حکومتی اراکین بھی عدالتی فیصلے کے ساتھ۔۔۔

حکومتی اراکین بھی عدالتی فیصلے کے ساتھ۔۔۔
حکومتی اراکین بھی عدالتی فیصلے کے ساتھ۔۔۔

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)توہین عدالت قانون کو کالعدم قرار دیئے جانے کے فیصلے پر پیپلز پارٹی کے وزراءنے کھل کر تنقید کی ہے جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ عجلت میں قانون سازی کر کے پارلیمینٹ کی تضحیک کی گئی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے پرویز خان نے کہا کہ توہین عدالت کا قانون عجلت میں بنایا گیا جبکہ ایم کیو ایم کے طاہر مشہدی نے کہا کہ رابطہ کمیٹی نے پہلے ہی کہا تھا کہ عدالت قانون کو کالعدم قرار دیدے گی۔ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ حکومت نے عجلت میں قانون سازی کر کے پارلیمینٹ کی تضحیک کرائی۔جمعیت علماءاسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری کہتے ہیں کہ ان کی جماعت اس قانون سازی کا حصہ نہیں بنی، قانون بنانے ہیں تو اسلامی نظریات کونسل کی سفارشات کی روشنی میں بنائے جائیں۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے وزراءنے اس فیصلے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ سپریم کورٹ ایگزیکٹو اور پارلیمینٹ کے کام میں مداخلت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے نذر گوندل نے کہا کہ توہین عدالت قانون کے خلاف یہ فیصلہ ضدبازی میں کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ہی سردار سلیم حیدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پارلیمینٹ کے بنائے گئے قانون کو ختم کر دیا جس کا مطلب ہے کہ پارلیمینٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ دریں اثناءسیاسی مبصرین نے اس فیصلے کو خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو قوانین ذاتی مفادات کیلئے بنائے جاتے ہیں ان کا حشر کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

مزید : اسلام آباد