ہماری پہچان: پاکستان

ہماری پہچان: پاکستان
 ہماری پہچان: پاکستان

  



انگریز کی غلامی سے نجات کے لئے 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا ،ہندو سامراج کی مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور نفرتوں کے پیش نظر مسلمان اکابرین نے ایک مملکت کے حصول کے لئے جد و جہد کا آغاز کیا۔ آزاد مملکت کا قیام اس وجہ سے ضروری سمجھا گیا کہ برصغیر میں مسلمانوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک روا رکھا گیا تھااور چونکہ ہندو اکثریت میں تھے، اس بنا پر وہ انگریز کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا بد ترین استحصال کر رہے تھے۔ مسلمان انتہائی پستی کی جانب جا رہے تھے ۔ سرکاری نوکریوں کے دروازے ان پر بند تھے ،وہ تعلیمی میدان میں بھی بہت پیچھے رہ گئے تھے ۔ مسلمان اکابرین نے ان حالات میں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے لئے آزاد مملکت کا نعرہ بلند کیا اور 1940ء میں ’’قرارداد پاکستان‘‘ میں با ضابطہ طور پر مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل الگ وطن کا مطالبہ کیا، جہاں وہ اپنے مذہب ، ثقافت اور رسم و رواج کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ 1947ء میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمان الگ مملکت بنا نے میں کامیاب ہو گئے اور دنیا کی سب بڑی اسلامی مملکت’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘‘کا قیام عمل میں آ گیا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیاستدان مملکت خداداد پاکستان کو ایک اسلامی ،فلاحی اورجمہوری ریاست بنانے میں مخلصانہ کردا ر ادا کرتے ،مگر افسوس کہ حضرت قائد اعظمؒ کی وفات کے بعد اقتدار کی رسہ کشی کا کھیل شروع کر دیا گیا جو ابھی تک جاری ہے۔ ہم نے قیام پاکستان کے اصل مقاصدکو فراموش کر دیا۔ایک الگ اسلامی مملکت کے قیام کا مقصدتھا کہ ہم اپنے مذہب ،ثقافت ،رسوم و رواج ، خصوصاََ اسلامی نظام قانون و شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرتے اور پالیسیاں ترتیب دیتے ،مگرافسوس ایسا نہیں کیاگیا، بلکہ انگریزو ں کے جانے کے بعد حکومت اور اداروں پر کالے انگریزو ں نے قبضہ کرلیا اور فرنگی کے دور کے مطابق ہی پاکستان کے نظام کو چلانے کی کوشش کی گئی ۔

ہماری قومی قیادت نے سیاست ،معیشت ، تعلیمی نظام ، ثقافت ، عدالتی نظام اوردیگر شعبوں میں ایک جانب تو انگریز کی پیروی کرنے کی کوشش کی، جبکہ دوسری جانب اسے اسلامی رنگ دینے کی بھی کی کوشش کی گئی،یوں یہ نظام نہ تو خالصتاََبرطانوی رہا اور نہ ہی پورا سلام کے سانچے میں ڈھل سکا،اسی وجہ سے پوری قوم چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ ہم پاکستانی کے بجائے پہلے سندھی ،بلوچی،پٹھان ،مہاجر ،پنجابی اور سرائیکی میں بٹے ہوئے ہیں اور اپنی اسی شناخت پر فخر محسوس کرتے ہیں ،دوسری جانب ہم مذہبی بنیادوں پر شیعہ ،سنی ،وہابی ،دیوبندی وغیرہ کے طورپر اپنی پہچان چاہتے ہیں ،جبکہ تیسری طرف ہم راجپوت ،جاٹ ،آرائیں ،سید ،گجر ،مغل اورپختون ہونے پر فخر کرتے ہیں۔

جب پاکستان کی تحریک چل رہی تھی تو ہمارا نعرہ تھا۔۔۔’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘۔۔۔ اسی طر ح گلی گلی کوچے کوچے نعرہ گونجتا تھا ۔۔۔‘’’پاکستان کا مطلب کیا ۔لا الہ الاللہ‘‘۔۔۔مگر اب ہماری بطور پاکستانی شناخت روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا خوشحال ،دولت مند طبقہ اور سرکاری افسران قومی زبان اردو بولنا توہین سمجھتے ہیں، جبکہ فخر سے انگریزی بولتے ہیں۔ایسے میں ہم دو قومی نظریے کو کہاں تلاش کریں اور اگر دو قومی نظریہ جو کہ قیام پاکستان کی بنیاد تھا ،وہ کمزور پڑ جاتا ہے تو پھر پاکستان کیسے قائم رہے گا ؟

قومی سوچ اور ہم آہنگی نہ ہو نے کی وجہ سے نوجوان نسل انگریزوں کی پیروی میں برتھ ڈے ،ویلنٹائن ڈے اور ڈنر پارٹیاں ،مخلوط مجالس منعقد کر کے فخر محسوس کرتی ہے ۔ہمار ا ایک مخصوص طبقہ اپنے آپ کو ماڈر ن ثابت کرنے کے لئے یہ تمام خرافات دیدہ دلیری سے کر رہا ہے ۔اسی طرح ہمار ا خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے ۔خاندانوں کے بکھرنے سے اخلاقی قدریں بھی پامال ہوتی جا رہی ہیں ۔اگر ہم نے اخلاقی اقدار کو پامالی ہونے سے نہ بچایا اور یورپی و ہندو کلچر کی یلغار کو نہ روکا اور اپنی شناخت بطور پاکستانی اور مسلمان برقرار نہ رکھی تو شاید ہم اپنی حقیقی منزل سے بہت دور چلے جائیں ۔خاندانی نظام کے ٹوٹنے ،اخلاقی قدروں کی پامالی ،تعلیمی نظام کی تباہی اور اپنے کلچر کو چھوڑ کر انگریز اور ہندووں کا کلچر اپنانے سے ہم اپنی اصل منزل کھو چکے ہیں۔آئیں! ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم نے دنیا بھر میں بطور پاکستانی اور باوقار قوم اپنی شناخت بنانی ہے، کیونکہ دو قومی نظریہ کا اصل مقصد یہی تھاکہ مسلمان ایک آزاد مملکت حاصل کرکے اسلام کے اصولوں کے مطابق اور قرآن و سنت پر مبنی نظام اپنا کر ایک مثالی ،اسلامی ،فلاحی او ر جمہوری ریاست قائم کریں گے ،جہاں بسنے والے ہر شہری کو تمام بنیادی حقوق ،انصاف اور عزت و آبرو کا تحفظ حاصل ہو گا ۔ *

مزید : کالم


loading...