عراقی کردستان میں ایرانی فورسز کے دستے کی آمد

عراقی کردستان میں ایرانی فورسز کے دستے کی آمد

 بغداد(این این آئی)عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے شہر سلیمانیہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرایرانی فوج کا جدید ہتھیاروں سے مسلح دستہ اترا ہے اور یہ عراق کے شمالی شہر کرکوک میں اہل تشیع کے نزدیک مقدس مزارات کے تحفظ کے لیے بھیجا گیا ہے۔عراقی کرد سکیورٹی فورسز کے ایک اعلی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایرانی دستہ ایلیٹ فورس کے دوسو اہلکاروں پر مشتمل تھا اور اس کو پیٹریاٹ یونین آف کردستان (پی یو کے)کے ذریعے کرکوک تک رسائی دی گئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ایران کی ایلیٹ فورس کو اس دستے کو گوریلا جنگ کی تربیت دی گئی ہے اور جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح یہ دستہ القاعدہ سے متاثر گروپ دولت اسلامی عراق وشام(داعش)کے خلاف جنگ میں حصہ لے گا۔

 اس عہدے دار کا کہنا تھا کہ ایران کا فوجی دستہ داعش کی جانب سے کرکوک میں شیعہ اور ترکمن کمیونٹیوں پر عاید محاصرے کا بھی خاتمہ کرے گا۔تاہم پی یو کے کے ایک سینیر رکن عارض عبداللہ نے الشرق الاوسط میں شائع شدہ ان دعووں کی تردید کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے ایرانی فوج کی کوئی مدد نہیں کی ہے۔انھوں نے اخباری رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے اور یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ پی یو کے عراقی حکومت کے امور میں مداخلت نہیں کرتی ہے۔اس عہدے دار نے کہا کہ پی یو کے کے خطے کی تمام جماعتوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار ہیں لیکن ہم بالاصرار یہ بات کہیں گے کہ کسی ملک کو بھی عراقی کردستان یا عراق کے داخلی امور میں اربیل اور بغداد کی حکومتوں کی منظوری کے بغیر مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...