انٹیلی جنس اداروں کی کچی انبیاں!

انٹیلی جنس اداروں کی کچی انبیاں!

جس طرح ہم مسلمانوں اور اہل ِ مغرب کے مابین مختلف علوم و فنون کی وسعت کا بدیہی فرق ہے اسی طرح ملٹری انٹیلی جنس اور کاﺅنٹر انٹیلی جنس کے پروفیشنل طور طریقوں میں بھی فرق ہے۔ یہ فرق اول اول تو بہت زیادہ تھا جسے بڑی حد تک دور کیا جا چکا ہے اور اب صرف ٹیکنالوجی کی کمی بیشی اس کا بیرو میٹر بن چکی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہماری انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی(ISI) کا شمار دنیا کی ان چند ایجنسیوں میں ہوتا ہے جن کا شہرہ مسلّم و منفرد ہے۔ پاکستان کے اس ادارے کا یہ اعزاز آج امریکہ، روس، برطانیہ، اسرائیل اور بھارت کے انٹیلی جنس اداروں میں بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ کاملیت کا یہ مقام ہم نے آہستہ آہستہ اور بتدریج حاصل کیا ہے۔

ان سطور کو قارئین تک پہنچانے کی ایک وجہ یہ ہوئی کہ اگلے روز مَیں نے سوشل میڈیا کی براوزنگ (Browsing) کے دوران ایک ایسی ایپلی کیشن (APP) بھی دیکھی جوRT کے نام سے تھی۔ یہ ایپلی کیشن ”رشین ٹیلی ویژن“ کا مخفف ہے۔ ساتھ ہی ایک اورAPP بھی تھی جو ”رشیا ٹو ڈے“ کے نام سے موجود ہے۔ ان دونوںAPPs کی براوزنگ کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ روسیوں کو بڑی مدت کے بعد یہ سمجھ آئی ہے کہ جدید جنگ و جدال میں پراپیگنڈا کی اہمیت کیا ہے اور میڈیا کا کردار کتنا اہم ہے۔.... یہ چونکہ ایک الگ اور بسیط موضوع ہے اس لئے اس پر الگ کالم تحریر کرنے کا ارادہ ہے۔

فی الحال تو مَیں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سوویت یونین نے اگرچہ رشین فیڈریشن بن کر (اور سکڑ کر) یہ مقام پایا لیکن ساری دنیا میں اس کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور سوویت دور کی انتظامیہ اور پوٹن دور کی انتظامیہ کے مابین اُس خلا کو کتنی جلد پورا کیا گیا جو روس اور اہل ِ مغرب کے درمیان کئی عشروں سے موجود تھا۔

ایک طویل عرصے تک مارشل سٹالن نے اپنے ملک اور دنیا کے دوسرے ممالک کے درمیان ایک آہنی پردہ تانے رکھا۔ سٹالن اور اس کے بعد آنے والے روسی حکمرانوں نے گوربا چوف کے دور تک اس پردے کو باقی رکھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ گورباچوف نے گلاس ناسٹ کا آغاز کر کے اس پردے کو گرا دیا اور روس کو باقی دنیا کے سامنے کھول دیا۔.... یہ سٹڈی اور یہ موضوع بھی لمبا چوڑا ہے۔ گوربا چوف کے بعد رشین فیڈریشن پر جو لوگ قابض ہوئے وہ صدر پوٹن کے آتے آتے آخر کار آزاد میڈیا کی اہمیت اور اس کے اثرات کے از بس قائل ہو گئے۔.... رشین ٹیلی ویژن اور رشیا ٹو ڈے جیسیAPPs اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ سوویت روس نے سیکیورٹی اور راز داری کے جو معانی پہلے سمجھ رکھے تھے، ان کو اب خیرباد کہہ دیا گیا ہے اور آزاد میڈیا کی تاثیر کا اعتراف کر کے مغربی حریفوں کو انہی کے سکوں میں جواب دینے کی ٹھان لی ہے۔

سطور بالا میںISI کی جس پیشہ ورانہ کاملیت کا ذکر کیا جا رہا تھا وہ بتدریج پھیلتی، پھولتی اور بڑھتی چلی گئی۔ اس ادارے کو دنیا کی نگاہوں میں محترم بنانے میں بھارت کا بھی ایک کردار رہا۔ اس نے وہ ساری ”کار گزاریاں“ISI کے کھاتے میں ڈال دیں جو اس کی اپنی کمزوریوں، نااہلیوں اور ناقص حکمت عملیوں کا شاخسانہ تھیں۔ بھارت کے انٹیلی جنس ادارے ”را“ (RAW) نے پاکستان کے اس محترم ادارے کو بدنام کرنے کے لئے اپنے بہت سے ایجنٹ پاکستان میں بھی دریافت کر لئے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہر جاسوسی ادارہ یہی کرتا ہے کہ وہ دوست دشمن ممالک میں اپنے کئی ایجنٹ اور کئی رابطے(Contacts) قائم کرتا ہے جن میں کچھ خوابیدہ ہوتے ہیں اور کچھ بیدار .... خوابیدہ (Dormant) رابطوں کو بیدار کرنے کی ضرورت کسی بھی وقت پڑ سکتی ہے۔ آج کا دوست کل کا دشمن ہو سکتا ہے اس لئے جاسوسی ادارے کی پلاننگ کا شعبہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہوتا۔

حال ہی میں پوری قوم نے دیکھا کہ انڈیا نے پاکستانی میڈیا کو اپنے اغراض و مقاصد کے لئے کس طرح استعمال کیا۔ وہ تو اگر ”جیو نیوز“ کے بعض پروڈیوسروں کو انٹیلی جنس اور کاونٹر انٹیلی جنس اور نیز پراپیگنڈا اور کاونٹر پراپیگنڈا کے موضوعات کی کچھ بریفنگ دی گئی ہوتی تو اس کے ایک اینکر پر حملے کے بعد جو کچھ دکھایا گیا وہ بالکل مختلف ہوتا۔.... یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ”جیو“ نے اپنے پاﺅں پر خود کلہاڑی ماری۔ اچھا بھلا ”کام“ چل رہا تھا۔ پاکستان ”کھودنے“ کی کاوشوں میں اچھی بھلی ”وسعت“ آ چلی تھی اور پاکستانی ناظرین و سامعین کی ایک بڑی تعداد اس چینل کی ”گرویدہ“ ہو چلی تھی۔.... اگر اُس روز وہ پروڈیوسر جو قاتلانہ حملے کے بعد کی نشریات کو Coverکر رہا تھا، انٹیلی جنس کی رموز و نکات سے کچھ بھی آگاہ ہوتا تو نجانے کب تک اور کہاں تک پاکستان کو بدنامی کے گڑھے میں مزید دھکیلا جاتا۔ مَیں سمجھتا ہوں RAW نے بھی اس گیم، اپنے فرائض ادا کرنے میں ”کوتاہی“سے کام لیا۔

”را“ اور ”آئی ایس آئی“ کا موازنہ کریں تو ISI کی تدریجی نشوونما کا گراف کہیں اونچا نظر آئے گا۔ اس رفعت کو حاصل کرنے اور اس ادارے کو یہاں تک پہنچانے میں ادارے کے اعلیٰ افسروں کی جدوجہد اور کاوش کو ہدیہ تبریک پیش کیا جانا چاہئے۔ کم وسائل ہونے کے باوجود اس ادارے نے یہ مقام حاصل کیا۔....

اوپر مَیں نے سوویت یونین کے ”آہنی پردے“ کا ذکر کیا، سوویت میڈیا پر پابندیوں کا ذکر کیا، انٹیلی جنس اداروں اور میڈیا کے باہمی ملاپ اور اس کے اثرات کا ذکر کیا اور اپنی ایجنسیISI کے تدریجی ارتقا کا ذکر کیا۔.... اس ذکر اذکار سے مجھے ایک ذاتی واقعہ یاد آیا جو مَیں قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پروفیشنل انٹیلی جنس اداروں نے کس تیزی سے ارتقا کی منزلیں طے کیں۔ (کچھ ایسا ہی جوہری ٹیکنالوجی کے باب میں بھی ہوا)

یہ1970ءکے عشرے کی بات ہے۔ ہمیں کپتانی لگائے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ہماری پوسٹنگ ISI ڈائریکٹوریٹ میں ہو گئی۔ فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران جب کبھی مجھے ذہنی تھکاوٹ محسوس ہوتی تو لائبربری کا رُخ کرتا جس میں انٹیلی جنس کے موضوع پر سینکڑوں کتابیں موجود تھیں۔ جی چاہتا کہ سب کو گھول گھال کر پی جاﺅں۔ لیکن ان کا ”گھولنا“ کارے دارد تھا۔ بہرکیف کوشش کرتا رہا۔ ایک روز وہیں کسی انگریزی اخبار میں سوویت سفارت خانے کی طرف سے ایک اشتہار نظر سے گزرا جس میں تین چار رسالوں/ میگزینوں کو مفت ”بانٹنے“ کی نوید دی گئی تھی۔ ان میں ایک کا نام ”سوویت ملٹری ریویو“ تھا، دوسرے کا عنوان ”سوویت سینما“ تھا اور تیسرے کا نام “سوویت گزٹ“ تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ فلاں پوسٹ بکس نمبر کو ایک خط لکھ کر یہ تمام مواد مفت منگوایا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ایک خوشنما اور دیدہ زیب کیلنڈر بھی مفت بھجوانے کی خوشخبری تھی۔ ہم نے وہیں بیٹھے بیٹھے ایک لیٹر لکھا، ٹائپ کروایا اور سپرد ڈاک کر دیا۔

البتہ ایک غلطی جو ”ارادتاً“ کی وہ یہ تھی کہ اپنے گھر کا پتہ نہ لکھا بلکہ دفتر کا ایڈریس دیا۔ ISI کی ساری پرائیویٹ ڈاک ایک پوسٹ بکس کے ذریعے آیا کرتی تھی۔ چنانچہ اگلے ہفتے ہمیں وہ تمام میگزین ملنے شروع ہو گئے اور ساتھ ہی ایک جہازی سائز کا کیلنڈر بھی ملا۔

پھر غالباً تیسرے چوتھے مہینے میرے (GSO-2) نے دفتر میں بلوایا اور فرمایا کہ ڈائریکٹر صاحب تمہیں یاد کر رہے ہیں۔ مَیں ان کے کمرے میں داخل ہوا۔ سیلوٹ کیا اور چپ چاپ کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے میرے سراپا پر بغور نظر ڈالی اور پھر یہ مکالمہ ہمارے درمیان ہوا: (مَیں اس کا ترجمہ کر رہا ہوں)

”کیا تمہارے پاس سوویت لٹریچر بھی آتا ہے؟“

”سر آتا ہے“

” کیا براہِ راست ماسکو سے آتا ہے یا سوویت سفارت خانے کے توسط سے؟“

”سر! براہ راست کریملن سے آتا ہے“

”تمہیں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، ریئر ایڈمرل (نام لکھنا ضروری نہیں) یاد کر رہے ہیں“

مَیں نے سیلوٹ کیا اور دفتر سے باہر آ گیا۔ کئی سوال و جواب ذہن میں گردش کرنے لگے۔ مَیں اسی عالم میں ڈپٹیDG کے دفتر میں داخل ہوا۔ انہوں نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا اور میرے سیلوٹ کا جواب مصافحے سے دیا اور فرمایا کہ ”بیٹھ جاﺅ“۔

اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ برسرِ مطلب آئے اور پوچھا کہ سوویت سفارت خانے کے کون کون سے لوگوں کو جانتے ہو؟.... مَیں نے بتایا کہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ سفارت خانہ ہے کہاں اور اسلام آباد کے کس سیکٹر میں ہے (اس وقت تک ڈپلومیٹک انکلیو کی حدود مختص نہیں ہوئی تھیں)۔ ڈپٹی صاحب بولے ”تمہیں جاننے کی کیا ضرورت ہے وہ خود تمہارا گھر جانتے ہوں گے کہ فلاں سیکٹر میں ہے“۔

اس کے بعد پون گھنٹے تک ملاقات رہی۔ مَیں نے ان کو تفصیل سے بتایا کہ ”مَیں ملٹری ہسٹری کا ایک ادنیٰ سا طالب علم بھی ہوں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی فتح میں سوویت افوا ج کا رول سب سے زیادہ وقیع اور اہم تھا لیکن اس کی تفصیل کسی کتاب میں نہیں ملتی۔ مَیں نے یہ میگزین اس لئے منگوائے کہ سوویت وار ڈاکٹرین، سوویت ٹیکٹکس، سوویت ملٹری ہسٹری، سوویت ہتھیاروں کے ارتقائی ادوار اور سوویت عسکری پس منظر سے کچھ آگاہی پا سکوں“۔

وہ تادیر میری ”تقریر“ سنتے رہے اور پوچھا کہ تین ماہ کے مطالعے کے بعد میرا نقطہ ¿ نظر کیا رہا۔ مَیں نے انہیں عرض کیا: ” اس جنگ کے آپریشنوں کی جو تفصیلات مغربی ممالک کے انگریزی عسکری ادب میں پائی جاتی ہیں، وہ سوویت عسکری ادب میں تقریباً مفقود ہیں۔ روسی مضامین کا اسلوبِ نگارش اور اصطلاحات بھاری بھر کم ہیں اور دیر سے سمجھ میں آتی ہیں۔ISI کی لائبریری میں سوویت ملٹری فلاسفی اور ملٹری ڈاکٹرین پر کوئی کتاب نہیں، سوویت افواج نے آپریشن بار بروسہ میں اتحادیوں کے جو چھکے چھڑائے ان کی تفاصیل نہایت سطحی سی ہیں۔ مارشل زوکوف، کونیف، تخا چووسکی، ویزل وسکی اور روکو سوسکی وغیرہ پر بھی کوئی تصنیف انگریزی زبان میں میسر نہیں۔ مَیں چاہتا تھا کہ یہ جان سکوں کہ روسیوں نے جو اس جنگ میں سب سے زیادہ جانیں دے کر اپنے ملک کو بچایا تو ان کی وار سٹرٹیجی کیا تھی“۔

ڈپٹی صاحب بڑے انہماک سے میری باتیں سنتے رہے۔ پھر میرے ڈائریکٹر کو انٹر کام پر کہا: ”اس کیپٹن کا خیال رکھا کرو۔ یہ سوویت ایجنٹ نہیں بن سکتا۔ خواہ مخواہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اور سیکیورٹی آفیسر کو بتاﺅ کہ اس کی ڈاک سنسر نہ کیا کرے۔“

قارئین کو مَیں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب مَیں اپنے ڈائریکٹر کے دفتر میں آیا تو چائے کی پیالی پر گفتگو کے دوران مَیں نے یہ شکوہ بھی ان سے کیا کہ:” ہمارے سیکیورٹی آفسر نے میرے خلاف رپورٹ کرنے میں عجلت سے کام لیا۔ بہتر ہوتا اگر وہ اس کیس کی تفاصیل میں اترتے، میرے اور سوویت سفارت خانے کے درمیان رابطوں کی تفاصیل اور تصاویر حاصل کرتے، میرے مالی مفادات کا سراغ لگاتے اور عین اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کرواتے جب مَیں کوئی ریاست مخالف اقدام کر رہا ہوتا۔.... نجانے ہمارے یہ سیکیورٹی آفیسر ”کچیاں انبیاں“ توڑنے کے عادی کیوں ہیں؟“

وہ تادیر اس پنجابی روز مرہ پر ہنستے رہے....

لیکن قارئین کرام اب ہمارے اس ادارے نے ”کچی انبی“ کو پک جانے کے بعد ”توڑنے“ میں جو کاملیت حاصل کی ہے، وہ قابل ِ صد تحسین ہے! ٭

مزید : کالم