ڈرون حملے ‘پاکستان میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد میں تقریبا نصف عام شہریوں کی ہے

ڈرون حملے ‘پاکستان میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد میں تقریبا نصف عام ...

 لندن (بیورورپورٹ)پاکستان میں کیے جانیوالے امریکی ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونیوالے افراد کی مجموعی تعداد میں تقریبا نصف عام شہریوں کی ہے یہ انکشاف برطانیہ کے ایک ادارے بیورو آف انوسٹی گیٹو جرنلزم نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں کیا ہے تحقیق کے دوران اب تک ڈرون حملوں میں ہلاک ہونیوالے 7سو کے قریب افرد کے نام اکٹھے کیے گئے جن میں سے تقریبا آدھی تعداد کی شناخت بطور عام شہری کے طور پر سامنے آئی ان حملوں میں مارے جانیوالوں میں سو کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔

 بیورو آف انوسٹی گیٹو جرنلزم نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا منصوبہ گذشتہ برس شروع کیا تھا لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ اب تک مرنے والوں کی مجموعی تعداد2ہزار 342افراد میں سے انتہائی کم یعنی صرف تین میں سے ایک شخص کی شناخت میں کامیاب ہو سکا ہے امریکی حکام کا موقف ہے کہ ڈرون حملوں میں صرف شدت پسند ہی نشانہ بنائے جاتے ہیںدوسری جانب حکومت پاکستان نے آج تک ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی درست تعداد یا ان میں سے عام شہریوں کی تعداد جیسی درست معلومات عوام کے سامنے نہیں رکھیں پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں وزارت دفاع کی جانب سے انتہائی کم تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت کے معاملے پر شدید تنقید کے بعد یہ اعداد و شمار واپس لے لیے تھے اور کہا کہ ان علاقوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے درست معلومات نہیں مل سکتیں برطانوی تحقیقاتی ادارے نے شناخت کے دوران 95 افراد کو ان کی حیثیت کا تعین نہ ہوسکنے کی وجہ سے نامعلوم' کے درجے میں رکھا ہے ادارہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے نام اور ان کی دیگر معلومات اکٹھی کرتا ہے تاہم وہ بھی اعتراف کرتا ہے کہ اس علاقے میں رسائی نہ ہونے کی وجہ سے تفصیلات اکٹھی کرنے میں اسے دشواری کا سامنا ہے گذشتہ برس ستمبر میں 'نیمنگ دی ڈیڈ' منصوبے کے آغاز کے بعد سے اب تک 370 ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے 568 افراد کے نام حاصل کیے جا سکے ہیں یہ حملے گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہوئے یہ نام اس نے عینی شاہدین، حکومتی دستاویزات اور بیورو کے تحقیقات کاروں کے ذریعے حاصل کیے ہیں اس سال دس جولائی کو ایک حملے میں ہلاک ہونے والے تین افراد کی شناخت خود القاعدہ کے سینئر رہنما نے ٹوئٹر پر کی ہلاک ہونے والے بچوں سے متعلق تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے مجموعی طور پر 168 بچوں میں سے وہ 99 کی شناخت نام سے کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ان میں سے اکثریت یعنی 67 باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کے مقام پر 2006 میں ایک مدرسے پر حملے میں ہلاک ہوئے تھے عورتوں میں محض دو کی شناخت ہو سکی ہے ان میں سے ایک 60 سال سے زائد عمر کی دادی بی بی مامنہ تھیں وہ اپنے مکان کے قریب کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ہلاک ہوئیںدوسری عورت سپین سے تعلق رکھنے والی ریچل برگس گارشیا القاعدہ کے رکن العزیزی کی اہلیہ تھیںبیورو کے مطابق اب تک کم از کم 55 عورتیں ہلاک ہوئی ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...