ایوان صدر میں اہم اجلاس، حکومت کا عدلیہ سے ”ٹکراﺅ“ کا فیصلہ، نیا قانون لانے اور بالادستی برقرار رکھنے پر اتفاق

ایوان صدر میں اہم اجلاس، حکومت کا عدلیہ سے ”ٹکراﺅ“ کا فیصلہ، نیا قانون لانے ...
ایوان صدر میں اہم اجلاس، حکومت کا عدلیہ سے ”ٹکراﺅ“ کا فیصلہ، نیا قانون لانے اور بالادستی برقرار رکھنے پر اتفاق

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) توہین عدالت کا قانون سپریم کورٹ سے کالعد مقرار دیئے جانے کے بعد حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں نے نیا قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ فیصلہ ایوان صدر میں حکومتی اتحادیوں کے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت صدر مملکت آصف علی زرداری نے کی۔ دنیا نیوز کے مطابق نئے قانون کے مسودے کی ڈرافٹنگ شروع کر دی گئی ہے جو آٹھ اگست سے پہلے پارلیمینٹ سے منظور کرایا جائے گا۔ اس قانون میں بھی وزیراعظم کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔سپریم کورٹ سے توہین عدالت ایکٹ 2012 کالعدم قرار دینے کے بعد حکومت کی اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم پرویز اشرف راجہ، مسلم لیگ ق، اے این پی، متحدہ قومی موومنٹ اور فاٹا کے اتحادی اراکین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں عدالتی فیصلے کے بعد پیش آنے والی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ اس اجلاس میں حکومت نے مجوزہ قانون پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پارلیمینٹ کے قانون سازی کے اختیار کو بالادست رکھا جائے گا اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس ضمن میں جو بھی قیمت چکانا پڑی چکائی جائے گی کیونکہ آئین کے تحت قانون سازی کا اختیار صرف منتخب نمائندوں کو ہے۔ صدارتی ترجمان کے مطابق اس وقت زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے اور موجودہ چیلنجوں کے ساتھ متحد ہو کر اور پوری قوت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور کراچی میں بھتہ خوری روکنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیںگے۔ اجلاس میں وزیراعظم نے توانائی کی موجودہ صورتحال بریفنگ بھی دی اور کہا کہ بجلی بحران پر جلد قابو پا لیا جائے گا اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائے گی جبکہ سولر پینل کی درآمد پر زیرو فیصد ڈیوٹی کو یقینی بنائیںگے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں