65سال گزر نے کے باوجود قومی ترانے کی تضیک ،کیخلاف قانون سازی نہ ہوسکی

65سال گزر نے کے باوجود قومی ترانے کی تضیک ،کیخلاف قانون سازی نہ ہوسکی

لاہور (شہباز اکمل جندران)65برس گزر گئے ،پاکستان میں قومی ترانے کی تضحیک کے خلاف قانون سازی نہ ہوسکی، قیام پاکستان کے بعد 6برسوں کی شدید محنت اور عرق ریزی کے بعد بنائے جانے والے قومی ترانے کو آج سینما گھروں ، تھیٹروں اور گلی کوچوں میں تضحیک کا سامنا ہے، ایک طرف نئی نسل ملک کے نیشنل سانگ سے بے بہرہ ہے تو دوسری طرف ذمہ داروں کے کانوں تک جوں بھی نہیں رینگتی،معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے قیام کو 65بر س گزر چکے ہیں ، لیکن ملک میں قومی ترانے کی تضحیک کرنے والوں کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکی ، آج قومی ترانہ صرف سرکاری سکولوں کے اسمبلی سیشنوں تک محدود ہوکر رہ گیاہے، 13اگست 1954ءکو پہلی بار گایا جانے والا پاکستان کا قومی ترانہ 16اگست 1954ءکو ملک کا باقاعدہ قومی ترانہ قرار پایا ،اور اخبارات و دیگر میڈیا کے ساتھ ساتھ ریڈیو پر بھی اس کا چرچا کیا گیا، اسی روز ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ، جس کے تحت لازمی قرا ر دیا گیا کہ عوام الناس کے اندر قومی ترانہ کے متعلق آگاہی پیداکرنے کے لیے ملک کے ہر سینما گھر اور تھیٹر میں فلم یا ڈرامہ شروع ہونے سے پہلے قومی ترانہ بجایا جائیگا، اور اس کے سننے والوں پر لازم ہوگا کہ وہ خاموش اور باادب کھڑے ہوں، سینما گھروں اور تھیٹروں کو اس لیئے چنا گیا کہ4 195ءمیں اخبارات یا ریڈیواور ٹیلی ویژن کے علاوہ سینما گھر اور تھیٹر عوام الناس کے اندر باآسانی رسائی رکھنے والا میڈیا تھا، اور جو لوگ ریڈیو نہیں رکھتے یا خبریں نہیں سنتے یا اخبارات نہیں پڑھ پاتے ، وہ جب بھی فلم یا تھیٹر دیکھنے جائیں تو انہیں معلوم ہوسکے کہ ملک کا قومی ترانہ کونسا ہے اور اس کا پروٹوکو ل یا آداب کیا ہیں،یہ پریکٹس اس لیے بھی ضروری سمجھی گئی کہ ریڈیو اور اخبارات چند دنوں کے بعد اس موضوع کو بھول سکتے ہیں لیکن سینما گھر اور تھیٹروں میں ہر شو کے بعد بجائے جانے والے اس قومی ترانے سے عوام کو بخوبی آگاہی ملتی رہیگی، 1954ءسے جاری یہ سلسلہ آج بھی چل رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے آج سینما گھر وں اور تھیٹروں کی انتظامیہ قومی ترانے کو بوجھ اور رکاوٹ سمجھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک کے اکثر سینما گھر اور تھیٹر فلم یا ڈرامے کے آغاز سے قبل قومی ترانہ چلانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے ، اور جو قومی ترانہ چلاتے ہیں ، وہ بھی شروع کی ایک یا دو سطروں یا پہلے پیرے کے بعد ترانہ ختم کرکے قومی ترانے کی توہین اور تضحیک کا باعث بنتے ہیں ،لیکن کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہے، اور نوبت اس حد تک آن پہنچی ہے کہ گلی کوچوں میں قومی ترانے کی تضحیک کی جاتی ہے،لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی،ملک کے سینما گھروں اور تھیٹروں میں قومی ترانے کی توہین و تضحیک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد کے چیئرمین توقیر ناصر سے رابط کیا گیا تو وہ اس بات سے ہی لاعلم نکلے کہ سینما گھروں میں قومی ترانہ بجایا جاتا ہے یا نہیں، نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد کے ڈائریکٹر میڈیا وقار حنیف کا کہناتھا کہ وہ نہیں جانتے کہ ان دنوں سینماگھروں اور تھیٹروں میں پروگرام یا فلم کے آغاز سے قبل قومی ترانہ بجایا جاتا ہے یا نہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ سینماگھروں اور تھیٹروں سے قومی ترانہ بجانے پر پابندی عائد کردی جانی چاہیے ، کیونکہ یہ دونوں ہی جگہیں ایسی نہیں کہ یہاں قومی ترانہ بجایا جائے، اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے لاہور آرٹس کونسل کے چیئرمین نامور دانشورعطاالحق قاسمی کا کہناتھا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ آج ہم قومی ترانے کا احترام نہیں کرتے ، ان کا کہناتھا کہ ارباب اختیار اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ قومی ترانے کی تضحیک کرنے والے سینماگھروں اور تھیٹروں کی انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائی کرے،ان کا کہناتھا کہ اس ضمن میں قانون سازی ہونی چاہیے، اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر لاہور نوالامین مینگل کا کہناتھا کہ رمضان کے بعد وہ شہر کی سینما گھروں اور تھیٹروں کی بحالی کا پروگرام شروع کررہے ہیں ، اور اسی پروگرام میں وہ شہر کے تمام سینما گھروں کو پابندبنائیں گے کہ وہ قومی ترانہ پورا چلائیں اور اس کے وقار اور احترام کا پورا خیال رکھیں،اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے محکمہ داخلہ پنجاب کے سیکشن افسر پولیس ون محمد فیصل کا کہناتھا کہ ان کا شعبہ سینما گھروں اور تھیٹروں کو ڈیل کرتا ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ یہاں قومی ترانے کی تضحیک کی جاتی ہے اور قومی ترانے کی تضحیک کی سزا کیا ہے ان کا کہناتھا کہ بادی النظر میں یہ قانونی نہیں بلکہ اخلاقی معاملہ لگتا ہے، لیکن وہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرینگے کہ سینماگھر اور تھیٹر آئیندہ پورا قومی ترانہ چلائیں اور جو سینما گھر یا تھیٹر قومی ترانہ نہیں چلاتے ان کے خلاف کاروائی کی جائے،اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے محکمہ قانون پنجاب کے ڈائریکٹر قانون محسن عباس کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ اخلاقی معاملہ ہے ، ہمیں اخلاقی طورپر قومی ترانے کا احترام کرنا چاہیے اور جو ایسا نہیں کرتے ان کے خلاف قانون کسی قسم کی سزا تجویز نہیں کرتا ، لیکن سزا ہونی چاہیے،اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان نیشنل کونسل آفس آرٹس کے سابق ڈائریکٹر پرفارمنگ آرٹس عارف جعفری کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سینما گھروں اورتھیٹروں جیسی غیر اہم جگہوں پر قومی ترانہ گایا جاتا ہے جو کہ غلط ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے قومی ترانے کا ایک وقار اور احترام ہے او ر اس کی توہین و تضحیک پر سزا ہونی چاہیے۔

مزید : صفحہ اول