اسرائیل کی حمایت پر بی بی سی کیخلاف لاکھوں لوگوں کا لندن میں احتجاج

اسرائیل کی حمایت پر بی بی سی کیخلاف لاکھوں لوگوں کا لندن میں احتجاج

                                               لندن(بیورورپورٹ)اسرائیل کی غزہ جارحیت پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی گہر ی حمایت کے خلاف لندن میں لاکھوں لوگوں نے احتجاج کیا، میڈیارپورٹس کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے بی بی سی لندن میں قائم مرکزی دفاتر کے باہر احتجاج کیا۔ ایسے ہی احتجاج گلاسگو اور برسٹل میں کیے گئے۔فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا رجحان رکھنے والے شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ بی بی سی کی غزہ پر رپورٹس توازن سے عاری ہیںاور سیاق و سباق کے بغیر ہیں۔اس رجحان کے حامل گروپ سے قربت رکھنے والے 14000 افراد نے آن لائن ایک پٹیشن بھی دائر کی ہے جس کا بنیادی نکتہ براڈ کاسٹرز سے اس اپیل پر مبنی ہے کہ غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کے حوالے سے اپنی کوریج کو بہتر کریں۔بی بی سی نے شام چھ بجے کے اپنے نیوز بلیٹن میں اسرائیل پر الزام عائد کرنے سے خود کو روکے رکھا، اس واقعے میں کم از کم 15 فلسطینیوں کی شہادت ہوئی تھی۔ جبالیہ میں بی بی سی کے نمائندہ نے بہت آہستگی سے کہا اب ایک نئی بحث شروع ہو سکتی ہے جس میں بحث ہو گی کہ اس واقعے کا ذمہ دار کون ہے۔بعد ازاں شام سات بجے چینل فور کے بلیٹن میں کھلے انداز میں کہا گیا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام لڑکیوں کے سکول پر حملہ کیا ہے، جس کے بعد امکان ہے کہ اس پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلا یا جا سکے گا،بی بی سی نے ایک قدم اور اٹھایا اور اسرائیلی فوج کے ترجمان کرنل پیٹر لرنر کا انٹرویو کیا، اس سے پہلے 15 سیکنڈ کے لیے سکول پر حملے پر مبنی رپورٹ پیش کی تاہم اہم ترین حیثیت اسرائیلی فوجی ترجمان کے انٹرویو کو ہی دی۔

مزید : عالمی منظر