ہسپتالوں میں او پی ڈی بند کرنیکا فیصلہ

ہسپتالوں میں او پی ڈی بند کرنیکا فیصلہ

                                 لاہور(کامران مغل)چھوٹے اور معمولی نوعیت کے امراض میں مبتلا شہریوں کے لئے لاہور کے بڑے سرکاری اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں او پی ڈی بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اس سلسلے میں محکمہ صحت پنجاب نے پی سی ون تیار کرلیا ہے جس پر اگست کے اختتام تک عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔ذرائع کے مطابق محکمہ صحت نے یہ فیصلہ جنا ح ہسپتال انتظامیہ کی تجاویز کی روشنی میں کیا ہے جس کا مقصد بڑے اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں مریضوں کا رش کم کرنا ہے ۔پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اس کا اطلاق جناح ہسپتال پر ہوگا جس کے بعد اسے لاہور کے دیگر ٹیچنگ ہسپتالوں کے علاوہ ملتان ،فیصل آباد اور راولپنڈی کے ٹیچنگ ہسپتالوں تک بڑھا دیا جائے گا۔ اس پراجیکٹ کو ریفرل سسٹم کا نام دیا گیا ہے پہلے مرحلے پر لاہور کے 9ٹاﺅنوں میں موجودڈسپنسریوں میں اس پراجیکٹ کے تحت ڈاکٹرز تعینات کئے جائیں گے جو مریضوں کی صورتحال دیکھ کر انہیں دیگرہسپتالوں میں ریفر کریں گے اس سلسلے میں طے کیا گیا ہے کہ ایک ڈسپنسری روزانہ 25سے 30مریض دیگرہسپتالوں کو ریفر کرسکیں گی محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بہترسہولتوں کے لئے شہری نزلہ ،زکام،کھانسی ،معمولی بخار، معمولی چوٹ اور اس نوعیت کی دیگر بیماریوں کے لئے بڑے ہسپتالوں کے آﺅٹ ڈور زسے رجوع کرتے ہیں جس کے باعث ان ہسپتالوں میں رش رہتا ہے جبکہ یہ ایسے امراض ہیں جن کے مریض کو داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ،بعض مریض داخل ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور ایک بیڈ پر کئی کئی مریضوں کو لٹانا پڑتا ہے ۔معمولی امراض کے لئے اوپی ڈی بند کردیا جائے گااور ان بڑے ہسپتالوں سے صرف وہی مریض رجوع کرسکیں گے جنہیں متعلقہ ڈسپنسریاں یا ڈی ایچ کیوعلاج کے لئے ریفر کریں گے ۔ذرائع کے مطابق لاہور سے باہر کے مریضوں کے لئے یہ طے کیا جارہا ہے کہ وہ پہلے ڈسپنسری ، پھر بیسک ہیلتھ یونٹ/ رولرہیلتھ سنٹر ،پھر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور پھر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹ¸ر ہسپتال کا روٹ اختیار کرتے ہوئے ٹیچنگ ہسپتالوں تک پہنچیں گے بشرطیکہ ان ہسپتالوں نے انہیں بڑے ہسپتالوں کو ریفر کیا ہو۔

مزید : میٹروپولیٹن 1