بھارت کی پیش کش سے باہمی تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوگا

بھارت کی پیش کش سے باہمی تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوگا

کراچی (اکنامک رپورٹر)وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت پاکستان اور انڈوپاک چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کوسرمایہ کاری کی اجازت فراہم کیے جانے کے اعلان کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کے موجودہ اقدام سے پاک بھارت تجار تی اورسفارتی تعلقات میں نئے باب کااضافہ ہوگا یہ بات ایف پی سی سی آئی کے صدر فضل قادرشیرانی، سارک چیمبر آف کامرس کے سابق صدر طارق سعید اور انڈوپاک چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم منیر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہی ۔ صدرایف پی سی سی آئی فضل قادرشیرانی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی اشیاءپر عائد نان ٹیرف بیرئیرز کو بھی ختم کیا جائے تاکہ پاکستانی مصنوعات کی بھارتی منڈیوں تک رسائی کو ممکن بنایا جاسکے ۔انہوں نے گزشتہ چند سالوںسے پاکستان اوربھارت کے مابین سفارتی تعلقات میں بہتری کے باعث تجارتی لین دین پر بھی مثبت اثرات نمودارہورہے ہیں اور دونوں ممالک کی عوام کو بھی قریب آنے کو موقع میسرآرہا ہے ۔سار ک چیمبر آف کامرس کے سابق صدر طارق سعید نے کہا کہ جنوبی ایشیاءمیں بھی تجارتی لین دین کو فروغ دینے کے لیے یورپی ممالک کے طرز کی پالیسی کا اپنایا جائے اور سارک ممالک کے مابین مشترکہ کرنسی متعارف کرائی جائے ۔انڈوپاک چیمبر کے صدر ایس ایم منیر نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی سرمایہ کاورں کو بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کے لیے فیصلہ خوش آئند عمل ہے۔ لیکن بھارتی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی اجازت فراہم کی جائے تاکہ بھارتی سرمایہ کار پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کو ممکن بناسکے اور پاک بھارت تجارتی لین دین میں دوطرفہ تجارتی اورسرمایہ کاری تعلقات کو فروغ دیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاک بھارت تجارتی لین دین میں جاری تجارت بھارت کے حق میں ہے ۔انہوںنے کہا کہ بھارتی ویزے کی فراہمی کو آسان بنا تے ہوئے تاجروصنعتکاربرادری کو ایک سالہ ملٹی پل ویزے کو یقینی بنایاجائے تاکہ دوطرفہ تجارتی وفود کے تبادلے سے تجارتی لین دین میں حائل رکاوٹوں کو بھی دورکیا جاسکے

مزید : کامرس