شامی جیلوں میں ڈھائے جانے والے مظالم طشت ازبام

شامی جیلوں میں ڈھائے جانے والے مظالم طشت ازبام

دمشق(این این آئی)شامی صدربشارالاسد کی فوج سے فرارہونے والے ایک اہلکارنے امریکی پارلیمینٹرینز کو شام کے وحشیانہ تنازع کی متعدد تصاویر دکھائیں جنہیں اس نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا تھا،گذشتہ برس شام سے فرار سے ہونے والے ملٹری پولیس کے فوٹو گرافرقیصرنے بتایا کہ میں سیاستدان نہیں اور نہ ہی مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی ہے، نہ ہی میں قانون دان ہوں۔ وہ اپنے ساتھ 55000مردگان کی تصاویر کا ایک کیٹلاگ بھی لائے تھے، یہ تصاویر انہوں نے اپنی منصبی ذمہ داری کے طور پر کیمرے میں محفوظ کیں۔قیصر نے کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے ناقابل شناخت بہروپ میں پیشی کے وقت بتایا کہ انقلاب سے پہلے اور بعد میں تمام ملہوکین کی تصویر بنانا میری ڈیوٹی تھی۔ انہیں مہلوکین کی بنائی گئی تصویریں اتار کر سرکاری کمپیوٹرز میں محفوظ کرنا ہوتی تھیں۔

 تاکہ شامی صدر بشار الاسد کے خلاف چار برس قبل شروع ہونے والی بغاوت کا دستاویزی ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔ قیصر نے اجلاس میں موجود تقریبا ایک سو افراد کو پن ڈراپ خاموشی میں آگاہ کیا کہ میں نے انتہائی تشدد زدہ نعشوں کی تصویریں دیکھی ہیں اجلاس کے دوران کمرے کی دیواروں پر بڑی سکرین پر برہنہ انسانی ڈھانچوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔متعدد تصاویر میں نظر آنے والے ملہوکین کی شناخت خفیہ رکھنے کے لئے ان کے چہرے ڈھانپے گئے تھے جبکہ کئی نعشوں کی کلائیوں پر سفید لیبل باندھے ہوئے تھے۔ بعض مردگان صرف انڈر ویئر میں تھے جبکہ اکثر تصاویر مکمل عریاں ملہوکین کی تھیں۔ شناخت سے بچنے کے لئے گہرے نیلے رنگ کا چشمہ پہنے قیصر نے بتایا کہ بعض اوقات مجھے اپنے کسی ہمسائے اور دوست کی ایسی تصویریں بنانا پڑ جاتیں۔

مزید : عالمی منظر