برما میں اب تک 20ہزار سے زائد مسلمان کو شہید کر دیا گیا ، نور حسین اراکانی

برما میں اب تک 20ہزار سے زائد مسلمان کو شہید کر دیا گیا ، نور حسین اراکانی

لاہور(رپورٹ: شہباز سعید) اس میں کوئی شک نہیں کہ امت مسلمہ کی موجودہ حالت پر فکر مند اور سوچ بچار کرنیوالا کوئی بھی مسلمان بخوبی اور با آسانی انداہ لگا سکتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کیخلاف کی جانیوالی سازشیں کس قدر پر خطر، گھمبیر اور ہمہ گیر ہیں۔ اور یہ صورتحال کس قدر نازک ، پورا عالم اسلام مغرب سے مشرق تک اور شمال تا جنوب زخموں سے چور چور ہے، ہر طرف فتنہ و فساد عام ہیں، یہود و نصریٰ جن کے دلوں میں اللہ کا ذرہ برابر ڈر اور خوف نہیں، کی قیادت میں دشمنان اسلام کے حملے اپنے عروج پر پہنچ گئے ہیں۔ شاید بہت ہی کم مسلمانوں کو ” اراکان“ کے روہنگیا مسلمانوں کے مسائل اور دکھ درد کے بارے میں علم ہوگا۔ جہاں نہتے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے بدھ مت کے ماننے والے ان برمیوں نے روا رکھے ہیں۔ جن کی فساست اور ذلات کیلئے یہی کا فی ہے کہ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر بتوں اور مورتوں کی تقدیس اور پرستش کرتے ہیں۔ برما میں جاری مسلمانوں اور مظالم کے حوالے سے روہنگیا سالیڈیریٹی آرگنائزیشن کے نمائندے نور حسین اراکانی اور میاں عبدالرحمن عثمانی اراکان کے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں اور اپیل کر رہے ہیں کہ خدا را اپنے ان مسلمان بہن بھائیوں کی مدد کو آﺅ، روہنگیا سالیڈیریٹی آرگنائزیشن پاکستان کے صدر نور حسین اراکانی نے ”پاکستان“ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دو بدھ مت لڑکیاں مشرف بااسلام وہئیں، اس غم و غصے میں بدھ مت کے دہشت گردوں نے جام شہادت پلا کر ابدی نیند سلا دیا اور مسلم نوجوانوں پر الزام عائد کر دیا کہ انہوں نے زیادتی کے بعد قتل کیا ہے۔ اسی کو حجت بنا کر 3 جون 2012 ءکو تبلیغی جماعت کے 10 لوگ گاڑی سے اتار کر بے دردی سے قتل کر دیئے گئے۔ اسی طرح 8 جون کو مسلمانوں نے اکیاب منشی کی جامع مسجد سے پر امن اتحاج کی کوشش کی گئی تو حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں پر گولی چلائی گئی جس کے نتیجے میں کئی مسلمان شہید ہو گئے اور لاشوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 20 ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ درجنوں مساجد ، مدارس زمین بوس کر دی گئی۔ سینکڑوں نذر آتش کی گئیں اور ہزاروں نوجوانوں کو اغواءکر لیا گیا جن کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں، ایک اندازے کے مطابق تقریباً 10 ہزار نوجوان ابھی تک لاپتہ ہیں، مسلمان بچوں اور عورتوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا ، عورتوں کو منگڈو شفدار پاڑہ کے نواحی علاقے گورنمنٹ ہائی سکول میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کے بعد تشددکا نشانہ بنایا گیا ۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار عورتوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مسلم معصوم اولاد کو لے کر خواتین کشتیوں کے ذریعے بنگلہ دیش میں پناہ لینے آئیں تو انہیں جائے پناہ دینے کی بجائے واپس کر دیا گیا ۔ کچھ کشتیاں غرب آب ہوئیں اور کچھ کشتیوں کی اب تک خبر نہیں ۔ روہنگیا سالیڈیریٹی آرگنائزیشن پاکستان پنجاب کے صدر میاں عبدالرحمن عثمانی نے بتایا کہ برما (میانمر) میں چودہ صوبے ہیں اس میں صوبہ اراکان بنگلہ دیش کے بارڈر سے ملا ہوا ہے اس صوبہ میں تقریباً 40 سے 50 لاکھ افراد ہیں جس میں 30 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان رہتے ہیں۔ پورے برما میں 10 فیصد مسلمان ہیں اور صوبہ اراکان 20 ہزار مربع میل پر مشتمل ہے۔ صوبہ مقبوضہ اراکان میں مسلم حکمران ساڑھے تین سو سال تک حکومت کرتے رہے۔ حکومت برما سازش کے تحت مسلمانوں کو اراکان میں اقلیت بنانا چاہتی ہے اور پچھلے دنوں حکومت برما کے صدر نے اقوام متحدہ کو ایک بیان میں کہا کہ برما میں مسلمان نام کے کوئی شہری نہیں وہ ہمارے باشندے نہیں ہیں۔میری اپیل ہے کہ جدہ میں 27 رمضان المبارک کے موقع پر او آئی سی کانفرنس ہے جس میں اس مسئلے کو ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس لگنے سے بچایا جائے۔ میں یہاں یہ بھی کہوں گا کہ اگر اراکان کے مسلمانوں کو آزادی نہ دی گئی تو رد عمل کے طور پر حالات کی خرابی کی ذمہ داری براہ راست اقوام متحدہ پر ہوگی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اراکان کے مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کی ایک اہم وجہ چین کی سرحد کا ساتھ ہونا اور گزشتہ روز 24 معدنی ذخائر کا دریات ہونا ہے جن میں قدرتی گیس، پٹرول اور ڈیزل شامل ہے۔ برما کی حکومت نے ایک معاہدے کے تحت بھارت کو بھی گیس فراہم کر رکھی ہے۔ لہٰذا اس مسئلے کی بنیادی وجہ امریکہ ہے جو چاہتا کہ اس خطے میں امن قائم نہ ہو کیونکہ چین کو بھی وہ تنہا کرنا چاہتا ہے۔ دونوں نمائندوں نے پاکستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ اراکان کے مظلوم مسلمان فاتح دیبل محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی، ٹیپو سلمان ، طارق بن زیاد جیسے سپوتوں کے منتظر ہیں۔ اگر مخیر حضرات اراکان کے مسلمان بہن بھائیوں کی مدد کرنا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔ بنام برمن مسلم ویلفیئر آرگنائزیشن اکاﺅنٹ نمبر 06227900720601 حبیب بینک لمیٹڈ ابراہیم حیدری برانچ کراچی میں جمع کروا سکتے ہیں۔ رابطہ نمبر 0315-8056445 ، 0324-7441447 ، 0300-7441447 ۔

مزید : صفحہ آخر