلی میں بھارتی وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق پاکستانی شہری اور ادارے بھارت میں سرمایہ کاری کر سکیں گے، تاہم انہیں خلا، دفاع اور ایٹمی شعبوں میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں ہو گی، اس اقدام کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر بنانا بتایا گیا ہے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان معظم خان نے کہا ہے کہ پاکستان اس فیصلے کو سراہتا ہے، اس سے پاکستانی سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو فائدہ پہنچے گا۔

1965ءکی پاک بھارت جنگ سے پہلے دونوں ملکوں کے شہری ایک دوسرے ملک میں آزادانہ آتے جاتے تھے، دونوں ملکوں کے مالیاتی ادارے بھی ایک دوسرے کے ہاں کام کرتے تھے، لیکن جنگ کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا، اس وقت سے لے کر اب تک کے عرصہ میں بعض اوقات تو تجارت کا سلسلہ بھی منقطع ہو کر رہ گیا تھا، اب دونوں ملکوں میں واہگہ کے راستے بھی تجارت ہورہی ہے اور پہلے والی پابندیاں بھی نہیں، واہگہ سرحد پر تجارت کا ایک نیا دروازہ بھی کھولا گیا ہے اور منفی فہرست سے بہت سی اشیاءنکال دی گئی ہیں اب اگر پاکستانی شہریوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کی اجازت بھی دی گئی ہے تو اسے اعتماد افزا اقدامات کی فہرست میں ایک تازہ اضافہ ہی سمجھا جانا چاہئے۔تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملک محض اعتماد پیدا کرنے والے نمائشی اقدامات ہی نہ کرتے رہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں ایسے اقدامات اٹھائیں جن سے دونوں ملکوں کے شہریوں کے درمیان اعتماد پیدا ہو اور نظر بھی آئے، اس وقت عالم یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے شہریوں کو ویزے کے حصول کے لئے یکساں مشکلات کا سامنا ہے اور ویزے کے لئے بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وفود کے لئے یہ نسبتاً آسان ہے لیکن پھر بھی اسے معمول کے طریق کار سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بسیں چلتی ہیں لیکن اکثر خالی دوڑتی ہیں اندر مسافر کم ہوتے ہیں اور باہر ان بسوں کی حفاظت کے لئے مامور پولیس زیادہ ہوتی ہے۔ٹرین کے سفر کا یہ عالم ہے کو جونہی گاڑی واہگہ سے نکل کر اٹاری کی جانب چلنا شروع ہوتی ہے اس کے دائیں بائیں ریلوے ٹریک کے ساتھ ساتھ گھڑ سوار پولیس کے دستے دوڑنا شروع ہو جاتے ہیں اور کافی دیر تک ٹرین کے ساتھ بھاگتے ہیں کیا یہ بے اعتمادی کا مظہر نہیں؟ اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں جنہوں نے اس قسم کے انتظامات کئے ہیں۔

دونوں ملک سارک تنظیم کے رکن ہیں لیکن اب تک اس تنظیم نے ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا جسے فخر کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہو، سارک کے تحت البتہ نئی دہلی میں اب ایک سارک یونیورسٹی ضرور قائم ہوئی ہے۔یہ یونیورسٹی اگر کامیاب ہو جائے اور اس میں سارے سارک ملکوں کے طالب علم تعلیم حاصل کر کے کوئی کارنامہ انجام دینے کی پوزیشن میں آ جائیں تو اسے بڑی کامیابی گردانا جائیگا۔ بہرحال ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر پا کستانیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ہے تو پھر پا کستان پر اعتماد میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ بد اعتمادی کے بادل چھٹ جائیں اور دونوں ملکوں کے لوگ حقیقی معنوں میں ایک دوسرے کے قریب آئیں البتہ اس موقع پر یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا بھارتی شہریوں کو بھی پاکستان میںایسی کوئی سہولت دی گئی ہے؟ دونوں ملکوں میں اعتماد تو اسی وقت بڑھے گا ۔ جب ایک دوسرے کے شہریوں کو یکساں سہولتیں میسر ہوں اور عشروں کی بد اعتمادی کی گرد پوری طرح بیٹھ جائے۔  ٭

مزید : اداریہ